کے پی ٹی چیئرمین کیس میں حکم امتناع واپس لینے کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

عدالت نے 27 مارچ کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا اور 15 روز میں جواب جمع کروانے کا کہا تھا —تصویر: فیس بک
عدالت نے 27 مارچ کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا اور 15 روز میں جواب جمع کروانے کا کہا تھا —تصویر: فیس بک

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) جمیل اختر کو برطرف کرنے پر حکم امتناع واپس لینے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کردی۔

وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر پیش ہوئے جنہوں نے عدالت میں دلیل دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کا موقف سنے بغیر حکم امتناع دیا جسے واپس لیا جانا چاہیے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان سے جواب جمع کروانے کا کہا جس پر طارق محمود کھوکھر کا کہنا تھا کہ عدالت نے 27 مارچ کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا اور 15 روز میں جواب جمع کروانے کا کہا تھا چنانچہ حکم امتناع آئندہ سماعت تک کے لیے واپس لیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بندرگاہوں پر کرپشن کی شکایات کے لیے حکومت کا اہم اقدام

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حیرانی کا اظہار کیا کہ حکومت کے پی ٹی چیئرمین کو برطرف کرنے کی خواہاں تھی اور اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیے بغیر ان کی خدمات معطل کردیں۔

جس پر جمیل اختر کے وکیل راجا رسول حسن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل کو 2017 میں 3 سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور وزارت بحری امور نے کابینہ ڈویژن کو آگاہ کیے بغیر یک طرفہ طور پر ان کا کانٹریکٹ ختم کردیا تھا۔

خیال رہے کہ جمیل اختر کو گزشتہ دورِ حکومت میں 23 نومبر 2017 کو 3 سال کے لیے کے پی ٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا تاہم وفاقی حکومت نے مختلف وجوہات ظاہر کر کے انہیں عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: نیب نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سابق چیئرمین جاوید حنیف کو گرفتار کرلیا

اس سلسلے میں 25 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے انہیں ’کے پی ٹی ایکٹ 1886 کی دفعہ کے تحت ان کی تعیناتی کی ابتدائی مدت میں کمی کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے جس کا اطلاق فوری ہوگا‘۔

اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری کردہ ایک اور نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’وفاقی حکومت وزارت بحری امور کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ، شکیل منگنیجو (گریڈ-21) کو 3 ماہ کے لیے چیئرمین کے پی ٹی کا اضافی چارج دے رہی ہے‘۔

تاہم اس کے بعد ایک اور نوٹفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں وزارت بحری امور نے کہا تھا کہ جمیل اختر کو ان کے عہدے سے ’کے پی ٹی میں بے ضابطگیوں‘ کی وجہ سے ہٹایا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں جمیل اختر کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اس عہدے کی بدولت چیئرمین، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ٹرسٹی بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 'کراچی پورٹ ٹرسٹ میں سندھ کے شہری علاقوں کے ملازمین مختص کوٹے سے زیادہ'

انہوں نے دلیل دی کہ 25 مارچ کا نوٹیفکیشن وفاقی کابینہ کے سامنے معاملہ پیش کیے بغیر جاری کیا گیا جو کے پی ٹی ایکٹ کی دفعہ 15 اور 15 اے کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب کسی ٹرسٹی یا چیئرمین کو تعینات کیا جاتا ہے تو انہیں عہدے سے صرف ان وجوہات کی بنیاد پر ہٹایا جاتا ہے جو مذکورہ بالا دفعات میں بیان کی گئیں۔

بعد ازاں عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد جمیل اختر کی عہدے سے برطرفی پر حکم امتناع جاری کردیا تھا اور عارضی طور پر انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا تھا۔

اس کیس کی اگلی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ 9 اپریل کو کریں گے۔


یہ خبر 3 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔