قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے سابق چیئرمین محمد جاوید حنیف کو کراچی کے ضلع جنوبی میں قائم ان کے گھر سے گرفتار کرلیا۔

نیب کے جاری بیان کے مطابق جاوید حنیف، کے پی ٹی کے افسران کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات میں مطلوب تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ’کے پی ٹی‘ میں 940 ملازمین کو بھرتی کیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: رہائشی علاقے میں کوئلے کی ڈمپنگ سے ماحول کو خطرہ

اس کے علاوہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بابر غوری کے دور میں غیر قانونی بھرتیاں کیں، جب وہ پورٹ اینڈ شپنگ کے وزیر تھے۔

نیب کے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ تقرریاں کے پی ٹی کے قانون اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں جبکہ یہ ملازمتیں بغیر کسی اشتہار اور میڈیکل ٹیسٹ کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ کے پی ٹی میں بھرتی کیے جانے والے بیشتر افراد پر دہشت گردی، قتل، ڈکیتی اور رہزنی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی بندرگاہ پر بحری جہازوں کی ٹکر، 10 کنٹینر سمندر برد

یاد رہے کہ نیب کے مطابق مذکورہ تقرریوں کے باعث قومی خزانے کو 2.8 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

بعد ازاں نیب نے ملزم کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔

خیال رہے کہ محمد جاوید حنیف پاکستان متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی جانب سے الیکشن 2018 کے لیے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 95 کورنگی سے انتخابات لڑ رہے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کا ردعمل

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بہادر آباد میں قائم دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران نیب کی جانب سے جاوید حنیف کی گرفتاری کو الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں ںے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے جاوید حنیف کی گرفتاری کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی کے پی ٹی میں ملازمتیں دینے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کے نوجوانوں کو نوکریاں دینا کونسا جرم ہے‘۔