بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے فلائٹ آپریشن کل سے شروع ہوگا

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

وطن واپسی کی 17 پروازیں 4 تا 11 اپریل کے درمیان پرواز کریں گی—فائل فوٹو: اے ایف پی
وطن واپسی کی 17 پروازیں 4 تا 11 اپریل کے درمیان پرواز کریں گی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں سخت سفری پابنیوں اور فلائٹ آپریشنز میں خلل پڑنے کی وجہ سے بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے 4 اپریل (کل) سے پروازیں شروع ہوں گیں۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وطن واپسی کی 17 پروازیں 4 تا 11 اپریل کے درمیان اڑان بھریں گی۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: ملک میں 2419 افراد متاثر، 34 اموات، 100 سے زائد صحتیاب

انہوں نے بتایا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (قومی رابطہ کمیٹی) کے منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنے شہریوں کی وطن واپسی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ٹرانزٹ میں پھنسے پاکستانیوں کو زیادہ ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ان شہریوں کو جن کے ویزے کی میعاد ختم ہورہی ہے جبکہ بیرون ملک کام کرنے والے یا تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ترجیحی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ واپس آنے والے تمام مسافروں کی ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں جمعہ کو 12 سے ساڑھے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان

واضح رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا تھا کہ حکومت نے قطر، دبئی، سعودی عرب اور تھائی لینڈ سے اپنے شہریوں کو اب تک واپس پہنچایا ہے جبکہ استنبول، کوالالمپور، تاشقند، باکو، بغداد، لندن اور ٹورنٹو سے واپسی کے لیے پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے بیرون ملک سفارتی عہدیداران سے کہا گیا تھا کہ وہ ویزا کی میعاد ختم ہونے کی صورت میں کھانا، ادویات، رہائش اور ویزوں میں توسیع کی سہولت فراہم کرکے بیرون ملک مقیم شہریوں کی مدد کریں۔

علاوہ ازیں چینی کارکنوں کی پاکستان واپسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے لیے کام کرنے والے چینی عملے کے لیے بیجنگ حکومت ’ڈبل قرنطینہ‘ پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس: مکہ اور مدینہ میں 24 گھنٹے کے لیے کرفیو نافذ

انہوں نے کہا تھا کہ ’وہ چینی کارکن جو پاکستان آرہے ہیں پہلے انہیں چین میں قرنطینہ میں رکھا جائے گا اس کے بعد انہیں پاکستان میں مزید 14 دن کے لیے قرنطینہ کیا جائے گا اور تمام طبی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔


یہ خبر 3 اپریل 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی