امریکا کی ڈینیئل پرل قتل کیس کے فیصلے پر تنقید

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2020

ای میل

ایلس ویلز نے اس بات کو سراہا کہ استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتا ہے—فائل فوٹو: اے پی
ایلس ویلز نے اس بات کو سراہا کہ استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتا ہے—فائل فوٹو: اے پی

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کے کیس میں 4 ملزمان کی سزا ختم کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں عدالت کے فیصلے کو ’ہر جگہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کی توہین‘ قرار دیا گیا۔

امریکا کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے اس بات کو سراہا کہ استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتا ہے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’جو افراد ڈینیئل کے گھناؤنے اغوا اور قتل کے ذمہ دار ہیں انہیں انصاف کے پورے پیمانے کا سامنا کرنا چاہیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

صحافتی تنظیموں کی مذمت

ادھر ڈان اخبار کی ایک اور رپورٹ کے مطابق میڈیا کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے بھی ڈینیئل پرل کیس میں عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے جرائم سے معافی کی علامت کے طور پر قائم رہے گا۔

ایک بیان میں آر ایس ایف نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ’متنازع فیصلے‘ کی مذمت کی۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں فیصلے کے ایسے وقت میں سامنے آنے کی نشاندہی کی گئی جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کی لپیٹ میں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ایسے مشکل وقت میں اس فیصلہ کا سنایا جانا پاکستان کے لیے بدنامی کا سبب بنے گا کیونکہ وہ اس وائرس سمیت متعدد محاظوں پر نبرد آزما ہے‘۔

ڈینیئل پرل قتل کیس

خیال رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کررہے تھے۔

جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے شیخ عمر اور دیگر ملزمان کو اغوا اور قتل کا مرتکب ہونے پر سزا ملنے کے بعد ملزمان نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے، دلائل سننے کے بعد ملزمان کی 18 سال سے زیر التوا اور حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیلوں پر سماعت کی تھی اور گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: عمر سعید شیخ: ایک طالبعلم سے مجرم تک کا سفر

عدالت میں ملزمان کے وکلا رائے بشیر اور خواجہ نوید احمد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ ان کے موکل کے خلاف کیس ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہوا اور استغاثہ کے زیادہ تر گواہ پولیس اہلکار تھے جن کی گواہی پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ملزمان کے وکلا کا مزید کہنا تھا کہ اپیل کنندہ نسیم اور عادل شیخ پر ای میلز اور میسیجز کے ساتھ لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی زبردستی ظاہر کی گئی جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے ان کے اعترافی بیانات میں بھی جھول ہیں اور وہ رضاکارانہ طور پر نہیں دیے گئے۔

وکلا کا مزید کہنا تھا کہ مدعی نسیم سے 11 فروری 2002 کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی برآمدگی ظاہر کی گئی جبکہ کمپیوٹر ماہر رونلڈ جوزف نے کہا تھا کہ انہیں 4 فروری کو کمپیوٹر ویریفکیشن کے لیے دیا گیا تھا جس کے بعد 6 روز تک انہوں نے لیپ ٹاپ کا جائزہ لیا تھا۔

وکلا کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ثبوتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا جبکہ عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملزمان کی سزا کالعدم قرار دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینئیل پرل کے قاتلوں کو رہا کروانے کا منصوبہ ناکام

لہٰذا گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں تھیں جبکہ مرکزی ملزم عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا۔

احمد عمر سعید شیخ کیونکہ پچھلے 18 سالوں سے جیل میں تھے لہٰذا ان کی 7 سال کی سزا پورے وقت سے شمار کی جائے گی اور اس وجہ سے ان کی رہائی متوقع ہے۔