نیا کورونا وائرس طبی ماہرین کے لیے معمہ کیوں بن گیا ہے؟

اپ ڈیٹ 12 مئ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا بھر کے طبی ماہرین کے ذہنوں کو چکرانے پر مجبور کررہی ہے، کیونکہ بہت زیادہ پھیل جانے کے باوجود اس کے بارے میں اب تک یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔

ویسے تو مانا جاتا ہے کہ یہ بیماری پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتی ہے مگر یہ دماغ سے لے کر پیروں تک کہیں بھی حملہ کرسکتی ہے۔

کبھی تو ایسا نظر آتا ہے کہ مریض ٹھیک طرح سے بات کررہا ہے، چل پھر رہا ہے، کھا پی رہا ہے مگر اس کے خون میں آکسیجن کی سطح اتنی کم ہوچکی ہوتی ہے کہ اگر عام فرد کو اس کا سامنا ہو تو اس کے لیے چلنا، بولنا یا کھانا کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا بلکہ کوما یا موت کا خطرہ ہوتا ہے۔

یعنی اتنی کمی جو موت کے قریب پہنچادے، اس کا بظاہر کووڈ 19 کے مریضوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا مگر کچھ دن بعد یہ مسئلہ ضرور جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسے مریض اکثر وینٹی لیٹر پر جاتے ہیں ۔

لاکھوں افراد کو بیمار اور ہلاک کرنے والے اس وائرس پر عالمی ادارہ صحت کے مطابق 14 ہزار 600 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں اور اہم ترین طبی ادارے مسلسل اس کے حوالے سے اپنی ایڈوائس کو بدل رہے ہیں تاکہ نئی معلومات کے مطابق علاج کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس وائرس پر اتنی تحقیق کی وجہ بھی سادہ ہے وہ اس کا نیا ہونا اور طبی ماہرین اس کے بارے میں ابھی تک بہت کچھ جان نہیں سکے ہیں۔

ایشیا، یورپ اور امریکا سمیت دیا بھر میں 4 ماہ سے زائد عرصے کے دوران جو کچھ کلینیکل تجربات سامنے آئے ہیں ان سے یہ تو واضح ہووچکا ہے کہ یہ صرف عام نظام تنفس کا مرض نہیں اور پھیپھڑوں سے آگے بھی جاسکتا ہے۔

نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہسپتال کے صدر ڈیوڈ ریچ کا کہنا تھا 'کسی کو بھی ایک ایسی بیماری کی توقع نہیں تھی جو نمونیا اور نظام تنفس کے عارضے کے پیٹرن میں فٹ نہیں آتا'۔

یہ وائرس دل پر حملہ کرکے پٹھوں کو کمزور کرکے اس کے اہم ترین ردھم کو متاثر کرسکتا ہے۔

یہ گردوں کو اتنا نقصان پہنچا سکتا ہے کہ امریکا میں کچھ ہسپتالوں میں ڈائیلاسز مشینوں کی کمی ہوگئی۔

یہ اعصابی نظام میں گھس کر سونگھنے اور چکھنے کی حسوں کو تباہ کرسکتا ہے اور دماغ تک بھی رسائی حاصل کرلیتا ہے۔

ابتدائی تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس جلد پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

اس کا سب سے جان لیوا پہلو جسم میں متعدد مقامات میں خون کے ننھے لوتھڑے یا کلاٹس بنانا اور شریانوں کو سوجن کا شکار کردینا ہے۔

یہ چند علامات کے ساتھ بھی شروع ہوسکتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ کوئی علامت نظر ہی نہ آئے، پھر کچھ دن بعد یہ کسی اتنباہ کے بغیر پھیپھڑوں سے ہوا کو کھینچ کر سانس لینا دشوار کردیتا ہے۔

یہ معمر، کسی بییماری سے متاثر اور موٹاپے کے شکار افراد کو زیادہ بے رحم انداز سے ہدف بناتا ہے جبکہ خواتین کے مقابلے میں مرد اس کا زیادہ شکار بنتے ہیں اور ہاں ایسی علامات بھی ہیں کہ یہ حمل کو پیچیدہ بناسکتا ہے۔

یہ کم عمر بچوں کو عموماً ہدف نہیں بناتا مگر امریکا اور یورپ میں دل کی پیچیدگی کا باعث بننے والے ایک ایسی بیماری بچوں میں نظر آئی ہے جسے کورونا وائرس سے جوڑا جارہا ہے۔

گزشتہ ہفتے نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے اعلان کیا تھا کہ ریاست میں 73 بچے بہت زیادہ بیمار ہوچکے ہیں جبکہ ایک 5 سالہ بچہ اس پراسرار بیماری سے ہلاک ہوا جبکہ بعد مزید 2 بچے چل بسے۔

ڈیوڈ ریچ کے مطابق بچوں میں یہ بیماری ہاضمے کی علامات کے ساتھ شروع ہوتی ہے جو آگے بڑھ کر ورم سے ہونے والی پیچیدگیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر گرجاتا ہے اور شریانیں پھیل جاتی ہیں، اس سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھتا ہے، اور پہلا بچہ اسی وجہ سے ہلاک ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کووڈ سے بالکل الگ ہے۔

ویسے تو دنیا بھر میں کروڑوں یا اربوں کورونا وائرسز موجود ہیں مگر انسانوں کو متاثر کرنے والے وائرسز کی تعداد اس نئے وائرس کے بعد 7 ہوگئی ہے۔

4 تو ایسے کورونا وائرس ہیں جو نزلہ زکام کا باعث بنتے ہیں اور عموماً ان پر توجہ نہیں دی جاتی جبکہ باقی سارس اور مرس تھے جو بہت کم عرصے میں کچھ افراد کی ہلاکت کے بعد غائب ہوگئے۔

اس کے مقابلے میں سارس کوو 2 وائرس نے لگتا ہے کہ نزلہ زکام کا باعث بننے والے کورونا وائرسز کی تیزی سے پھیلنے کی خاصیت اور سارس اور مرس سے جان لیوا بننے کی خاصیت کو اکٹھا کرلیا ہے۔

یہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے بیمار فرد سے صحت مند شخص میں منتقل ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے اس کو پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہوگیا ہے اور فی الحال سماجی دوری اور ماسک کے استعمال کو ہی موثر سمجھا جارہا ہے۔

ماہرین کا تو کہنا ہے کہ یہ سمجھے میں کئی سال لگ سکتے ہیں کہ کووڈ 19 کس طرح اعصا کو نقصان پہنچاتی ہے اور کیسے ادویات، جینیات، غذا، طرز زندگی وغیرہ اس کی روک تھام یا پھیلاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں۔

مشی گن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر جیفری برنز کا کہنا تھا کہ یہ وائرس 6 ماہ قبل انسانوں میں موجود نہیں تھا، مگر اب ہم تیزی سے جان رہے ہیں کہ یہ وائرس کس طرح انسانوں پر اثرانداز ہتا ہے اور اس کے علاج کے طریقوں کی شناخت کررہے ہیں۔

وبا کے آغاز میں زیادہ توجہ پھیپھڑوں پر دی گئی کیونکہ یہ وائرس بالائی اور زیریں نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے اور بتدریج پھیپھڑوں کی گہرائی میں جاکر ہوا کی ننھی نالیوں کو خلیات اور سیال سے بھرنے لگتا ہے جس سے سانس لینا مشکل ہووجاتا ہے۔

مگر اب متعدد سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ بیماری 2 طریقوں سے زیادہ تباہی پھیلا رہی ہے۔

پہلی چیز تو وائرس کی جانب سے خون کی شریانوں میں تباہی مچانا ہے جس سے مختلف حجم جیسے مائیکرو سے لے کر بڑی کلاٹس دماغ اور پھیپھڑوں میں جانے والی شریانوں میں بننے لگتی ہیں، جس سے فالج اور پھیپھڑوں میں خون کی فراہمی رک سکتی ہے۔

جریدے لانسیٹ میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر خون کی شریانوں میں موجود خلیات کو براہ راست ہدف بناتا ہے۔

دوسرا پہلو جسم کے اپنے مدافعتی ردعمل کا ضرورت سے زیادہ ردعمل ہے، جس کے باعث وہ وائرس کے ساتھ جسم کے صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔

طبی ماہرین ان پہلوؤں پر توجہ دے رہے ہیں اور گزشتہ ہفتے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ خون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال بہت زیادہ بیمار افراد کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جریدے لانسیٹ میں شائع تحقیق میں شامل ہارورڈ میڈیکل اسکول کے میڈیسین پروفیسر مندیپ مہرہ نے بتایا کہ خون کی شریانوں میں خلیات کو نقصان پہنچانے کے نتیجے میں پھیلنے والے ورم سے یہ وضاحت کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ آخر یہ وائرس جسم کے متعدد حصوں کو نقصان کیسے پہنچاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کووڈ 19 کو شکست دینے کے لیے اینٹی وائرل تھراپی سے زیادہ کی ضرورت ہے، یعنی آغاز میں یہ نظام تنفس کا وائرس ہوتا ہے مگر جب کسی کو ہلاک کرتا ہے تو یہ خون کی شریانوں کا مہلک وائرس بن چکا ہوتا ہے۔

گردوں کے امراض کے ماہرین کی سوچ بھی اسی طرح بدل رہی ہے۔

ابتدا میں وہ کووڈ 19 کے مریضوں کے گردوں کو پہنچنے والے نقصان کو وینٹی لیٹر اور مخصوص ادویات کا نتیجہ قرار دے رہے تھے۔

مگر پھر انہوں نے دیکھا کہ مریضوں کے گردوں کے کچرا فلٹر کرنے والے خلیات کو یہ نقصان آئی سی یو میں پہنچنے سے پہلے ہی ہوجاتا ہے اور ووہان میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ وائرس گردوں میں بھی پایا جاتا ہے، جس سے یہ قیاس لگایا گیا کہ یہ اس عضو کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آغاز میں تو یہ منفرد نہیں لگتا تھا مگر نئی معلومات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ گردوں کے معمول کی انجری سے بڑھ کر ہے۔

دیگر کورونا وائرسز کی طرح یہ نیا وائرس بھی ایک ریسیپٹر ایس 2 کے ذریعے خلیات کو ہدف بناتا ہے جو کئی طرح کے خلیات میں پایا جاتا ہے مگر اس کا اسپائیک پروٹین زیادہ سختی سے خلیے کو جکڑتا ہے، جس کے نتیجے میں چند وائرل ذرات ہی میزبان کو متاثر کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اسے سارس سے زیادہ متعدی بھی قرار دیا جارہا ہے۔

ایک بار کسی خلیے میں داخل ہونے کے بعد یہ وائرس تباہی مچانے لگتا ہے، ایس 2 ریسیپٹرز بلڈ پریشر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتے ہیں جو پھیپھڑوں، آنتوں اور گردوں میں پائے جاتے ہیں اور متعدد مریضوں میں یہ اعضا بری طرح متاثر دریافت ہوئے ہیں۔

اور ہاں ممکنہ طور پر اسی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار بھی ہوجاتے ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے کالج آف فزیشنز ایند سرجنز کے نیورولوجی کی پروفیسر مچل ایلکنڈ کا کہنا تھا کہ یہ خلیات لگ بھگ ہر جگہ ہی ہوتے ہیں تو یہ قابل فہم ہے کہ پورے جسم میں تباہی مچاتا ہے۔

خون کے سفید خلیات جب بیماری کا مقابلہ کرتے ہیں تو ورم سے خون کے لوتھڑے بننے کا عمل تیز ہوتا ہے، اس طرح کا ردعمل سنگین بیماریوں جیسے عفونت میں نظر آتا ہے مگر کووڈ 19 میں بڑی تعداد میں افراد میں بہت کم وقت میں ایسا ہوتا ہے جو اس وائرس کو دوسروں سے الگ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وائرس جسم کے متعدد حصوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ہم اب تک سمجھ نہیں سکے کہ یہ کچھ افراد میں مسائل کا باعث کیوں بنتا ہے، دیگر کے مسائل ان سے الگ ہوتے ہیں، جبکہ مریضوں کی بڑی تعداد میں کسی قسم کے مسائل نظر نہیں آتے۔