کورونا وائرس کا پراسرار پہلو جو متعدد اموات کا باعث بننے لگا

24 اپريل 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے بارے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور معلوم ہورہا ہے کہ یہ جسم میں کس طرح تباہی مچاتا ہے۔

پہلے یہ بات سامنے آئی کہ اس بیماری کے نتیجے میں دل کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، گردے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ دماغی صحت کی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

اب طبی ماہرین کووڈ 19 کے مریضوں میں خون کے ایک پراسرار مسئلے کا سامنا کررہے ہیں جس کے دوران جسم کے مختلف حصوں میں کلاٹس کا مسئلہ نظر آتا ہے۔

بلڈ کلاٹ میں خون پتلا نہیں رہتا بلکہ جیل کی طرح گاڑھا ہوکر لوتھڑے جیسی شکل اختیار کرلیتا ہے، جس سے جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ایبولا، ڈینگی اور دیگر جریان خون کا باعث بننے والے بخار میں ایسا ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

ویسے تو کووڈ 19 پھیپھڑوں کو ہدف بناتا ہے مگر یہ خون کے لوتھڑے یا کلاٹنگ کا عمل وہاں ہورہا ہے جہاں اس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

پنسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور امریکن سوسائٹی آف کرٹیکل کیئر میڈیسین کے سربراہ لیوئس کپلان نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ہر سال ڈاکٹر خون کے اس مسئلے سے ہونے والی پیچیدگیوں کا سامنا کرتے ہیں مگر کووڈ 19 کے نتیجے میں جو ہورہا ہے وہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا 'مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں ایک کلاٹ ہے، مگر ہم اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ آخر وہان کلاٹ کیوں ہے، ہم نہیں جانتے اور اس نے ہمیں خوفزدہ کردیا ہے'۔

اس کی پہلی علامت ٹانگوں میں ظاہر ہوتی ہے جو نیلی اور سوجن کا شکار ہوجاتی ہیں، یہاں تک کہ ایسے مریضوں میں بھی، جو آئی سی یو میں خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کررہے ہوتے ہیں، مگر ان کا خون بھی گاڑھا ہونے لگتا ہے، جو کسی ایک یونٹ کے ایک یا 2 مریضوں میں تو غیرمعمولی نہیں، مگر بیک وقت متعدد کے ساتھ ضرور غیرمعمولی ہے۔

اس کے بعد ڈائیلاسز مشینیں، جو گردوں کے افعال متاثر ہونے پر خون کو فلٹر کرتی ہیں، کے استعمال کے دوران ایک دن میں کئی بار خون کو جمنے سے روکنے میں ناکامی اور جام ہونے کا سامنا ہورہا ہے۔

ایموری یونیورسٹی کی آئی سی یو ٹیم کے سربراہ کریگ کوپر اسمتھ کے مطابق ایک دن ٹیم لیڈرز سے بات کرتے ہوئے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے مریضوں میں سے ایک میں خون کا عجیب مسئلہ سامنے آرہا ہے اور بلڈتھینر پر ہونے کے باوجود مریض میں بدستور کلاٹس بن رہے ہیں، اس کے دوسرے، پھر تیسرے یہاں تک کہ کمرے میں موجود ہر فرد نے اسی بات کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا 'اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، ایسا 20، 30 یا 40 فیصد مریضوں کے ساتھ ہورہا ہے'۔

کچھ مریضوں کی ہلاکت کے بعد معائنے پر پھیپھڑوں میں سیکڑوں چھوٹے بلڈ کلاٹس کو دریافت کیا گیا، یہاں تک کہ گزشتہ ہفتے براڈوے کے اداکار نک کورڈیرو میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد دائیں ٹانگ کو کاٹنا پڑا، کیونکہ وہاں خون جم گیا تھا۔

ڈاکٹر کریگ کوپر اسمتھ کے مطابق 'اس پر عالمی سطح پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ بالکل مختلف ہے'۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کچھ مریضوں کا پوسٹمارٹم کیا گیا تو سائنسدانوں کو توقع تھی کہ وہ نمونیا اور پھیپھڑوں کی ننھی نالیوں کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد دریافت کریں گے، مگر وہاں ہر جگہ ننھے کلاٹس کو دیکھا گیا۔

اس سلسلے میں امریکا بھر کے طبی ماہرین نے زوم پر میٹنگ کرکے اپنے خیالات اور طریقہ علاج کو شیئر کیا۔

فی الحال اس مسئلے کی وجہ اور اس پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی پر اتفاق نہیں مگر بیشتر کا ماننا ہے کہ امریکا میں کووڈ 19 کے مریضوں کی متعدد اموات کی وجہ یہی مسئلہ ہے اور اس سے ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ آخر بہت زیادہ لوگوں پر اس بیماری کی وجہ سے کیوں مررہے ہیں۔

یہ مسئلہ چین اور اٹلی میں بھی نظر آیا تھا مگر وہاں تحقیقی رپورٹس میں اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی بلکہ پھیپھڑوں کو ہونے والی تباہی پر توجہ مرکوز کی گئی۔

برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل کے امراض قلب کے ماہر گریگ پیازا کے مطابق 'اس انکشاف نے ہمیں ڈرا دیا ہے، ہم نے عاللمی سطح پر اس کے بارے میں زیادہ نہیں سنا'۔

ٹفٹس میڈیکل سینٹر کی وبائی امراض کی ماہر ہیلن ڈبلیو بائوچر کا کہنا تھا کہ ایسا سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں کہ امریکا میں یہ وائرس دیگر ممالک سے مختلف ہے۔

ان کے بقول ممکنہ وجہ یہ ہے کہ امریکی ڈاکٹروں کے لیے یہ مسئلہ زیادہ نمایاں اس لیے ہے کیونکہ امریکی مریضوں میں امراض قلب اور موٹاپے جیسے مسائل کی شرح بہت زیادہ ہے، جو ان کو بلڈ کلاٹس سے زیادہ متاثر کررہے ہیں۔

اموات کی بڑی وجہ

خون غذائی اجزا کو خلیات تک پہنچاتا ہے اور کچرے کو دور کرتا ہے، مگر جب جسم کو شدید صدمے کا سامنا ہوتا ہے تو خون بہت زیادہ ردعمل ظاہر کرتا ہے جس سے عدم توازن پیدا ہونے سے بہت زیادہ کلاٹس یا جریان خون کا سامنا ہوتا ہے، کئی بار یہ دونوں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

یالے نیو ہیون کارڈک اسپیشلسٹ ہارلن کریوہولز کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں جانتا کہ خون میں پیچیدگیاں براہ راست شریانوں پر حملے کا نتیجہ ہے یا وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کے بہت زیادہ ردمل کا اثر ہے۔

انہوں نے کہا 'مختلف خیالات میں ایک یہ ہے کہ جب جسم کسی حملہ آور کے خلاف جنگ لڑتا ہے تو جسم میں کلاٹنگ کا باعث بننے والے عناصر متحرک ہوجاتے ہیں جو بلڈ کلاٹ یا جریان خون کا باعث بنتے ہیں، ایبولا کے مریضوں میں جریان خون زیادہ ہوتا ہے جبکہ کووڈ 19 میں زیادہ بلڈ کلاٹ بن رہے ہیں'۔

بدھ کو جریدے جاما میں شائع ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ریاست نیویارک میں ہسپتال میں داخل ہونے والے کووڈ 19 کے بیشتر مریضوں میں خون گاڑھا ہونے کے مسائل کو دیکھا گیا۔

10 اپریل کو ایک ڈچ تحقیق کے مطابق آئی سی یو میں زیرعلاج 184 میں سے 38 فیصد کے خون میں گاڑھا ہونے کا عمل دیکھا گیا۔

چین کے 183 مریضوں کے ابتدائی ڈیٹا میں دریافت کیا گیا کہ 70 فیصد سے زائد مریضوں کا انتقال چھوٹے کلاٹس کی وجہ سے ہوا جو پورے دوران خون میں بن گئے تھے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے بین نوڈ بیکدیلی کا کہنا تھا کہ اگرچہ نظام تنفس کے مسائل کووڈ 19 کے مریضوں کی اموات کی بنیادی وجہ ہے مگر خون کی پیچیدگیاں بھی کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔

ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں کووڈ 19 کے مریضوں کی ہلاکتوں کی 3 بڑی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے'۔

جب اس نئے نوول کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے تو سی ڈی سی اور دیگر اداروں نے دمہ کے شکار افراد کو سب سے زیادہ خطرے کی زد میں آنے والوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، مگر یورپی سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ دمہ کے مریضوں میں یہ شرح بہت کم ہے، جبکہ رواں ماہ نیویارک اسٹیٹ کی جانب سے جاری ڈیٹا میں دریافت کیا گیا کہ جن امراض کے نتیجے میں لوگ کووڈ 19 کا شکار ہوکر ہلاک ہورہے ہیں، دمہ ان میں شامل نہیں بلکہ لگ بھگ سب میں ہی خون کی شریانوں کے مسائل دیکھے گئے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا میں کچھ طبی مراکز میں تمام زیرعلاج مریضوں کو خون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال کرایا جارہا ہے جبکہ زیادہ بیمار افراد کے لیے ڈوز کی مقدار کو بڑھایا جارہا ہے۔

مگر یہ بھی مسئلہ ہے کہ زیادہ ڈوز سے توازن بگڑنے کا خطرہ بڑھتا ہے اور جریان خون سے موت کا امکان ہوتا ہے۔

ہارلن کریوہولز کے مطابق 'اس بارے میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہیں، یہ اس وائرس کے ذہن گھما دینے والے چند پہلوئوں میں سے ایک ہے، ہم اب بھی بہت زیادہ تاریکی میں ہیں'۔