کووڈ 19 سے خواتین کے مقابلے میں مردوں میں اموات کی شرح زیادہ

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2020

ای میل

— اے پی فوٹو
— اے پی فوٹو

کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کس کو زیادہ متاثر کررہی ہے؟

وہ کوئی اور نہیں مرد ہیں اور حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 48 سو سے زائد کیسز میں خواتین کی تعداد لگ بھگ 28 فیصد ہے جبکہ 72 فیصد مرد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

اگر شہروں کے اعتبار سے بات کی جائے تو کراچی، لاہور، راولپنڈی، کرم ایجنسی اور کوئٹہ وہ مقامات ہیں جہاں خواتین کیسز کی تعداد بالترتیب 21 فیصد، 12 فیصد، 6 فیصد، 5 فیصد اور 4 فیصد سے زائد ہے۔

اس کے مقابلے میں مردوں کے کیسز میں لاہور لگ بھگ 25 فیصد کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جس کے بعد کراچی (17 فیصد)، حیدرآباد (5 فیصد سے زیادہ)، راولپنڈی (4.67 فیصد) اور اسلام آباد (3.2 فیصد) نمایاں ہیں۔

یہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں درحقیقت جن ممالک میں کورونا وائرسز کے مریضوں کا ڈیٹا جاری کیا ہے، ان میں ایک بات مشترک ہے۔

دنیا بھر میں خواتین اور مردوں کے کیسز کی تعداد لگ بھگ مساوی ہے مگر اموات کی شرح میں مرد آگے ہیں اور گلوبل ہیلتھ کی جانب سے ایسے ممالک کا ڈیٹا جاری کیا گیا ہے جہاں خواتین اور مردوں کی اموات کی شرح دی گئی (فی الحال پاکستان میں مردوں اور خواتین کی اموات کا تناسب جاری نہیں ہوا)۔

اس ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ تشخیص کے بعد خواتین کے مقابلے میں مردوں کی موت کا امکان 50 سے 80 فیصد تک زیادہ ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اٹلی میں 68 فیصد مرد جبکہ 32 فیصد خواتین اس مرض سے ہلاک ہوئے، چین میں یہ شرح 64 اور 36 فیصد رہی، اسپین اور جرمنی میں 63 اور 37، آسٹریلیا اور سوئیڈن میں 60 اور 40، ایران میں 59 اور 41 جبکہ جنوبی کوریا میں 53 اور 47 فیصد ہے۔

یعنی اٹلی میں یہ فرق بہت نمایاں ہے جبکہ جنوبی کوریا جہاں 60 فیصد کیسز خواتین اور 40 فیصد مردوں کے ہیں، وہاں بھی مردوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں۔

درحقیقت فی الحال تو کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں اس وائرس سے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہو اور سائنسدانوں نے اس کی چند ممکنہ وجوہات بھی بیان کی ہیں۔

نقصان دہ عادات بشمول تمباکو نوشی

کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ صحت کے لیے نقصان دہ عادات کو زیادہ اپنانا ممکنہ طور پر مردوں کو کووڈ 19 کے سنگین کیسز کا آسان شکار بناتا ہے۔

مرد خواتین کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں اور یہ عادت نظام تنفس کے متعدد مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے، مثال کے طور پر چین میں تمباکو نوشی کرنے والے مردوں کی شرح 50 فیصد جبکہ خواتین کی محض 2 فیصد ہے، تو پھیپھڑوں کی صحت کا فرق بھی مردوں کے لیے کووڈ 19 کو زیادہ بدتر بنانے کی وجہ ہوسکتا ہے۔

اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹیٹوٹ کے مطابق اس ملک میں تمباکو نوشی کرنے والے مردوں کی تعداد 70 لاکھ کے قریب ہے جبکہ 45 لاکھ خواتین میں یہ عادت پائی جاتی ہے۔

امریکا میں ہونے والے سرویز میں دریافت کیا گیا کہ مردوں میں ہاتھ دھونے اورصابن کا استعمال کرنے کی شرح کم ہے اور ہاتھ دھونا کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے اہم ترین حفاطٹی تدابیر میں سے ایک ہے۔

مردوں میں طبی مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے

حیاتیاتی عناصر بھی مردوں اور خواتین کی اموات کے تناسب میں فرق کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مردوں میں مختلف اقسام کے انفیکشنز جیسے ہیپا ٹائٹس سی اور ایچ آئی وی کے خلاف اینٹی وائرل مدافعتی نظام خواتین کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، جو ہوسکتا ہے کہ کورونا وائرسز کے حوالے سے بھی درست ہو، تاہم اب تک اس پر تحقیق نہیں ہوئی۔

سائنسدانون نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ مختلف امراض جیسے ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد میں کورونا وائرس کی علامات کی شدت بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اور بیشتر ممالک میں مردوں میں اس مرض کی شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

سی این این کے مطابق اٹلی اور چین میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ ہے، جبکہ چین میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بھی خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے سبب پھیپھڑوں کی جان لیوا انجری کا خطرہ کووڈ 19 کے مریضوں میں بڑھتا ہے۔

ویسے یہ ڈیٹا کس حد تک ٹھیک ہے اس کا اندازہ تو وبا کی شدت اور اموات کی شرح میں کمی کے بعد زیادہ بہتر طور پر ہوگا مگر فی الحال یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مرد اس بیماری سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔