اداکارہ عظمیٰ خان پر گھر میں گھس کر 'تشدد' کرنے والی خواتین کے وارنٹ گرفتاری جاری

اپ ڈیٹ 30 مئ 2020

ای میل

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں چند خواتین کو اداکارہ کے گھر میں گھس کر ان پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا — اسکرین گریب
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں چند خواتین کو اداکارہ کے گھر میں گھس کر ان پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا — اسکرین گریب

لاہور کی کینٹ کچہری عدالت نے اداکار عظمیٰ خان پر ان کے گھر میں گھس کر تشدد کرنے والی خواتین کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام شبیر سیال نے عظمیٰ خان پر تشدد کرنے والی تینوں خواتین کے وارنٹ جاری کیے۔

ڈیفنس سی پولیس نے اداکارہ عظمی خان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کے حصول کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

پراسکیوشن کا عدالت میں کہنا تھا کہ تینوں خواتین روپوش ہیں اور طلبی کے باوجود مقدمے میں شامل تفتیش نہیں ہو رہیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان خواتین کو مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔

واضح رہے کہ دو روز قبل اداکارہ عظمیٰ خان نے چند خواتین کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا جن کے بارے میں اداکارہ کا دعویٰ ہے کہ وہ بزنس ٹائیکون ملک ریاض کی بیٹیاں ہیں اور انہوں نے مسلح گارڈز کے ہمراہ ان کے گھر میں گھس کر اشتعال انگیزی کی۔

تشدد کی ویڈیوز

یہ واقعہ دو روز قبل اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس کے بعد اداکارہ نے پولیس کو شکایت درج کروائی جس کی روشنی میں رات گئے مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ویڈیو میں ایک خاتون کو اداکارہ پر چیختے چلاتے اور عثمان نامی شخص کے ساتھ ’غیر اخلاقی تعلقات‘ رکھنے کا الزام لگاتے سنا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد، گھر میں توڑ پھوڑ کی ویڈیوز وائرل، مقدمہ درج

ویڈیو میں گارڈز کو اداکارہ کو پکڑتے اور ہراساں کرتے دیکھا گیا جبکہ ایک خاتون انہیں جوتے سے مار رہی تھی اور عظمیٰ خان پر شیشے سے بنی سجاوٹی اشیا بھی پھینکی گئیں۔

اسی طرح کی ایک اور ویڈیو میں گھر کا لیونگ روم دکھایا گیا جہاں ہر جانب ٹوٹی ہوئی اشیا بکھری ہوئی تھیں جبکہ گھر کے فرش پر خون کے نشانات واضح تھے۔

اداکارہ نے بدھ کے روز لاہور کے علاقے ڈیفنس کے تھانے مقدمے کے اندراج کی درخواست دی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’آمنہ ملک، پشمینہ ملک اور عنبر ملک چاند رات کو مسلح ملزمان کے ہمراہ ان کے گھر کا اندرونی دروازہ توڑ کر داخل ہوئیں اور ان پر ان کی بہن پر اسلحہ تانا۔'

ایف آئی آر کے مطابق آمنہ عثمان نے اداکارہ کی بہن کو شیشے کی بوتل ماری جس سے وہ زخمی ہوگئی ہیں جبکہ پشمینہ اور عنبر ملک نے اداکارہ اور ان کی بہن پر تشدد کیا اور کپڑے پھاڑ دیے۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ’تینوں خواتین نے ہم پر تشدد کرنے کے ساتھ تضحیک کی اور غیر اخلاقی زبان کا استعمال کیا اور ایک گارڈ کو کہا کہ اسے کمرے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بناؤ‘۔

بعد ازاں خود کو عثمان ملک کی بیوی کہنے والی خاتون آمنہ ملک نے بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جس میں انہوں نے کہا کہ عثمان ملک کا ملک ریاض سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ویڈیو میں خاتون کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے تو میں یہ واضح کردوں کہ عثمان ملک کا ریاض ملک حسین سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کے قریبی عزیزوں میں سے نہیں ہیں، حسان خان نیازی ملک ریاض کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور حسان خان نیازی کی ملک ریاض سے آپس کی لڑائی ہے اور وہ پیسے لینے کے لیے یہ سب کررہے ہیں‘۔

ان خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'جہاں تک کسی اور کے گھر میں گھسنے کی بات ہے تو وہ گھر ان لڑکیوں کا نہیں بلکہ میرے شوہر کا دوسرا گھر تھا جہاں میں ان کا پیچھا کرتے ہوئے گئی اور میرا حق ہے کہ میں وہاں جاسکتی ہوں'۔

خاتون نے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ ’میں نے اپنی 13 سال کی شادی شدہ زندگی کو بچانے کے لیے اس لڑکی (اداکارہ) کو متعدد وارننگز دی تھیں اور یہ پہلی مرتبہ نہیں جب میں نے اس سے رابطہ کیا ہو‘۔

دوسری جانب ملک ریاض حسین نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اس سارے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

پراپرٹی ٹائیکون کا کہنا تھا کہ ’وائرل ویڈیو سے متعلق جو بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے میں اسے مسترد کرتا ہوں‘۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک ایسے واقعے، جس میں کسی طرح بھی ملوث نہیں ہوں اس کے لیے مجھے بدنام کرنے کی اوچھی حرکت پر میں حیرت زدہ ہوں۔

جمعرات کے روز لاہور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ خان اور ان کی بہن نے اپنے لیے سیکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔

وکلا میاں علی اشفاق اور بیرسٹر حسان نیازی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران دونوں بہنوں نے دعویٰ کیا کہ ان جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، تاہم انہوں نے دھمکی دینے والوں سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ عثمان ملک ان سے گزشتہ دو سال سے شادی کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عثمان کی اہلیہ کو نہیں جانتی تھیں اور انہیں پہلی بار اسی وقت دیکھا تھا جب وہ گارڈز کے ہمراہ ان کے گھر میں گھس آئی تھیں۔

'میری جان کو خطرہ ہے'

جمعہ کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں عظمیٰ خان نے ان رپورٹس کی تردید کی کہ انہوں نے تشدد کرنے والوں سے 'سمجھوتہ' کرلیا ہے اور وہ دبئی روانہ ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ لاہور میں ہیں اور آئی جی پنجاب سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کے ماتحت چند افسران انہیں صلح کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں جبکہ کچھ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ وہ آئی جی سے ملاقات کرکے ان کے مشورے پر عمل کریں گی کہ آیا انہیں مقدمے کی پیروی کرنی چاہیے یا صلح کر لینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ انہیں مشورہ دے رہے ہیں وہ ان پر تشدد کرنے والوں سے صلح کرلیں کیونکہ ان کی جان خطرے میں ہے، لیکن میں ان لوگوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا میں اس کے بعد ہی مر گئی تھی، انہوں نے پوری دنیا کے سامنے مجھے بے عزت کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے افسران ان سے تعاون نہیں کر رہے اور نہ ہی ان تین خواتین کو گرفتار کر رہے ہیں۔

عظمیٰ خان نے کہا کہ میری جان خطرے میں ہے اور وزیر اعظم عمران خان اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سے تعاون کی اپیل کی۔