پیپلز پارٹی کے رہنما مولابخش چانڈیو بھی کورونا وائرس کا شکار

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

حیدرآباد ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام افراد احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز
حیدرآباد ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام افراد احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری مولا بخش چانڈیو بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے۔

مولا بخش چانڈیو کے علاوہ ان کے بیٹے اور اہلیہ کے بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد گھر کے تمام افراد کو الگ تھلگ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کے رہنما و گلوکار ابرارالحق کورونا وائرس کا شکار

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمز) کی تشخیصی اور ریسرچ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق 67 سالہ مولا بخش چانڈیو کے علاوہ ان کی اہلیہ، بیٹا اور خاندان کے 2 دیگر افراد بھی وائرس کے متاثرین میں شامل ہیں۔

ضلع حیدرآباد کے انفارمیشن سیکریٹری احسن ابڑو نے بتایا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما سے بات کی ہے اور وہ ٹھیک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ، بیٹا، بہو اور گھر والوں کا ایک اور فرد کورونا وائرس میں مبتلا ہے۔

احسن ابڑو نے کہا کہ وہ سب اب گھر میں الگ تھلگ اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے مولا بخش چانڈیو کو فون کر کے ان کی خریت دریافت کی۔

محمد صادق سنجرانی نے مولا بخش چانڈیو کی جلد صحیتابی کی دعا بھی کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد سیاستدان اور اہم شخصیات کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہیں۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس میں کمزوری کا دعویٰ عالمی ادارہ صحت نے مسترد کردیا

آج (2 جون) کو پی پی پی رہنما اور سندھ کے وزیر انسانی تصفیہ غلام مرتضیٰ بلوچ چند روز تک کورونا وائرس کا شکار رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

جس پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔

اس سے قبل 31 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما و گلوکار ابرارالحق بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔

ہلال احمر کے چیئرمین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

25 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے وائرس کی تصدیق کے بعد خود کو قرنطینہ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر انجینیئر امیر مقام کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے اور انہوں نے خود کو قرنطینہ میں منتقل کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کورونا وائرس سے جاں بحق

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما امیر مقام نے طبیعت خراب ہونے پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا تھا، بعد ازاں ان کی رپورٹ مثبت آگئی تھی۔

امیر مقام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی کورونا کا شکار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

21 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عطاللہ تارڑ نے کہا تھا کہ 'میرا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے لہٰذا میں ان تمام لوگوں سے بھی ٹیسٹ کرانے اور احتیاط کی درخواست کرتا ہوں جنہوں نے گزشتہ چند روز میں مجھ سے ملاقات کی تھی

پیپلز پارٹی کے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی ملک کے پہلے سیاستدان تھے جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ آئسولیشن میں رہنے کے بعد صحتیاب ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ بلوچستان ظہور بلیدی کورونا وائرس کا شکار

اپریل میں ضلع مردان سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جبکہ وزیر صحت خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ ان کے معاون خصوصی کامران خان بنگش میں بھی کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا۔

علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے دو بچوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے رہنما اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل بھی وائرس کا شکار ہو گئے تھے لیکن چند روز قبل یہ دونوں وائرس سے صحتیاب ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کورونا سے صحتیاب

قومی اسمبلی کے دو اراکین محبوب شاہ اور گل ظفر خان سمیت ایوان زیریں کے متعدد ملازمین میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

علاوہ ازیں رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔