اسٹیل ملز سے ملازمین کو نکالنے کا معاملہ: عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 9 جون مقرر کردی

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

اسٹیل ملز انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ صرف ایک ہزار ملازمین کی گنجائش ہے۔ —فائل فوٹو: ڈان نیوز
اسٹیل ملز انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ صرف ایک ہزار ملازمین کی گنجائش ہے۔ —فائل فوٹو: ڈان نیوز

سپریم کورٹ نے اسٹیل ملز سے ملازمین کو نکانے کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 9 جون کے لیے مقرر کردی۔

عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اسٹیل ملز سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے جبکہ چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے لیے بینچ بھی تشکیل دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے حکومت کو پاکستان اسٹیل ملز کی زمین فروخت کرنے سے روک دیا

پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو نکالنے سے متعلق کیس کے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہوں گے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ 15 اپریل کو ہیومن ریسورس بورڈ کے اجلاس میں ہوا۔

رپورٹ میں اقرار کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 8 ہزار 884 میں سے 7 ہزار 784 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔

اسٹیل ملز انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ ’صرف ایک ہزار ملازمین کی گنجائش ہے‘۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ موجودہ اور سابق ملازمین کو 40 ارب کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں جبکہ سال 2009 سے 2015 تک بھاری نقصان پر اسٹیل ملز کو بند کرنا پڑا۔

اسٹیل ملز میں ملازمین کی تعداد سے متعلق بتایا گیا کہ 1990 اور 2019 میں ملازمین کی تعداد بالترتیب 27 ہزار اور 9 ہزار 350 تھی۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے چینی کمپنیوں نے غور شروع کردیا

رپورٹ کے مطابق 2015 سے بند اسٹیل ملز کے ملازمین کو 30 ارب کی ادائیگیاں ہوچکی ہیں جبکہ وفاقی حکومت بیل آؤٹ پیکجز اور تنخواہوں کی مد میں اب تک 92 ارب روپے ادا کر چکی ہے۔

سپریم کورٹ کو پیش کردہ رپورٹ میں اقرار کیا گیا کہ اسٹیل ملز کے مختلف منصوبوں کی مد میں قومی خزانے کو 229 ارب کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں اسٹیل ملز انتظامیہ نے نئے سی ای او کی فوری تعیناتی کی استدعا کی اور بتایا کہ اسٹیل ملز ایک سال سے بغیر سربراہ کے چل رہی ہے۔

علاوہ ازیں اسٹیل ملز انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ اسٹیل ملز کی زمینوں پر قبضہ ختم کرانے کےلیے پولیس اور رینجرز کی مدد فراہم کی جائے اور وفاقی حکومت کو ملازمین کو برطرف کرنے پر تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیل مل کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں تاخیر، اسٹیک ہولڈرز نے وزیر اعظم کو خبردار کردیا

اس سے قبل حکومت نے یکمشت ادائیگی کے لیے 20 ارب روپے کی منظوری کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے 9 ہزار 350 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی منظوری دی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں فیصلہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

اجلاس کے حوالے سے جاری ہونے والے باضابطہ بیان کے مطابق ’اجلاس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں، احکامات اورپاکستان اسٹیل ملز کے حوالہ سے دیگر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی روشنی میں پاکستان اسٹیل ملز کے ہیومن ریسورس رئیلائزیشن منصوبے کی مکمل اور حتمی منظوری دے دی گئی‘۔

خیال رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 14 ہزار 753 ملازمین کے لیے انسانی وسائل کا کوئی منصوبہ تشکیل دیے بغیر جون 2015 میں تجارتی سرگرمیاں روک دی گئی تھیں، جس کے بعد 2019 تک ملازمین کی تعداد کم ہو کر 9 ہزار 350 رہ گئی تھی۔

اس وقت پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو خالص تنخواہوں کی مد میں ادا کی جانے والی رقم 35 کروڑ روپے کے برابر ہے جسے اسٹیل ملز کے مالی اکاؤنٹس میں بطور قرض ایڈجسٹ کیا جاتا ہے یوں سال 2013 سے وفاقی حکومت تنخواہوں کی مد میں 34 ارب روپے جاری کر چکی ہے۔

مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی کی اسٹیل ملز کے 9 ہزار 350 ملازمین فارغ کرنے کی منظوری

قبل ازیں ای سی سی میں جمع کروائی گئی سمری کے مطابق ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری کی ناکامی بدعنوانی، نااہلیت اور زیادہ لوگوں کو ملازمت دینے کی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز جون 2015 سے اس وقت بند کردی گئی تھی جب بلز کی عدم ادائیگی کے باعث اس کی گیس سپلائی میں تیزی سی کمی کی گئی تھی، یہ بلز اس وقت نجی شعبے سے وابستہ ادارے کے ڈیفالٹ ہونے سے بہت کم تھے۔

پاک-چین انویسٹمنٹ بینک نے 2015 میں اعلان کیا تھا کہ 28 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری، بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور نئی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز، اپنی لوکیشن، مارکیٹ اور سہولیات کے ساتھ قابل نفع ادارہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔