اقتصادی رابطہ کمیٹی کی اسٹیل ملز کے 9 ہزار 350 ملازمین فارغ کرنے کی منظوری

اپ ڈیٹ جون 04 2020

ای میل

ملازمین کو تنخواہوں کے ادائیگی کی مد میں منظور شدہ ضمنی گرانٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی—فائل فوٹو: رائٹرز
ملازمین کو تنخواہوں کے ادائیگی کی مد میں منظور شدہ ضمنی گرانٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: حکومت نے یکمشت ادائیگی کے لیے 20 ارب روپے کی منظوری کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے 9 ہزار 350 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں فیصلہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے حوالے سے جاری ہونے والے باضابطہ بیان کے مطابق ’اجلاس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں، احکامات اورپاکستان اسٹیل ملز کے حوالہ سے دیگر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی روشنی میں پاکستان اسٹیل ملز کے ہیومن ریسورس رئیلائزیشن منصوبے کی مکمل اور حتمی منظوری دے دی گئی‘۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے حکومت کو پاکستان اسٹیل ملز کی زمین فروخت کرنے سے روک دیا

مذکورہ فیصلہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی 13 مئی کی ہدایت پر وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ’ہیومن ریسورس رئیلائزیشن‘ کی بنیاد پر نظرِ ثانی شدہ سمری پر کیا گیا۔

اس سے قبل کے منصوبے میں 18 ارب 74 کروڑ روپے کی لاگت میں 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

حالیہ فیصلے کے نتیجے میں حکومت اسٹیل ملز کے 100 فیصد ملازمین کو فارغ کردے گی جن کی تعداد 9 ہزار 350 ہے، کُل تعداد میں سے صرف 250 ملازمین کو اس منصوبے پر عملدرآمد اور ضروری کام کی انجام دہی کی خاطر 120 روز کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب ای سی سی کے فیصلے کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری ملنے کے بعد تمام ملازمین کو برطرفی کے نوٹسز جاری کردیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے چینی کمپنیوں نے غور شروع کردیا

اس منصوبے کا مالیاتی اثر 19 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ روپے کے برابر ہوگا جو گریجویٹی اور پراوڈنٹ فنڈز کی ادائیگی کے لیے یکمشت جاری کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہوں کے ادائیگی کی مد میں منظور شدہ ضمنی گرانٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی اس طرح ہر فرد کو اوسطاً 23 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

اپنی پیش کردہ سمری میں وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اسٹیل ملز کی کمزور معاشی صورتحال کے باعث حکومت سال 2013 سے ملازمین کو خالص ماہانہ تنخواہ ادا کررہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 14 ہزار 753 ملازمین کے لیے انسانی وسائل کا کوئی منصوبہ تشکیل دیے بغیر جون 2015 میں تجارتی سرگرمیاں روک دی گئی تھیں، جس کے بعد 2019 تک ملازمین کی تعداد کم ہو کر 9 ہزار 350 رہ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیل مل کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں تاخیر، اسٹیک ہولڈرز نے وزیر اعظم کو خبردار کردیا

اس وقت پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو خالص تنخواہوں کی مد میں ادا کی جانے والی رقم 35 کروڑ روپے کے برابر ہے جسے اسٹیل ملز کے مالی اکاؤنٹس میں بطور قرض ایڈجسٹ کیا جاتا ہے یوں سال 2013 سے وفاقی حکومت تنخواہوں کی مد میں 34 ارب روپے جاری کر چکی ہے۔

قبل ازیں ای سی سی میں جمع کروائی گئی سمری کے مطابق ملک کی سب سے بڑی انڈسٹری کی ناکامی بدعنوانی، نااہلیت اور زیادہ لوگوں کو ملازمت دینے کی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔

پاکستان اسٹیل ملز جون 2015 سے اس وقت بند کردی گئی تھی جب بلز کی عدم ادائیگی کے باعث اس کی گیس سپلائی میں تیزی سی کمی کی گئی تھی، یہ بلز اس وقت نجی شعبے سے وابستہ ادارے کے ڈیفالٹ ہونے سے بہت کم تھے۔

پاک-چین انویسٹمنٹ بینک نے 2015 میں اعلان کیا تھا کہ 28 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری، بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور نئی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز، اپنی لوکیشن، مارکیٹ اور سہولیات کے ساتھ قابل نفع ادارہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔