افغانستان میں اب بھی غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، اقوام متحدہ

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں طالبان کو افغان دھارے میں لانے کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں طالبان کو افغان دھارے میں لانے کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی رواں ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنگ میں شکست اور تنہا کیے جانے سے افغانستان میں داعشکے عسکریت پسندوں کی طاقت کم ہوکر 200 کے قریب جنگجوؤں پر مشتمل تنظیم میں تبدیل ہوگئی ہے۔

داعش خراساں کے ایک دہائی قبل افغانستان میں داخل ہونے کے بعد سے ملک کا مشرقی صوبہ ننگرہار اس تنظیم کا مرکزی گڑھ رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ’ستمبر سے نومبر 2019 تک ننگرہار میں 7 اضلاع میں پھیلے داعش کے سرگرم کارکنوں کی تعداد ایک ہزار 750 اور 22 اضلاع میں کونسل کی قیادت سے کم ہوکر 200 جنگجوؤں کے قریب ہوگئی ہے‘۔

مزید پڑھیں: مشرقی افغانستان میں طالبان کے حملے میں 14 افغان فوجی ہلاک

اقوام متحدہ کے مبصرین اور ان کے رابطے میں افغان باشندوں کی تیار کردہ اس رپورٹ میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے پس منظر میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں طالبان کو افغان دھارے میں لانے کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’القاعدہ سے لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے طالبان کا انسداد دہشت گردی کے لیے ساتھ دینے سے عالمی برادری کو داعش کے خطرے سے نمٹنے میں اپنی کامیابی پر اعتماد ملے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا 'افغانستان میں 6 ہزار 500 کے قریب پاکستانیوں سمیت غیر ملکی جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو اپنے مقصد اور معاش کے حصول کے لیے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جس پر محتاط نگرانی کی ضرورت ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان سے مذاکرات کیلئے 'ہردم' تیار ہیں، سربراہ افغان مصالحتی کونسل

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان میں سے بیشتر پاکستانی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے وابستہ ہیں اور انہوں نے افغانستان میں اپنے اڈوں کو پاکستان کے اندر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

واضح رہے کہ دسمبر 2014 کو ٹی ٹی پی کے 6 دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا جس میں 132 بچوں سمیت 149 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عسکریت پسند گروہوں کے مشرقی افغانستان کے صوبے کنڑ، ننگرہار اور نورستان میں ٹھکانے ہیں جہاں وہ افغان طالبان کے سائے تلے کام کرتے ہیں۔