وزیر اعظم کا صوبائی دارالحکومتوں میں این سی او سی اجلاس منعقد کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

یہ احکامات وزیر اعظم نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے ۔ فائل فوٹو:اناطولو ایجنسی
یہ احکامات وزیر اعظم نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیے ۔ فائل فوٹو:اناطولو ایجنسی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے وفاق اور صوبوں پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے رابطوں کو بہتر کریں اور ہدایت کی کہ نیشنل کمانڈ اور آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس تمام صوبائی دارالحکومتوں میں بھی منعقد کیا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے وائرس کو روکنے کے لیے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ انتظامیہ کا تعاون بڑھے گا اور کورونا وائرس سے متعلقہ انتظامی اقدامات میں مزید بہتری آئے گی'۔

دریں اثنا ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 307 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور 66 اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا کیسز میں 40 فیصد کمی، 50 فیصد افراد وائرس سے صحتیاب ہوگئے

کورونا وائرس کیسز کی ملک میں مجموعی تعداد 2 لاکھ 39 ہزار 729 ہوگئی ہے اور ہلاکتیں 4 ہزار 954 ہوگئیں۔

اب تک اس وائرس سے مجموعی ایک لاکھ 40 ہزار 965 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر اور محرم کے دوران معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اور تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، وزیر معاشی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیئر اعجاز احمد شاہ، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، وزیر اعظم کے معاونین لیفٹیننٹ (ر) جنرل عاصم سلیم باجوہ اور ڈاکٹر شہباز گل، کورونا وائرس کے فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سلطان، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور وزیر اعظم آفس کے دیگر سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے مثبت نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کیسز کو مزید کم کرنے کے لیے انہیں اپنے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے انتظامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: این سی او سی کے اجلاس میں ملک گیر 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کے اقدام پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم کو حالیہ صورتحال، علاقائی منظرنامے، اسمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے مثبت نتائج، کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور بستر جبکہ عید الاضحی اور محرم کے دوران مہلک بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 شہروں کے 227 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوسرے ممالک کے تجربات سے پتا چلتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس طرح کے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد معاشی صورتحال بدتر ہونے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 شہروں کے 227 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دوسرے ممالک کے تجربات سے پتا چلتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور معاشی مشکلات کی وجہ سے اس طرح کے لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے بعد صورتحال بدتر ہوگئی اور اموات میں بھی اضافہ ہوا۔

اجلاس میں اس اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ عالمی سطح پر سخت لاک ڈاؤن کے عمل کے برخلاف پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی انتہائی کارآمد ثابت ہوئی اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں پر بھی بوجھ بہت حد تک کم ہوگیا ہے۔

انہیں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے کی مخصوص سہولیات والے بستروں کی تعداد 1500 ہوگئی ہے اور اگلے چند دنوں میں یہ 2500 تک پہنچ جائے گی۔