انڈونیشیا کا 'یوکلپٹس ہار' سے کورونا کے علاج کا دعویٰ

09 جولائ 2020

ای میل

یہ ہار یوکلپٹس کی اس قسم سے تیار کیا گیا ہے جس میں کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے، وزیر زراعت — فوٹو: بشکریہ اوڈیٹی سینٹرل
یہ ہار یوکلپٹس کی اس قسم سے تیار کیا گیا ہے جس میں کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے، وزیر زراعت — فوٹو: بشکریہ اوڈیٹی سینٹرل

دنیا کے دیگر ممالک جہاں مہلک کورونا وائرس کا علاج ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں وہیں انڈونیشیا کی وزارت زراعت کے دعوے نے سب کو حیران کردیا ہے۔

انڈونیشیا کی وزارت زراعت نے اس کی ماتحت ایجنسی کی جانب سے تیار کردہ یوکلپٹس سے بنے ہار پہننے کو کورونا وائرس کے حل کے طور پر سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق یہ نام نہاد 'انسداد وائرس ہار' انڈونیشیا کی وزارت زراعت کی ہیلتھ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی 'بالیبنگتان' نے تیار کیا ہے، جسے اگلے ماہ سے بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے گا۔

انڈونیشیا کے وزیر زراعت یاہرول یاسین لِمپو نے کہا کہ یہ ہار یوکلپٹس کی اس قسم سے تیار کیا گیا ہے جس میں کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کہ اس ہار کو صرف 15 منٹ پہننے سے 42 فیصد وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے جبکہ 30 منٹ پہننے سے اس کی تاثیر دگنی ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں کا کورونا وائرس ختم کرنے والا ایئرفلٹر تیار کرنے کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ یوکلپٹس کی 700 اقسام میں سے ہمارے لیب ٹیسٹ کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف ایک قسم کورونا وائرس کا خاتمہ کر سکتی ہے اور اس حوالے سے ہمیں پورا یقین ہے۔

بالیبنگتان کے سربراہ نے کہا کہ 'اگر کوئی سیاست دان اس معجزاتی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہوتا تو میں سمجھ سکتا تھا، لیکن صرف یاہرول یاسین ہی یوکلپٹس ہار کی تعریف نہیں کر رہے ہیں بلکہ اسے کورونا کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے اس ہار کو وزارت زراعت کے کورونا سے متاثرہ 20 ملازمین پر آزمایا اور انہیں اسے سونگھنے کا کہا جس کے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آئی اور انہوں نے مثبت رائے دی۔'

تاہم انڈونیشیا کے سائنسدانوں نے یوکلپٹس کی تاثیر کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے خلاف مضبوط دفاع کے لیے وٹامن ڈی ممکنہ طور پر موثر

ایجمان انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بایولوجی کے نائب ڈائریکٹر ہیرواتی سودویو نے جکارتہ پوسٹ کو بتایا کہ 'ہمیں معلوم ہے کہ دنیا اب تک اس بیماری کا علاج تلاش نہیں کر سکی ہے، اس لیے میرے خیال میں عقلمندی یہی ہے کہ گھبرائے ہوئے معاشرے میں مزید دعوے نہ پھیلائے جائیں۔'

بوگور ایگریکلچر یونیورسٹی کے شعبہ بایولوجی کے لیکچرار بیری جولیاندی کا کہنا تھا کہ 'عوام آسانی سے اس بات پر یقین کر سکتے ہیں وہ اس غیر سائنسی ہار سے وائرس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔'