پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کو 17 اگست تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2020

ای میل

یہ ہدایات الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ ماہ ایک فیصلے میں دی گئیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
یہ ہدایات الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ ماہ ایک فیصلے میں دی گئیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی کو حمتی رپورٹ 17 اگست تک جمع کروانے ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ ہدایات الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ ماہ ایک فیصلے میں دی گئیں۔

مذکورہ فیصلے کی نقل ڈان کے پاس موجود ہے جس میں کہا گیا کہ ’17 اگست کو کمیٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن فریقین کی جانب سے جمع کروائے گئے تمام ریکارڈ اور کمیٹی کی جناب سے فریقین، ان کے وکلا کی معاونت سے اسٹیٹ بینک پاکستان سے حاصل کیے گئے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد اس مسئلے کا فیصلہ کرے گا‘۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’ایک معتبر نتیجے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو الیکشن کمیشن کی معاونت کے لیے مکمل موقع دیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس پر رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کروانے کی ہدایت

الیکشن کمشین نے اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایت کی کہ ’فریقین کی جمع کروائی گئی درخواستوں کو فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن بھجوانے کے بجائے ممکنہ طور پر کم سے کم وقت میں اپنی حتمی رپورٹ کمیشن میں جمع کروائیں' کیوں کہ ’صورتحال تاخیر کا باعث ہے‘۔

قبل ازیں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کمیٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی دستاویزات اور اسٹیٹ بینک پاکستان سے حاصل کردہ بینک اسٹیٹمنٹس انہیں فراہم کرنے سے انکار پر متعدد اعتراضات اٹھائے تھے۔

درخواست گزار نے ایک درخواست میں شکایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فنڈ اور پاکستان بھیجی گئیں ترسیلات زر، پی ٹی آئی کے بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس اور ایک نجی بینک میں پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی رقم کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش نہیں دکھائی‘۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں احسن اقبال 2 جون کو الیکشن کمیشن طلب

اکبر ایس بابر کا مزید کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے بانی رکن ہیں اور ’قانون کے تحت پارٹی کے اکاؤنٹس تک رسائی کا حق رکھتے ہیں لیکن کمیشن نے انہیں قانونی رسائی دینے سے انکار کریا اور اس لیے درخواست گزار اسکروٹنی کے دھوکے کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

درخواست گزار نے کمیشن سے استدعا کی تھی کہ تمام ریکارڈ منگوا کر خود اسکروٹنی کرے یا اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایت کرے کہ ای سی پی کے حکم کی تاریخ سے 20 ہفتے کے اندر اپنی حقائق تلاشی کی رپورٹ جمع کروائے۔

ای سی پی اسکروٹنی کمیٹی نے بدھ کو بھی ایک اجلاس کیا لیکن اس میں معمولی سی پیشرفت ہوئی کیوں کہ اس کے اراکین حال ہی میں ریٹائر ہوگئے ہیں اور ان کے متبادل کا ابھی تک نوٹفکیشن نہیں ہوا جبکہ مذکورہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 15 جولائی کو ہوگا۔

علاوہ ازیں ڈان سے بات کرتے ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے حکم کو ایک قدم آگے قرار دیا۔

فارن فنڈنگ کیس

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کے خلاف پی ٹی آئی کی اپیل مسترد

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے۔