شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشنز پر حکومت کٹہرے میں

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

وکیل نے کہا کہ کمیشن نے اپنی قانونی حیثیت کا جائزہ لیے بغیر شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کیں—فائل فوٹو: ڈان
وکیل نے کہا کہ کمیشن نے اپنی قانونی حیثیت کا جائزہ لیے بغیر شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کیں—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کی جانب سے دائر کردہ ایک انٹرا کورٹ اپیل میں عوامی پیسے کے غلط استعمال اور کارٹلائزیشن کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری رپورٹ کا ریکارڈ طلب کرلیا جبکہ شوگر انکوائری کمیشن کی تشکیل کے ایک علیحدہ نوٹیفکیشن نے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ایس ایم اے کے علاوہ جہانگیر ترین ان کے بیٹے علی ترین، سلمان شہباز، مخدوم عمر شہریار، سردار علی رضا خان دریشک اور دیگر نے شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو چیلنج کیا تھا۔

چینی کی صنعت کی نمائندگی کرنے والے وکیل مخدوم علی خان نے جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا تھا کہ حکومت نے 19 مارچ کو 6 رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا لیکن 25 مارچ کو انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ایک رکن کو شامل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے روک دی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے مطابق کمیشن کا قیام قانون کے مطابق نہیں تھا کیوں کہ اس کا نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی قانونی حیثیت کا جائزہ لیے بغیر شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کیں اور رپورٹ حکومت کو جمع کروادی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے 21 مئی کو رپورٹ منظور کی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کو رپورٹ میں پیش کردہ تجاویز پر عملدرآمد کا اختیار دیا گیا۔

خیال رہے کمیشن نے شوگر ملز مالکان کے خلاف قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کے تحت مجرمانہ کیسز کے اندراج کی تجویز دی تھی۔

مزید پڑھیں: شوگر کمیشن کیس:اٹارنی جنرل کی ملز مالکان کیخلاف منصفانہ، غیر جانبدار کارروائی کی یقین دہانی

وکیل نے کہا کہ شوگر انڈسٹری نے 15 جون کو انکوائری رپورٹ چیلنج کی تھی اور جسٹس اطہر من اللہ نے 20 جون کو رپورٹ کی توثیق کر کے درخواست نمٹا دی تھی۔

وکیل نے دلیل دی کہ 20 جون کو ہونے والی سماعت میں نوٹیفکیشن کے سرکاری گزیٹ میں شائع ہونے کے معاملے کی نشاندہی کی گئی تھی اور نوٹیفکیشن 6 اور 7 جولائی کو گزیٹ میں شائع ہوا۔

6 جولائی کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن کے اراکین میں وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے واجد ضیا، انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے گوہر نفیس، انٹیلیجنس بیورو کے احمد کمال، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے بلال رسول، اسٹیٹ بینک پاکستان کے ماجد حسین چوہدری اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈائریکٹریٹ آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹگیشن کے بشیر اللہ خان شامل تھے۔

بعدازاں 7 جولائی کو شائع ہونے والے نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کے نمائندے کرنل فیصل گل کو انکوائری کمیشن کا رکن بنایا گیا۔

خیال رہے کہ جب عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر سے نوٹیفکیشن کے سرکاری گزیٹ میں شائع ہونے کے بارے میں دریافت کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ نوٹفکیشن شائع ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سے استفسار کیا کہ کیا تھا آپ سرکاری گزیٹ میں نوٹیفکیشن شائع ہونے کے حوالے سے پر یقین ہیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی مجھے اشاعت کے بارے میں یقین ہے۔

دوسری جانب وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ معاملے کے فیصلے تک عدالت انکوائری رپورٹ کو معطل کردے۔

تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں اسی سلسلے میں ایک کیس میں بھی یہی مؤقف اپنایا تھا۔

چنانچہ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کو اس معاملے میں عدالت کی معاونت کے لیے 15 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا اور طارق محمود کو وہ دستاویز پیش کرنے کی ہدایت کی جس سے ظاہر ہو کہ وفاقی کابینہ نے اس معاملے پر غور کیا تھا۔

خیال رہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا شوگر ملز پر کارٹلائزیشن اور عوامی پیسے کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا تھا جس کے نتیجے میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ملز مالکان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی سفارش کی تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کا شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم

تاہم ملز مالکان سے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 11 جون کو چینی کی صنعت کے نمائندوں کی جانب سے اسے 70 روپے فی کلو پر فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد عدالت نے 10 دن کے لیے چینی رپورٹ پر عمل درآمد پر مشروط حکم امتناع جاری کردیا۔

بعدازاں اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی منصفانہ اور غیر جانبدار ہوگی۔

چنانچہ 20 جون کو اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی روکنے کے لیے شوگر ملزم ایسوسی ایشن اور ملز مالکان کی جانب سے دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

ساتھ ہی عدالت نے چینی کمیشن رپورٹ پر کارروائی کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمیشن کی سفارشات پر وفاقی کابینہ کی جانب سے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو اپنے اختیارات تفویض کرنا سپریم کورٹ کے طے کردہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس قومی احتساب آرڈیننس کے تحت نیب کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں چینی انکوائری کمیشن کی تشکیل درست قرار دی جبکہ حکومتی ارکان کو چینی کیس پر غیر ضروری بیان بازی سے روکتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ چینی کیس میں تمام فریقین منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنائیں۔

چینی بحران کی تحقیقات اور کارروائی کا معاملہ

یاد رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: شوگر انکوائری رپورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع میں توسیع

بعدازاں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔