شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی وفاقی حکومت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور مقدمہ 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی زیر سربراہی دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں شوگر کمیشن رپورٹ پر کارروائی روکنے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: شوگر کمیشن رپورٹ پر سندھ ہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی مقدمے میں فیصلہ دیا ہے، کیا سندھ ہائی کورٹ کے علم میں یہ بات نہیں لائی گئی، شوگر ملز کی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے عبوری حکم میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر نہیں ہے، کمیشن رپورٹ میں شوگر ملز پر بہت سے الزامات سامنے آئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کمیشن کو شوگر ملز کو مؤقف کا موقع نہیں لینا چاہیے تھا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے سامنے مؤقف دینے کی ضرورت نہیں تھی۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ تاحال کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا اور تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو فعال کر دیا گیا ہے، کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے مترادف ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزید کہا کہ کیا کمیشن کی رپورٹ پر شوگر ملز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا؟ شوگر کمیشن کی رپورٹ پر مل مالکان کی تشویش کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کا شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم

پاکستان شوگر ایسوسی ایشن کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شوگر مل ایسوسی ایشن نے ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، کمیشن کی رپورٹ میں محض سفارشات دی گئی ہیں، کسی رپورٹ میں متاثر کن فائنڈنگ آئے تو دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بظاہر کمیشن نے فیکٹ فائینڈگ کی، کمیشن نے ڈیل اور بہت سی چیزوں کی نشاندہی کی، کمیشن کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو کارروائی کے لیے بھیجی گئی ہے اور اگر ریاستی ادارے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں تو اپنا مؤقف وہاں پیش کریں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی کسی شوگر مل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق شوگر مل والوں کو نہیں سنا گیا، چینی کی قیمتیں بڑھنے پر پورے ملک میں شور اٹھا، کابینہ نے رپورٹ متعلقہ اداروں کو بھجوا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ رپورٹ کو کالعدم قرار دیا جائے، متعلقہ ادارے پھر سے صفر سے کام شروع کریں، اس طرح تو معاملے پر 10سال لگ جائیں گے۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن نے چینی کمیشن کی رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دے دیا

مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کیا کمیشن قانون کے مطابق بنایا گیا، دیکھنا ہوگا کہ کیا کمیشن غیر جانبدار تھا، دیکھنا ہوگا کہ کیا کمیشن نے شوگر ملز مالکان کا مؤقف سنا کیونکہ اگر ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تو عدالتیں مداخلت کرسکتی ہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ شوگر مل مالکان کو متاثر کیسے کر سکتی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کمیشن کی تشکیل قانون کے مطابق تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کئی مواقع پر کمیشن بنا چکی لیکن رپورٹس سامنے نہیں آئیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ عدالت کمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دے، شوگر کمیشن رپورٹ سے شوگر مل والوں کے حقوق کیسے متاثر ہوئے؟

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ کچھ شوگر مل مالکان خیبر پختونخوا اور کچھ بلوچستان ہائی کورٹ چلے گئے، کچھ شوگر مل مالکان نہیں چاہتے کہ رپورٹ پر اتھارٹیز کارروائی کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ محض کمیشن رپورٹ ہے، اس پر حکم امتناع کیوں لینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: شوگر انکوائری رپورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع میں توسیع

شوگر مل مالکان کے وکیل مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایگزیکٹو احکامات کو مالکان نے مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، ہائی کورٹس سے مالکان کا رجوع کرنا معمول سے ہٹ کر نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے پاس وہی مل مالکان گئے جو اسلام اباد ہائی کورٹ گئے، ایک ہی ایسوسی ایشن دو مختلف ہائی کورٹس سے کیسے رجوع کرسکتی ہے۔

اس پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل ہوا تو سارا کیس ہی ختم ہوجائے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ سے 12 شوگر ملز نے رجوع کر رکھا ہے، ہائی کورٹ کا حکم درخواست گزار 12 شوگر ملز کی حد تک ہے، درخواست گزار شوگر ملز کو چھوڑ کر باقی کیخلاف کارروائی جاری رہے گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے بعد شوگر مل مالکان نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، شوگر ملز مالکان کے حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں سیاسی اتحادیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، تسلیم کرتا ہوں کہ کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے روک دیا

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کہہ دیا ہے کہ کسی ادارے کو معاملے پر ہدایات نہ دیں اور رپورٹ پر اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے، وفاقی کابینہ نے میری سفارش پر اداروں کو دی گئی ہدایات واپس لے لیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ صورتحال حکومت نے خود پیدا کی ہے، حکومت تحقیقات کروا کر مقدمات بنوا دیتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے صورتحال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ملی بھگت کیسے ہوئی، 11سال سے مسابقتی کمیشن کا حکم امتناع چل رہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شاید ایف بی آر سمیت کئی اداروں میں اہلیت کا فقدان ہے، کمیشن کے اراکین کے نام سب کے سامنے تھے تو ان کو کسی نے چیلنج کیوں نہیں کیا، کمیشن کی تشکیل غیر قانونی تھی تو وہ پہلے چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے ارکان شوگر ملز کے خلاف کیوں جانبدار ہوں گے، گزٹ نوٹیفکیشن اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی چیز خفیہ نہ رہے، شوگر کمیشن کی تشکیل کی تشہیر پورے میڈیا میں ہوئی۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کرچکے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلہ کرنے دیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کمیشن کی رپورٹ سے جان نہیں چھڑوا سکتی، کمیشن رپورٹ غیر قانونی قرار دیں تو پھر بھی ختم نہیں ہوگی، ریگولیٹری اداروں کو کام سے نہیں روکا جاسکتا اور کمیشن رپورٹ کالعدم ہونے سے بھی شوگر ملز کو کچھ نہیں ملنا۔

یہ بھی پڑھیں: شوگر ملوں کو دی گئی سبسڈی کی بنیاد ہی غلط تھی، شہزاد اکبر

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریگولیٹری ادارے کمیشن رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر بھی کارروائی کر سکتے ہیں، شوگر ملز کے پاس ریگولیٹری اداروں میں اپنا دفاع کرنے کا پورا حق موجود ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ سے شوگر ملز کی ساکھ کو نقصان پہنچا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں افراد کی ساکھ کا ذکر ہے لیکن کسی ایسوسی ایشن کا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کا حکم معطل کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب ممکن نہیں کہ کچھ ملزمان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے اور باقیوں کے خلاف کارروائی جاری رہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جس پر مخدوم علی خان نے وضاحت دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی ادارہ شوگر ملز کے خلاف حکم جاری نہیں کرے گا، ادارے رپورٹ کا حوالہ دیے بغیر کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، اگر ادارے آزادانہ کارروائی کرنے والے ہوتے تو کمیشن کی نوبت ہی نہ آتی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ بہت بڑا ایشو ہے جس سے لوگ متاثر ہوئے ہیں جس پر چیف جسٹس نے بھی ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چینی عوامی نوعیت کا ایشو ہے۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ عوام پر ایک طبقے کا قبضہ ہوگیا ہے، حکومت اگر ریاستی اداروں کی مدد سے اس چیز کو نہیں روک سکتی تو پھر یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت چینی بحران کی فرانزک رپورٹ عوام کے سامنے لے آئی

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے قیام کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، کسی بھی انکوائری کمیشن کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری ہونا لازمی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کیا شوگر کمیشن رپورٹ شائع ہو چکی ہے؟ جس پر وکیل مخدوم علی نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے شوگر کمیشن رپورٹ تسلیم کرلی ہے۔

چیف جسٹس نے پھر سوال کیا کہ کیا شوگر کمیشن رپورٹ بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہے؟ جس پر شوگر ملز کے وکیل نے جواب دیا کہ کمیشن ارکان پر جرح کے بغیر رپورٹ بطور ثبوت استعمال نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کی حیثیت صرف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہے اور ہو سکتا ہے گزٹ نوٹیفکیشن کسی دراز میں موجود ہو۔

عدالت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا فیصلہ معطل کرنے کی حکومتی استدعا مسترد کرتے ہوئے مقدمہ تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے آئندہ سماعت تک سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکلا سے تحریری دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 14 جولائی تک ملتوی کردی۔

چینی بحران رپورٹ

واضح رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: شوگر کمیشن کیس:اٹارنی جنرل کی ملز مالکان کیخلاف منصفانہ، غیر جانبدار کارروائی کی یقین دہانی

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔

بعد ازاں 5 اپریل کو وزیر اعظم عمران نے عوام کو یقین دہانی کروائی تھی کہ 25 اپریل کو اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کا تفصیلی نتیجہ آنے کے بعد گندم اور چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تاہم فرانزیک رپورٹ میں تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر اسے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا جہاں اسے عوام کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی تھی۔

فرانزک رپورٹ کے بارے میں معاون خصوصی برائے احتساب نے بتایا کہ چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، علی خان ترین کے 13 فیصد، احمد محمود صاحب کے 26 فیصد شیئرز ہیں اور یہ واحد کمپنی ہے جس میں 24 فیصد شیئر عوام کا ہے، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے، اوور انوائسنگ اور انڈر رپورٹنگ بھی پائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملز مالکان چینی 70 روپے کلو فروخت نہیں کررہے، حکومت کا عدالت میں اعتراض

7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا تھا جسے وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ ہائی کورٹ سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ چینی کی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر حکم امتنازع جاری کرچکی تھی۔

تاہم 20 جون کو اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع میں شوگر کمیشن کو قانونی اور اس کے اقدامات اور رپورٹ کی توثیق کردی تھی۔