شوگر کمیشن کیس:اٹارنی جنرل کی ملز مالکان کیخلاف منصفانہ، غیر جانبدار کارروائی کی یقین دہانی

اپ ڈیٹ 20 جون 2020

ای میل

عدالت نے گنے کے کاشتکاروں کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے شکایات صوبائی حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے گنے کے کاشتکاروں کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے شکایات صوبائی حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: چینی بحران کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان آج (ہفتہ کو) ممکنہ طور پر اپنے دلائل مکمل کرلیں گے۔

خیال رہے کہ رپورٹ میں شوگر ملز پر کارٹلائزیشن اور عوامی پیسے کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا تھا جس کے نتیجے میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران شوگر ملز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 6 رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا لیکن رپورٹ پر 7 اراکین کے دستخط ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ یہ اب بھی ایک معمہ ہے کہ انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے اضافی رکن کو کیسے کمیشن میں شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملز مالکان چینی 70 روپے کلو فروخت نہیں کررہے، حکومت کا عدالت میں اعتراض

عدالت نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) اور جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین، خسرو بختیار کے بھائی، سلمان شہباز اور دیگر کے شوگر ملز کی جانب سے پیش وکیل کے دلائل سنے اور اٹارنی جنرل کو ہفتہ کو (آج) دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب عدالت نے گنے کے کاشتکاروں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے شکایات صوبائی حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کے دوران عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد پر حکم امتناع میں ہفتہ کے روز تک توسیع کردی۔

خیال رہے کہ رپورٹ میں ملک میں چینی کے بحران قیمتوں میں اضافے پر شوگر ملز مالکان کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو شوگر کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد سے روک دیا

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جس ادارے کو شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کرنی ہے وہ انکوائری کمیشن کا حصہ ہے اور انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا ہوگا تو مزید کارروائی میں کس طرح غیر جانبدار رہ سکتے ہیں۔

تاہم اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی منصفانہ اور غیر جانبدار ہوگی۔

انہوں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو کمیشن کا حصہ مالیاتی جرائم کی تحقیقات میں مہارت کی وجہ سے بنایا گیا۔

اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ انکوائری کمیشن نے رپورٹ حکومت کو خوش کرنے کے لیے تیار کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے چینی کی صنعت کے میڈیا ٹرائل کے ذریعے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ منصفانہ کارروائی ممکن نہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے معاونین شوگر ملز مالکان کو ’مافیا‘ کہتے ہیں اور اس صنعت کے خلاف تمام کارروائیاں ’امتیازی‘ اور ’جانبدار‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چینی بحران رپورٹ: 'جہانگیر ترین، مونس الہٰی،شہباز شریف فیملی کی ملز نے ہیر پھیر کی'

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 11 جون کو چینی اسکینڈل کی تحقیقات کرنے والے شوگر کمیشن کی سفارشات جس میں ملز مالکان کے خلاف مجرمانہ مقدمے کے اندراج پر زور دیا گیا تھا، پر اس شرط کے ساتھ حکم امتناع جاری کیا تھا کہ وہ عام آدمی کو 25 جون تک 70 روپے کلو میں چینی فروخت کریں گے۔

شوگر کمیشن کی رپورٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزاروں میں پاکستان شوگرملز ایوسی ایشن (پی ایس ایم اے)، جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کی زیر ملکیت شوگر ملز، سلیمان شہباز شریف، مخدوم عمر شہریار، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سردار علی رضا خام دریشک اور دیگر شامل تھے۔

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ

یاد رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی اپنی رپورٹ 4 اپریل کو عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

دستاویز کے مطابق سال 17-2016 اور 18-2017 میں چینی کی پیداوار مقامی کھپت سے زیادہ تھی اس لیے اسے برآمد کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 52 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ سال 17-2016 میں ملک میں چینی کی پیداوار 70 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی اور سال 18-2017 میں یہ پیداوار 66 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن تھی۔

تاہم انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں: 'دھمکیاں دینے کے باوجود شوگر ملز ایسوسی ایشن کو سنا گیا'

بعدازاں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ 21 مئی کو سامنے لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، دو کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکاؤنٹنگ کی مد میں فراڈ ہوا ہے اور گنے کی خریداری میں انڈر رپورٹنگ کی جارہی ہے، پاکستان میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنی فروخت ہوتی ہے اس میں 25 سے 30 فیصد کا فرق آرہا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا تھا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا تھا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009 میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔

شہزاد اکبر نےمزید کہا تھا کہ سب سے بڑا گروپ جے ڈی ڈبلیو ہے جن کا چینی کی پیداوار میں 20 فیصد کے قریب حصہ، آر وائے کے کا 12فیصد، المعیذ گروپ کا 6.8 فیصد، تاندیا والا کا 5 فیصد، شریف گروپ کا 4.5 فیصد اور اومنی گروپ کا 1.6 فیصد حصہ ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا تھا کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، علی خان ترین کے 13 فیصد، احمد محمود صاحب کے 26 فیصد شیئرز ہیں اور یہ واحد کمپنی ہے جس میں 24 فیصد شیئر عوام کا ہے، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے، اوور انوائسنگ اور انڈر رپورٹنگ بھی پائی گئی۔

چنانچہ 7 جون کو وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔