کاشت کاروں کو درپیش مسائل پر حکومت اور اپوزیشن ہم آواز

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

حکومت نے بجلی کے ٹیرف، فیول ایڈجسمنٹ چارجز واپس لینے اور دیگر ٹیکسز کی مد میں 62 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
حکومت نے بجلی کے ٹیرف، فیول ایڈجسمنٹ چارجز واپس لینے اور دیگر ٹیکسز کی مد میں 62 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن قومی اسمبلی میں کاشت کاروں کے معاملے پر ہمنوا نظر آئی اور وزیراعظم پر زور دیا کہ زرعی شعبے کو تحفظ دیں جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسپیکر اسد قیصر نے زرعی شعبے پر بحث کا آغاز کیا اور معاملہ تفصیلی تبادلہ خیال اور ٹیوب ویلز کے بجلی کے کنیکشنز، سبسڈیز اور ٹیکس مسائل دور کرنے اور ایک حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے کہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ارسال کردیا۔

پاکستان کے زرعی شعبے کا بھارت سے موازنہ کرتے ہوئے کچھ اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک زراعت کو 100 فیصد سبسڈی دے رہا ہے جس کے نتیجے میں بھارت زرعی اشیا میں نہ صرف خود کفیل ہوگیا ہے بلکہ انہیں برآمد بھی کررہا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے بجلی کے ٹیرف، فیول ایڈجسمنٹ چارجز واپس لینے اور دیگر ٹیکسز کی مد میں 62 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے 100 ارب روپے کے زرعی پیکج کی منظوری دے دی

ایوان کو بتایا کہ حکومت نے زرعی شعبے کو بجلی کے فی یونٹ پر 5 روپے 35 پیسے کی سبسڈی دی ہے لیکن فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز اور ٹیکسز کی مد میں کسانوں کو بجلی 10 روپے فی یونٹ میں مل رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ وزیراعظم کے سوا کوئی بھی کسانوں کو ریلیف نہیں دے سکتا بالخصوص جب وفاقی بجٹ 21-2020 میں زرعی شعبے کے لیے درکار سبسڈی کی مد میں کچھ بھی مختص نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر 29 ارب روپے کی سبسڈی بجٹ میں ہی شامل نہیں تو وزارت خزانہ کس طرح زرعی شعبے کے لیے سبسڈی کی رقم جاری کرسکتی ہے؟

دوسری جانب وزیر توانائی نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں وزیراعظم نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وفاقی وزیر خوراک کو کاشت کاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آؤٹ آف دی باکس حل تلاش کرنے کی ہدایت کی تھی، ساتھ ہی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ وہ ہر قیمت پر زرعی شعبے کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مالی سال 20-2019 میں زراعت کی کارکردگی ’قابل ذکر‘ رہی

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم نے کابینہ نے 2 اراکین کو 3 ہفتوں میں حل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے پر وزیراعظم سے ذاتی طور پر بات کریں۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی سردار طالب حسن نکئی نے ٹیوب ویلز کی اوور بلنگ کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور ایوان کو کاشت کاروں کو دریش مسائل سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے بجلی کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے وہ زرعی مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے سے قاصر ہیں اور انہیں ٹیوب ویلز کا کنیکشن 7 سے 8 ماہ میں بھی نہیں ملتا جس سے ان کی فصل متاثر ہوتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا تنویر حسین نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت میں کاشت کاروں کو مفت بجلی اور کھاد پر 50 فیصد سبسڈی فراہم کی جاتی ہے اور انہیں اچھے معیار کے بیج بھی فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ پاکستان کے ریسرچ انسٹیٹیوشن اچھے معیار کے بیج تیار کرنے میں ناکام ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے

تاہم پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی نواب شیر نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے سن رہے ہیں کہ زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن اس شعبے کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔

ایڈز اور ایچ آئی وی کیسز

علاوہ ازیں ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس پر سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے کیسز میں اضافے کے باوجود حکومت اس کا پھیلاؤ روکنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے گلوبل ایڈ پروگرام کے تحت اب تک کتنی غیر ملکی فنڈنگ حاصل کی ہے اور کتنی خرچ کی ہے؟ ساتھ ہی وہ بولیں کہ ’صرف پاکستان اور فلپائن ایڈز سے بری طرح متاثرہ ممالک ہیں جہاں یہ شرح 57 فیصد ہے‘۔

جس پر پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ پاکستان میں ایڈز کے ایک لاکھ 83 ہزار مریض ہیں جن میں سے 25 ہزار رجسٹرڈ ہیں کیوں کہ زیادہ تر مریض اس مرض کو چھپاتے ہیں۔