نیدرلینڈز کا 6 سال قبل جہاز گرانے کا مقدمہ روس کے خلاف درج کرانے کا اعلان

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

ملائیشیا کا مسافر جہاز 6 برس قبل یوکرین میں گرکرتباہ ہوگیا تھا جس میں اکثر نیدرلینڈز کے شہری تھی—فائل/فوٹو:رائٹرز
ملائیشیا کا مسافر جہاز 6 برس قبل یوکرین میں گرکرتباہ ہوگیا تھا جس میں اکثر نیدرلینڈز کے شہری تھی—فائل/فوٹو:رائٹرز

نیدرلینڈز کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 6 برس قبل یوکرین میں میزائل سے تباہ ہونے والے ملائیشیا کے مسافر جہاز ایم ایچ 17 کا مقدمہ یورپی عدالت میں روس کے خلاف درج کرایا جائے گا۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق نیدرلینڈز حکومت نے کہا کہ مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہونے والے ملائیشیا کے مسافر جہاز کا مقدمہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں درج کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ملائیشیا: لاپتہ طیارے کے تمام مسافر مردہ قرار

یاد رہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 298 مسافروں میں سے دو تہائی کا تعلق نیدرلینڈز سے تھا اور 17 جولائی 2014 کو اس حادثے کا ذمہ دار روس کو قرار دیا گیا تھا۔

روس نے حادثے میں کسی صورت ملوث ہونے کے تاثر کو مسلسل رد کردیا تھا۔

نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ اسٹیف بلوک نے پارلیمنٹ کو ایک خط میں کہا کہ 'ہماری کوششوں کا نیا قدم سچ، انصاف اور احتساب کو قائم کرنا ہے'۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ حکومت ایم ایچ 17 سے متعلق تمام معلومات عدالت کو فراہم کرے گی اور انفرادی طور پر جمع کی گئیں درخواستوں میں تعاون کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایم ایچ 17 مسافر جہاز نیدرلینڈز سے کوالالمپور جارہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں ماسکو کے حامی باغیوں کے علاقے سے فائر کیے گئے میزائل سے نشانہ بنا کر مار گرایا گیا تھا۔

جہاز میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

نیدرلینڈز کی سربراہی میں بین الاقوامی مشترکہ تحقیقات ٹیم (جے آئی ٹی) نے گزشتہ برس کہا تھا کہ جہاز کو نشانہ بنانے والا لانچر سرحد پار سے روسی فوج کے بیس سے آیا تھا۔

مزید پڑھیں:ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

جے آئی ٹی نے 4 مشتبہ افراد کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا تھا اور نیدرلینڈز میں ان کی عدم موجودگی میں رواں برس کے اوائل میں ٹرائل بھی شروع کیا گیا تھا۔

جہاز کو نشانہ بنانے میں ملوث مشتبہ افراد میں تین کا تعلق روس اور ایک کا یوکرین سے بتایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے میزائل نظام کا بندوبست کیا تھا۔

چاروں مشتبہ افراد تاحال مفرور ہیں اور خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ سارے ملزمان روس میں موجود ہیں۔

نیدرلینڈز کی حکومت کا نئی عدالت میں مقدمہ درج کرانے کے اعلان کے باوجود کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ ایم ایچ 17 کے معاملے پر مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

قبل ازیں ایک سال قبل نیدرلینڈز اور روس کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے، جس میں آسٹریلیا بھی شامل تھا۔