کراچی میں شدید گرمی کے بعد تیز بارش، کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق

اپ ڈیٹ 07 اگست 2020

ای میل

وزیراعلیٰ سندھ نے وزرا کو آج سے 9 اگست تک اپنے اضلاع میں رہنے کی ہدایت کی—تصویر: ٹوئٹر
وزیراعلیٰ سندھ نے وزرا کو آج سے 9 اگست تک اپنے اضلاع میں رہنے کی ہدایت کی—تصویر: ٹوئٹر

کراچی میں محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سے ایک روز قبل ہی بادل برس پڑے جس کے بعد مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں جمعہ اور ہفتہ کے روز تیز بارش ہونے کی پیش گوئی کی تھی اور اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا تھا۔

تاہم جمعرات کی دوپہر 12 بجے کے قریب کراچی کے علاقے گلشن معمار، بفرزون، ناظم آباد میں کچھ دیر کے لیے بارش برسی اور سہ پہر کو یہ سلسلہ شہر کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل گیا۔

— فوٹو: اے ایف پی
— فوٹو: اے ایف پی

گلستان جوہر میں واقع راحیل آرکیڈ میں 28 سالہ صلاح الدین کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا، ان کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح ہسپتال منتقل کی گئی۔

آوارای ٹاور ہوٹل کے قریب دوسرے حادثے میں 30 سالہ انور پر بِل بورڈ گر گیا جس سے ان کے سر پر گہری چوٹ آئی، انہیں انہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

محکمہ موسمیات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آج سب سے زیادہ بارش فیصل بیس میں 56 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں جمعہ اور ہفتہ کو موسلادھار بارش کی پیش گوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

اس کے بعد صدر میں 46 ملی میٹر، جوہر اور یونیورسٹی روڈ میں 38.2 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ میں 37.5 ملی میٹر، سرجانی میں 19 ملی میٹر، مسرور بیس میں 14.5 ملی میٹر، کیماڑی میں 12.5 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 10.5 ملی میٹر، ناظم آباد میں 10 ملی میٹر، جناح ٹرمینل میں 9.8 ملی میٹر، لانڈھی میں 8.7 ملی میٹر اور گلشن حدید میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

بارش کے باعث شہر کی بڑی شاہراہیں اور سڑکیں زیر آب آگئیں جس کی وجہ ٹریفک جام ہوگیا اور سفر کرنے والوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بارش کے بعد شارع فیصل پر پانی جمع ہوگیا، اس کے علاوہ گلشن اقبال میں نیپا اور بیت المکرم مسجد کے اطراف میں بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

اس کے علاوہ تیز بارش ہوتے ہی حسب معمول شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔

بارش کے پیشِ نظر حکومت سندھ الرٹ

قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ موسمیات کی مون سون ایڈوائزری جاری کی تھی جس کے مطابق آج سے کراچی، حیدرآباد، میر پورخاص کے ڈویژنز میں شروع ہونا تھا۔

اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام وزرا، معاون خصوصی، اراکین اسمبلی اور دیگ منتخب نمائندوں کی مختلف اضلاع میں ڈیوٹی لگا دیں جبکہ وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ رین ایمرجنسی کے انچارج ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں موسلا دھار بارش، متعدد علاقوں میں بجلی حسب روایت غائب

وزیراعلیٰ سندھ نے وزرا کو آج سے 9 اگست تک اپنے اضلاع میں رہنے کی ہدایت کی اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وزیر بلدیات نے آج سے تمام لوکل باڈیز کو صوبے بھر میں الرٹ کردیا۔

چنانچہ ترجمان حکومت سندھ بذات خود بارش کے باعث سڑکوں پر نکاسی آب کی صورتحال کا جائزہ لیتے نظر آئے۔

دوسری صوبائی وزیر بلدیات نے کے ایم سی، ڈی ایم سیز، واٹر بورڈ ، واسا اور دیگر اضلاع کی مقامی حکومتیں کو اپنے متعلقہ اسٹاف کو متحرک رکھنے اور حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن کے اضلاع عوام کی شکایات کے ازالے کے لیے ضروری مشینری چوکنگ پوائنٹس پر پہنچانے کی ہدایت کی۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے دعویٰ کیا کہ بارشوں کے نئے اسپیل کے حوالے سے حکومت سندھ مکمل طور پر تیار ہے اور تمام اضلاع کی حدود میں مستقل طور پر رین ایمرجنسی نافذ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے اور سندھ حکومت مشترکہ طور پر سر انجام دے رہے ہیں اور چوکنگ پوائنٹس اور انڈر پاسز پر خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں تیسرے روز بھی بارش، کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق

یاد رہے کہ کراچی میں جولائی کے وسط میں ہونے والی بارشوں کے بعد شہر کی صورتحال ابتر ہوگئی تھی، کئی ندی نالے کچرے سے بھرے ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد ابل پڑے تھے اور شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر حکومت سندھ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، بعدازاں وزیراعظم نے صورتحال کا خصوصی نوٹس لیتے ہوئے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) اور پاک فوج کو کراچی میں صفائی کے اقدامات کا حکم دیا تھا۔

چنانچہ عید کی چھٹیوں کے بعد ہی این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے شہر کے 3 بڑے نالوں سے بڑی حد تک کچرا نکال کا ٹھکانے لگا دیا ہے۔