ٹک ٹاک کے پاکستانی صارفین کے لیے اردو میں کمیونٹی گائیڈلائنز جاری

06 اگست 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

ٹک ٹاک ایسی سوشل نیٹ ورکنگ ایپ ہے جو آج لگ بھگ تمام نوجوانوں میں بہت مقبول ہے اور پاکستان میں بھی اس کے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہوگی۔

مگر پاکستان ان 5 سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے جہاں جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران نامناسب مواد پر لاکھوں ویڈیوز کو ٹک ٹاک سے ہٹایا گیا۔

پاکستانی صارفین کو اپنی کمیونٹی گائیڈلائنز سے آگاہ کرنے کے لیے ٹک ٹاک کی جانب سے ان پالیسیوں کو اردو زبان میں بھی جاری کیا ہے۔

ان گائیڈ لائنز میں صارفین کو بتایا گیا کہ ٹک ٹاک میں وہ کس قسم کی ویڈیوز کو اپ لوڈ کرسکتے ہیں اور کس قسم کے مواد کی اجازت نہیں ہے۔

کمپنی کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران ایسا مواد پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا جو پالیسیوں کے خلاف تھا جبکہ مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کومعطل یا بین بھی کیا گیا۔

ٹک ٹاک کی کمیونٹی گائیڈلائنز درج ذیل ہیں۔

کمپنی کے مطابق مواد کی جانچ پڑتال کی پالیسیوں پر عملدرآمد مختلف ٹیکنالوجیز اور اور ماڈریشن اسٹریٹیجز(moderation strategies) کے امتزاج سے کیا جاتا ہے ، تاکہ مسائل پیدا کرنے والے مواد اور اکاؤنٹس کی نشاندہی،اُن کا جائزہ اور مناسب سزائیں دی جاسکیں۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں ٹک ٹاک کے سسٹمز خود کار طریقے سے مواد کی ایسی مخصوص اقسام کی نشاندہی کرتے ہیں جو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہو اور اس طرح فوری طور پر ایکشن لینا ممکن ہوتا ہے، تاکہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔

یہ سسٹم ایسی چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جن کا ایک مخصوص پیٹرن ہو یا ان میں رویوں سے متعلق سگنل موجود ہو تاکہ ممکن طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی نشاندہی کی جا سکے۔

کمپنی کا کہنا تھا 'آج کی ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانسڈ نہیں کہ ہم پالیسیوں کے نفاذ کے لیے خود پر انحصار کرسکیں'۔

مثال کے طور پر، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کوئی ویڈیو گائیڈ لائنز کے خلاف تو نہیں ، اس کا سیاق و سباق اہم ہوتا ہے۔

لہٰذا، ٹک ٹاک کے پاس تربیت یافتہ ماڈریٹرز کی ٹیم موجود ہے جو مواد کا جائزہ لینے اور اُسے ہٹانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

بعض معاملات میں، یہ ٹیم تیاری کے مراحل میں موجود مواد یا خلاف ورزی کا انداز رکھنے والے مواد، مثلاً خطرناک چیلنجز یا نقصان دہ غلط اطلاعات،کو ہٹا دیتی ہے۔

ماڈریشن کے لیے ٹک ٹاک کی ٹیم ایک اور طریقہ بھی استعمال کرتی ہے جس میں اس کے استعمال کرنے والوں کی جانب سے موصول ہونے رپورٹیں استعمال کرتی ہے۔

اس کے لیے ایپ کے اندر ہی ایک سادہ رپورٹنگ فیچر موجود ہے جس کے ذریعے ٹک ٹاک استعمال کرنے والے ممکن طور پر غیر مناسب مواد یا اکاؤنٹ کے بارے میں ٹک ٹاک کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔

اپنی حالیہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں ٹک ٹاک ایسی ویڈیوز کے عالمی حجم کا تذکرہ بھی کیا گیا تھا جنہیں اس کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔

مجموعی طور پر جولائی سے دسمبر 2019 کے دوران اس نے دنیا بھر میں 4 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ویڈیو کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر ڈیلیٹ کیا گیا۔

کمپنی کی جانب سے سب سے زیادہ ویڈیو بھارت میں ڈیلیٹ کی گئی جن کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد تھی، جس کے بعد امریکا دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ تعداد 46 لاکھ رہی۔

پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہے جہاں ٹک ٹاک نے 37 لاکھ 28 ہزار سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ ہوئیں جبکہ برطانیہ میں 20 لاکھ اور روس میں 12 لاکھ ے زائد ویڈیوز کو صاف کیا گیا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر مواد کے حوالے سے نیا نظام متعارف کرایا گیا تھا تاکہ اسے زیادہ شفاف اور رپورٹ ہونے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنے کی وجوہات آسان بنائی جاسکیں۔

جب کوئی ویڈیو کمنی کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس پر پالیسی کی خلاف ورزی کا لیبل لگایا جاتا ہے اور پھر ہٹا دی جاتی ہے۔