کراچی کے مختلف علاقوں میں تیسرے روز بھی بارش، کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 08 جولائ 2020

ای میل

کراچی میں بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا—فائل فوٹو: ٹوئٹر
کراچی میں بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

کراچی کے مختلف علاقوں میں مسلسل تیسری روز کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا، تاہم بجلی کے غائب ہونے سے شہریوں کے چہروں پر آئی مسکراہٹ ماند پڑ گئی جبکہ کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں کم از کم 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

شہر قائد میں 6 جولائی سے شروع ہونے والا مون سون کا پہلا اسپیل وقفے وقفے سے جاری ہے اور گزشتہ 2 روز میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔

بارش کا یہ سلسلہ آج 8 جولائی کو بھی کچھ علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری رہا اور صبح کے وقت سے ہی آسمان کو سیاہ بادلوں نے گھیرے میں لے لیا تھا اور وقفے وقفے سے مختلف علاقوں پر یہ بادل برستے بھی رہے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، 6 افراد جاں بحق، بیشتر علاقوں سے بجلی غائب

کراچی میں بدھ کو گارڈن، صدر، آئی آئی چندریگر روڈ، اولڈ سٹی ایریا، بہادر آباد، شاہراہ قائدین، شاہ فیصل، ملیر، گلستان جوہر سمیت مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔

تاہم بارش کے ساتھ ہی کے الیکٹرک کی جانب سے مختلف علاقوں میں لائٹ کی بندش نے شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا۔

خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ کئی روز سے کے الیکٹرک کی جانب سے طویل اور غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث گرمی کے ستائے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور شہری گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہ رہے ہیں۔

ادھر محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں شام یا رات کے وقت گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہر میں 30 سے 40 ملی میٹر تک بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں موجود بارش کے سسٹم میں اب بھی شدت باقی ہے۔

پی اے ایف فیصل بیس میں 6ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، محکمہ موسمیات

علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے بتایا کہ آج شہر میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس میں 6ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ سرجانی میں 5 اعشاریہ 2 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ پر 4 اعشاریہ 4 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ اور میٹ کامپلیکس میں 3اعشاریہ 8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ کیماڑی میں 3اعشاریہ 5 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 2اعشاریہ 6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل میں 2 اعشاریہ 4 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق صدر میں 2 ملی میٹر، پی اے ایف مسرور میں ایک اعشاریہ 7 ملی میٹر، ناظم اباد میں ایک ملی میٹر بارش ہوئی۔

کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق

دوسری جانب کراچی میں صبح سے کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں کم ازکم 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ایدھی اور دیگر ریسکیو ذرائع کے مطابق ماڈل کالونی میں گھر میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے ایک فرد جان کی بازی ہار گیا۔

جاں بحق شہری کی شناخت 70 سالہ اصغر خان کے نام سے ہوئی۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ سول لائنز پولیس کی حدود میں ہجرت کالونی میں گھر کے اندر کرنٹ لگنے سے 80 سالہ شیردل جاں بحق ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹے نے ان کی لاش رکشےمیں ہسپتال پہنچائی تھی۔

اسی طرح ریسکیو ذرائع کے مطابق کریم آباد میں دارالاسلام مسجد کے قریب کام کے دوران مزدور کو کرنٹ لگا جس سے وہ جاں بحق ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق مزدور کی شناخت مرزا رحمٰن کے نام سے ہوئی اور اس کی عمر 49 سال تھی۔

پولیس اور ریسکیو ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کارساز روڈ پر پیرپگاڑا ہاؤس کے قریب بجلی کے تار ٹوٹنے سے اس کی زد میں آکر ایک موٹرسائیکل سوار کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔

جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت محمد رفیق کے نام سے ہوئی جس کی عمر 50 سال تھی۔

ادھر کارساز میں پیش آئے واقعے پر کے الیکٹرک کی جانب سے کہا گیا کہ ہم اس بدقسمت واقعے سے باخبر ہیں اور فوری طور پر تفیصلات کو دیکھ کر معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

کے الیکٹرک ذمہ دار ہے، ایف آئی آر درج کرائیں گے، حلیم عادل شیخ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حلیم عادل شیخ نے ردعمل میں کہا کہ شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار کے الیکٹرک ہے اور اس نظام کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شارٹ سرکٹ لگنے سے بجلی کی تاریں گریں اور جانی نقصان ہوا۔

جے پی ایم سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیرزمان نے کہا کہ گزشتہ برس بھی کرنٹ لگنے سے 14 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور نیپرا نے ان اموات کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو ٹھہرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہمارے احتجاج کا نوٹس لیا ہے اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔

خرم شیرزمان کا کہنا تھا کہ ہم نے گورنر سندھ کی ہدایات کی روشنی میں کے الیکٹرک کے مظام کے خلاف احتجاج شروع کررکھا ہے۔

پی ٹی آئی کا مظاہرہ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف ہے، مرتضی وہاب

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے کے الیکٹرک کے حوالے سے دیے گئے بیانات پر ردعمل میں کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ بڑھانے کے بعد واویلا مچانے سے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنا پارٹی کے دھرنے سے عوام بخوبی واقف ہیں، پی ٹی آئی کا کے الیکٹرک کےخلاف دھرنا اگر وزیراعظم اور وزارت توانائی کی نااہلی پر ہوتا تو بات سمجھ میں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا دھرنا کے الیکٹرک کے کراچی والوں پر لگے زخموں پر نمک پاشی ہے، کے الیکٹرک مریخ یا کسی اور ملک کے کنٹرول میں نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ماتحت ہے۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ جن لوگوں نے کارروائی کرنی ہے وہ احتجاج کررہے ہیں، کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں، کاروباری وصنعتی طبقے کا خون نچوڑا ہے اور کے الیکٹرک کے ظلم کے پیچھے پی ٹی آئی قیادت ہے۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پیڈ دھرنا پروگرام کراچی کے مظلوم شہریوں کی آواز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

کراچی میں مون سون کا اسپیل

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئی تھی اور محکمہ موسمیات کے مطابق لانڈھی میں 2 ملی میٹر اور جناح ٹرمینل میں 1.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس سے قبل 6 جولائی کو شہر میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی تھی اور ہوا کے تیز جھکڑ چلنے سے کہیں درخت زمین سے اکھڑ گئے تھے تو کہیں عمارتوں سے ٹائلز گرنے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 6 جولائی کو شہر میں سب سے زیادہ بارش صدر میں 43 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ پی اے ایف بیس فیصل میں 26 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں دوسرے روز بھی بارش

یہاں یہ مدنظر رہے کہ 6 جولائی کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد مختلف حادثات میں کمسن بچوں اور خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق ملیر کی شمسی سوسائٹی میں گھر کی دیوار گرنے سے ایک 3 سالہ بچی ایشا منور جاں بحق ہوئی تھی، ادھر ایک دوسرے واقعے میں بھی 60 سالہ خاتون گھر کی دیوار گرنے سے جاں بحق ہوگئیں تھیں جبکہ عباسی شہید ہسپتال کے ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر محمد سلیم کے مطابق لیاقت آباد کے انگارا گوٹھ میں 60 سالہ خاتون تاجن رزاق گھر کی دیوار گرنے سے جاں بحق ہوئیں تھیں۔

علاوہ ازیں پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق موسلا دھار بارش کے باعث ابراہیم حیدری میں ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں مکان کے رہائشی دو افراد بابر حسین اور خادم حسین جاں بحق ہوگئے تھے، مزید یہ کہ ابراہیم حیدری کے ہی علاقے میں ایک اور مکان کی دیوار گرنے سے 9 سالہ عمر دین، 7 سالہ ہانیہ نعمان جاں بحق ہوگئے تھے۔