حکومتی اخراجات میں کمی سے مالی خسارہ ایک فیصد کم ہوا، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

شبلی فراز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دے رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
شبلی فراز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دے رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی اخراجات میں کمی کی پالیسی اور حکومتی اخراجات کم ہونے سے مالی خسارہ ایک فیصد کم ہوا ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں کہا کہ چند دنوں میں ہماری حکومت کے دوسال مکمل ہوجائیں گے اسی کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے معاشی صورت حال پر آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں:ایف اے ٹی ایف و دیگر سے متعلق قانون سازی میں تعاون، وزیرخارجہ کا اپوزیشن رہنماؤں کو تشکر کا خط

عبدالحفیظ شیخ کی بریفنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے قبل مالی خسارہ متوقع 9.1 تھا جبکہ اصل 8.1 ہے، وزیراعظم کی غیرضروری اخراجات کم کرنے کی پالیسی اور حکومتی اخراجات کو کم کرکے خسارے میں ایک فیصد کمی لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں پر سود اور دیگر چیزیں منہا کرکے جو خسارہ متوقع تھا وہ 3.1 تھا جبکہ حاصل کیا گیا ہدف 1.8 سے بھی بہتر تھا۔

شبلی فراز نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جب ہم آئے تھے تو 20 ارب ڈالر تھا پچھلے سال کم کرکے 13 ارب ڈالر کردیا گیا اور گزشتہ مالی سال میں 3 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں، اس کی وجہ ترسیلات زر، اسٹیٹ بینک کے ذخائر اور برآمدات بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 5.8 ارب ڈالر تھے جو اب 12.5 ارب ڈالر ہوگئے ہیں جو نجی بینکوں میں موجود ذخائر کے علاوہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ میں بجلی، گیس، ٹیوب ویل پر 1.2 کھرب کی سبسڈی دی تھی اور قرضہ جات سہولت دی گئی، اسی طرح فرٹیلائزرز پر بھی سبسڈی دی گئی۔

حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ہم نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں تک منظم اور شفاف طریقے سے پیسے پہنچائے۔

یہ بھی پڑھیں:لوگوں نے احتیاط نہ کی کورونا کی صورتحال خراب ہو جائے گی، اسد عمر

ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو بھی سبسڈی دی جس کا مقصد غریبوں کو سستے داموں اشیا کی فراہمی تھی، تعمیرات کے شعبے میں آسانیاں اور مراعات دینے کے لیے اقدامات کیے۔

شبلی فراز نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں غریبوں کے لیے آسانیاں رکھی گئیں اور حکومت کی طرف سے سبسڈی دی گئی اور بلڈرز کو ٹیکس میں چھوٹ دی۔

'سخت لاک ڈاؤن کی بات کرنے والے نظر نہیں آرہے ہیں'

انہوں نے کہا کہ معیشت خاص طور پر کورونا ایسی وبا تھی جس سے بہتر طور پر نمٹا اور وزیراعظم دباؤ کے باوجود ڈٹے رہے، ایک آدھ صوبے سے مخالفت کے باوجود ہم اپنے فیصلے میں ثابت قدم رہے کیونکہ کورونا کا نقصان کم کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر اپوزیشن کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن ابھی وہ نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ یہ اشرافیہ تھی اور خود کو محفوظ سمجھتی تھی، انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں تھا اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی پرواہ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے مقابلے میں ہمارا معاشی نقصان کم ہوا ہے اور معیشت ابھی آگے بڑھنے لگی ہے، جولائی میں ہماری برآمدات 2 ارب ڈالر تھیں جبکہ گزشتہ 20 برسوں سے اوسط 1.2 ارب ڈالر تھی اور ایک مہینے میں 800 ملین ڈالر اضافہ ہوا۔

کورونا کے بعد معاشی سرگرمیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ سیمنٹ اور پیٹرول کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، کھاد 567 ٹن خریدی گئی اور ٹیکس ریونیو بڑھ گیا ہے اور 300 ارب کا اضافہ سرمایہ جمع کیا جو ہمارے ہدف سے 23 فیصد زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:ایجنڈے پر ہونے کے باوجود ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز ایوان میں پیش نہ کیے جاسکے

انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں معاشی سرگرمی تیزی سے بڑھی ہے، دنیا میں تیزی سے آگے بڑھنے والی دوسری مارکیٹ ہے جو معیشت کی بہتری کی علامت ہوتی ہے اور ہم اس سے مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کے بعد ہماری معیشت آگے بڑھنے لگی ہے، کاروبار اور تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں بھی بڑھیں گی، ہمارا مشکل وقت گزر گیا ہے اور اچھا وقت آئے گا۔

'میڈیا کے 891 ملین روپے بقایا جات ادا کردیے گئے'

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے میڈیا کو فنڈز کے اجرا کے حوالے سے پوچھا تاہم اب تک 89 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرچکے ہیں اور تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ یا 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم رہ گئی ہے یعنی 80 فیصد ادائیگی ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے میڈیا کے بقایاجات ادا کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے جبکہ ہم طریقہ کار بھی بنارہے ہیں تاکہ بقایہ جات زیادہ عرصہ بغیر ادائیگی کے نہیں رہیں گے۔

کابینہ میں زیر بحث آنے والے نکات پر انہوں نے کہا کہ کابینہ کو مارگلہ میں تجاوزات پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں جو تجاوزات ہوئی تھیں اس کو واگزار کرالیا گیا جس کی مالیت 450 ارب روپے سے زائد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں گرین زون میں سی ڈی اے کی زمینوں میں قبضہ حاصل کیا گیا، سری نگر ہائے وے پر تمام تجاوزات ہٹاکر شجرکاری کی گئی، قائد اعظم یونیورسٹی کی 50 فیصد زمین پر ناجائز قبضہ تھا اس کو واگزار کرادا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کچی آبادیوں کے سلسلے میں بھی ایک منصوبے سے آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے سی ڈی اے میں جتنے کھوکھے ہیں ان کو سہولیات دینے کی ہدایات دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ 1537 ایکڑ زمین واگزار کرائی ہے، جس کی مالیت 450 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کو گیس، بجلی کی فراہمی میں بہتری کی یقین دہانی

آئی جی اسلام آباد کی بریفنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد میں امن وعامہ اور جرائم سے متعلق آگاہ کیا جس میں 5 بڑے جرائم ڈکیتی، چوری، گاڑی چھینے جانے، اغوا اور نقب زنی جیسے جرائم میں 37 فیصد کمی آئی ہے۔

کابینہ کو پی آئی اے کے پائلٹس کے مشکوک لائسنس پر ہونے والی پیش رفت پر آگاہ کیا گیا اور اگلے مہینے کی 30 تاریخ تک عمل کا مکمل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ میں ایجنڈے کے علاوہ 14 اگست کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے بھی بات ہوئی ہے اورہم نے وعدہ کرنا ہے کہ ملک جس طرح چل رہا ہے اس طرح نہیں چلانا اور مستقبل کی نسل کے لیے مذہبی اور ثقافتی حدود میں رہتے ہوئے خود مختار اور مستحکم ملک دینا ہے۔