نیب میں طلب کرنے کا مقصد مجھے نقصان پہنچانا تھا، مریم نواز

اپ ڈیٹ 11 اگست 2020

ای میل

مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کی — فوٹو بشکریہ عدنان شیخ
مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کی — فوٹو بشکریہ عدنان شیخ

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آج جس ریاستی، حکومتی خوف، جبر اور دہشت گردی کا میں نے مشاہدہ کیا ہے وہ میرے لیے یا مسلم لیگ (ن) کے لیے نہیں بلکہ اس جعلی اور سلیکٹڈ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے یہ بات قومی احتساب بیورو (نیب) کی دفتر کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پولیس کے درمیان ہنگامہ آرائی کے باعث پیشی منسوخ ہونے کے بعد ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ خان، مریم اورنگزیب، پرویز رشید، دانیال عزیز، طلال چوہدری، شائستہ پرویز ملک، محمد زبیر، ملک پرویز ، خواجہ عمران نذیر، چوہدری شہباز، غزالی سلیم بٹ، فیصل کھوکھر، ثانیہ عاشق، سلمیٰ بٹ اور شیزہ خواجہ بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جس طرح پُر امن اور نہتے کارکنان پر پتھر برسائے گئے، اسپرے کیا گیا اور آنسو گیس پھینکی گئی اس سے متعدد کارکنان زخمی ہوئے میں اس کی بھرپور مذمت کرتی ہوں اور مسلم لیگ (ن) کے جو کارکنان میرے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے جبر کا سامنا کرتے ہوئے وہاں کھڑے رہے انہیں سلام پیش کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جب میری گاڑی نیب دفتر کے نزدیک پہنچی اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ دوسری جانب عوام کا سمندر موجود ہے تو اچانک آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوگئی جس سے گاڑی کے ساتھ موجود لوگ دور ہٹ گئے اور گاڑی اکیلی ہوگئی۔

اسی اثنا میں نیب دفتر کے بالکل سامنے، رکاوٹوں کے پیچھے سے میری گاڑی پر پتھراؤ ہوا، میری گاڑی بلٹ پروف گاڑی تھی اس کے باجود ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی اور سیکیورٹی گارڈز نے بغیر کسی حفاظتی اشیا کے گاڑی کے سامنے گھڑے ہوکر میری حفاظت کی۔

رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جو زمین میں نے خریدی تھی اس زمین پر قبضہ کیا تھا لیکن نیب کے طلبی کے نوٹس میں کوئی ایسا الزام موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر کارکنان اور پولیس میں تصادم

انہوں نے نیب کی جانب سے جاری نوٹس پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ اس میں الزام کوئی نہیں ہے، بہت مبہم رکھا گیا ہے کیونکہ مجھے بلانا مقصود تھا اور اب میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مجھے بلانے کے پیچھے مجھے نقصان پہنچانا مقصود تھا کیونکہ آج جو میرے ساتھ سلوک کیا گیا، میں پاکستان کے 72 سال میں یہ ہوتے نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج پرویز رشید صاحب میری گاڑی میں تھے اور جب ونڈ اسکرین پر حملہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ شکر کرو کہ یہ بلٹ پروف گاڑی تھی، اگر یہ بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو شیشہ ٹوٹتا اور اس کے بعد پتھر میرے سر پر لگتے کیونکہ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر یہ بلٹ پروف گاڑی نہ ہوتی تو سامنے سے پولیس کی وردی میں ملبوس افراد جو مجھے نہیں معلوم کہ پولیس کے تھے یا نہیں لیکن وہ پولیس کی یونیفارم میں تھے اور پنجاب پولیس عموماً ایسا نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے موبائل فون پر ویڈیوز بنا لیں اور بطور ثبوت ان ویڈیوز کو ٹوئٹ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو شیشہ ٹوٹنے کے بعد یہ پتھر مجھے لگتے اور یہ واضح طور پر مجھے جانی نقصان پہنچانے کی کوشش تھی یا شاید میرے سر پر چوٹیں آتی جس پر اس وقت میں ہسپتال میں زیر علاج ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے مجھے غیر سرکاری ذرائع سے کہنا شروع کیا کہ آپ واپس چلی جائیں لیکن میں نے انکار کردیا، میں نیب کے دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میں نے کہا کہ آپ نے مجھے نوٹس پر بلایا ہے تو میں جواب لے کر آئی ہوں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ میں ڈیڑھ گھنٹہ وہاں رہی لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا اور اس موقع پر رانا ثنااللہ نے ان سے کہا کہ وہ واپس نہیں جائیں گی اور آپ لکھ کر دیں کہ ہم واپس چلے جائیں تو پہلے تو وہ تیار نہیں تھے لیکن پھر انہوں نے پریس ریلیز میں کہا کہ آج مریم نواز واپس جائیں، آج کی ان کی پیشی ملتوی ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال وہاں کیے جاتے ہیں جہاں سوال کرنے والا کا کوئی کردار ہو، نیب کا کردار ہمیں پہلے سے ہی معلوم تھا، نواز شریف، رانا ثنااللہ، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، سعد رفیق اور دیگر نیب گردی کا نشانہ بننے والے ہمارے رہنماؤں کو پہلے سے پتا تھا لیکن نیب ان ہتھکنڈوں پر مہر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے اپنے ریمارکس اور اپنے فیصلوں کے ذریعے لگا دی ہیں اور رہی سہی کسر ہیومن رائٹس واچ نے پوری کردی جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ، سیاسی انتقام، مخالفین کو بلیک میل اور دبانے کے لیے اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ایسے نیب کے سامنے پیش نہ ہونا شاید قانون کی زیادہ پاسداری ہو گی کیونکہ نیب تو ان ریمارکس اور حربوں کے بعد اب خود ایک مطلوب ادارہ ہے، نیب کو تو اب خود جواب دینے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی خزانے کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے بے دریغ استعمال کیوں کیا، کیوں نیب نے اس پیسے کے ذریعے مخالفین کی جوڑ توڑ کی، سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور حکومت کی مدد کی۔

مزید پڑھیں: نیب نے شریف برادران اور مریم نواز کے خلاف ایک اور ریفرنس تیار کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ ابھی میر شکیل الرحمٰن کا کیس لے لیں، ایک وزیر موصوف فرما رہے تھے کہ میں عمران خان صاحب سے یہ درخواست کروں گا کہ میر شکیل الرحمٰن کو چھوڑ دیں، تو 140دن سے حبس بے جا میں موجود میر شکیل الرحمٰن کو کیا عمران خان صاحب نے پکڑا ہے، ان کو تو نیب نے پکڑا ہے اور کیا عمران خان کے کہنے پر نیب ان کو چھوڑ دے گی۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے قومی احتساب بیورو پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ نیب کا اصول یہ ہے کہ ناانصافی صرف ہونی نہیں چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنی چاہیے اور اب ان کا اصول ہے کہ دہشت گردی صرف ہونی نہیں چاہیے بلکہ آج پوری دنیا نے جیسے دیکھا، ہوتی ہوئی نظر بھی آنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مجھ پر پہلا یا دوسرا نہیں بلکہ تیسرا مقدمہ ہے، اگر پہلا مقدمہ اتنا اچھا تھا تو دوسرا مقدمہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اگر دوسرا مقدمہ اتنا مضبوط تھا تو تیسرا کیوں بنانا پڑا، تیسرے مقدمے کا بھی وہی انجام ہو گا جو پہلے قدموں کا ہوا یعنی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ میں انکشاف کردوں کہ جس ریفرنس یا تحقیقات میں نیب نے مجھے پکڑا تھا اور تقریباً 60 دن میں ان کی مہمان رہی تھی، پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون میں تھی جو نیب کی مہمان رہی اور اس وقت انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ مجھے کہاں رکھیں کیونکہ ان کے پاس خواتین کو رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی لیکن جس مقدمے میں مجھے پکڑا گیا کیا پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ وہ ریفرنس ایک ڈیڑھ سال کے باوجود آج تک نہیں بن سکا۔

انہوں نے کہا کہ انویسٹی گیشن کے نام پر مجھے 60 دن رکھا اور سوائے انویسٹی گیشن کے مجھ سے وہاں سارے سوالات پوچھے گئے، مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ 2018 میں مجھے کیوں گرفتار کیا گیا کیونکہ انتخابات آ رہے تھے، نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرنا تو ضروری تھا ورنہ الیکشن نہیں جیتا جاسکتا تھا، وہ دھاندلی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مجھے کرپشن کے نام پر کیوں گرفتار کیا گیا وہ بھی سمجھ آتی ہے کیونکہ ایک کے بعد ایک میرے زبردست جلسے ہو رہے تھے کہ ماشااللہ عوام کی ایک لہر اٹھ رہی تھی، ایک طوفان آ رہا تھا، 8 تاریخ کو کشمیر میں میرا جلسہ تھا اور چھ تاریخ کو جب میں میاں نواز شریف سے ہفتہ وار ملاقات کے لیے ملنے کوٹ لکھپت جیل گئی تو وہاں جیلر صاحب نے مجھے آ کر کہا کہ باہر آپ کو شہباز شریف صاحب بلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں باہر گئی تو شہباز شریف اور نیب کھڑے تھے اور شہباز شریف نے بتایا کہ یہ آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں، میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

مریم نواز نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ میں نواز شریف صاحب سے مل کر گرفتاری دیتی ہوں لیکن ابھی میں نواز شریف سے مل ہی رہی تھی کہ جیل میں آکر نواز شریف صاحب کے سامنے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجھے گرفتار کر لیا گیا لیکن آج ایک سال بعد مجھے نیب میں بلانے کا کیا خیال آیا کیونکہ آج تو کوئی جلسے یا ریلی نہیں ہو رہی۔

اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت جو سروے کراتی ہے، اس کی خبریں ہم تک بھی پہنچتی ہیں اور ان سروے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت کا گراف پاکستان بھر میں خصوصاً پنجاب میں کئی گنا بڑھ گیا ہے، یہ اس سے گھبرا گئے ہیں اور ان کا ہر حربہ ناکام ہو گیا ہے کیونکہ پنجاب سے ان کے سروے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کلین سوئپ کر رہی ہے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ عمران خان صاحب کو اقتدار میں آنے کا بہت شوق تھا لیکن آج اتنی پے درپے ناکامیوں کے باوجود وہ اس لیے اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں کیونکہ پہلے انہیں آنے کا شوق تھا، اب جانے کا خوف ہے اور وہ خوف اس لیے ہے کیونکہ اتنے ظلم کر بیٹھے ہیں کہ اب ان کو اقتدار سے چپکنے میں ہی اپنی بقا نظر آتی ہے اور اتنے ظلم کر چکے ہیں کہ انہیں اپنے انجام سے خوف آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے تو بہت سہہ لیا، آپ کو تو اپنی فکر کرنی چاہیے، آپ کو جو 6 مہینے کی مہلت ملی ہے، جب وہ ختم ہو گی تو آپ کا کیا ہو گا، آپ تو خود اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ آپ کو 6مہینے کی مہلت ملی ہے اور جو حکومت مہلتوں پر چل رہی ہو تو وہ خوف نہیں کھائے گی تو اور کیا ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ آپ کی حکومت کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے، آج بھی آپ کی ترجیحات کی فہرست میں پہلے، دوسرے اور آخری نمبر پر بھی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کے بارے میں پروپیگنڈا کرتے ہوئے آپ کو شرم آنی چاہیے، آپ کی حراست میں نواز شریف بیمار ہوا، موت کے دہانے تک پہنچا، آپ کی تحویل میں وہ سروسز ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا اور آپ کے فیصلے سے وہ باہر گیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے انسانی ہمدردی کے تحت نواز شریف کو علاج کے لیے باہر نہیں بھیجا بلکہ آپ کو اپنے اوپر رحم آیا اور آپ نے انہیں موت کے منہ میں دیکھ کر جلدی جلدی علاج کے لیے باہر ملک بھیجا کہ کہیں آپ کے اوپر ذمے داری نہ آ جائے اور عوام کا ہاتھ آپ کے گریبان پر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کرپشن کا راگ الاپتے رہتے ہیں تو کرپشن کا فیصلہ تو پھر زمینی حقائق پر ہونا چاہیے، مجھے بتائیں کہ نواز شریف کے دور میں آٹا، دال، چاول، چینی اور بجلی گیس کی کیا قیمتیں تھیں، آج کیا قیمتیں ہیں، آپ خود ہی فرماتے تھے کہ جب حکمران کرپٹ ہوتا ہے تو ان چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، تو اس لحاظ سے چور کون ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف 5.8 پر جی ڈی پی چھوڑ کر گیا تھا، آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جی ڈی پی منفی میں چلی گئی ہے، اسی سے پتا چل جاتا ہے کہ یہاں کرپٹ کون ہے۔

مریم نواز نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ آپ کی ناکامی محض معاشی محاذ پر نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ہے اور ایسی ناکامی ہے کہ انسان کو شرم آ جائے، سفارتی محاذ پر آپ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ 72 سال میں کسی وزیر اعظم یا آمر کے دور میں بھارت کی اتنی جرات ہوئی کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کر سکے، یہ سیاہ دھبہ بھی آپ ہی کے منہ پر لگا، آپ تو امریکا سے خود خوش واپس آئے تھے کہ کشمیر پر ثالثی ہو گی لیکن کہاں گئی وہ ثالثی اور بیان کہاں گئے جو آپ نے پرچیوں کے بغیر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک جانے کا معاملہ: مریم نواز کی درخواست پر نیب سے جواب طلب

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ 72 سال میں پہلی مرتبہ کشمیر، بھارت کی جھولی میں جا گرا اور آپ چپ چاپ دیکھتے رہے، آپ کیا کہیں گے کشمیریوں سے کہ مودی آپ کا فون بھی نہیں اٹھاتا۔

انہوں نے کہا کہ نقشے پر لکیر میں تبدیلی سے آپ کو کشمیر نہیں مل جائے گا اور دو منٹ کی خاموشی سے آپ کو کشمیر نہیں مل جائے گا یا ایک شاہراہ کا نام بدل دینے سے آپ کو کشمیر نہیں مل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب پر جب یہ وقت آیا تو ان کے لیے بہت آسان تھا کہ چھ ایٹمی دھماکوں کے بدلے 12منٹ کی خاموشی اختیار کر لیتے لیکن پاکستان کبھی ایٹمی طاقت نہ بنتا، بنی گالا کو تبدیل کر کے اس کا نام چاغی رکھ لیتے۔

مریم نواز نے کہا کہ بچگانہ اور غیر ذمے دارانہ بیانات کا حال دیکھ لیں کہ سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست اور ہمدرد کو ناراض کردیا اور رہی سہی کسر او آئی سی کے رکن ممالک کے خلاف بیان دے کر ہمارے دوست ممالک کو ناراض کردیا، آپ نے ملک کو ہر طرح سے آگ میں جھونک دیا ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے اراضی سے متعلق کیس میں نیب نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو آج (بروز منگل) طلب کر رکھا تھا، ان کی پیشی کے موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ نیب دفتر کی جانب روانہ ہوئی تھی۔

دوسری جانب نیب دفتر کے اطراف میں پولیس نے رکاوٹیں لگا کر سڑکیں بند کررکھی تھی جس پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان مشتعل ہوگئے اور پھر کارکنان اور پولیس دونوں کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔

علاوہ ازیں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی تھی جس کے باعث نیب نے ان کی پیشی منسوخ کردی۔

بعدازاں ایک باضابطہ اعلامیے میں نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا۔