اسلام آباد ہائی کورٹ:بیٹیوں سے زیادتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

16 ستمبر 2020

ای میل

—فائل/فوٹو: اے ایف پی
—فائل/فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کر دی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے دو بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم جہانزیب کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ کی مدعیہ اور ملزم کے مابین صلح ہو گئی ہے جبکہ بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے باپ کے خلاف متاثرہ بچیوں کی ماں کی مدعیت میں تھانہ کورال میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی: بچیوں کے ریپ اور اغوا کے 29 مقدمات میں مطلوب ملزم جیل منتقل

ایف آئی آر کے مطابق ملزم جہانزیب نے اپنی 15 سالہ اور 17 سالہ بیٹیوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں بھی باپ کی اپنی بیٹیوں سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ گھناؤنا جرم کرنے والا ضمانت کا مستحق ہے، جس پف سرکاری وکیل نے کہا کہ صلح کے باوجود ملزم ضمانت کا مستحق نہیں۔

عدالت نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو بھی مقدمہ کا جلد فیصلہ سنانے کی ہدایات جاری کردی۔

قبل ازیں ٹرائل کورٹ نے بھی صلح کی بنیاد پر ملزم کی ضمانت مسترد کی تھی جس کے بعد ملزم نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

خیال رہے گزشتہ روز کراچی میں ذہنی وجسمانی معذور خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیاتھا۔

گزشتہ ہفتے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آئے گینگ ریپ واقعے پر ملک بھر میں شدید غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا اور سی سی پی او لاہور کے متنازع بیان پر بھی شہریوں سدید تنقید کی تھی۔

مزید پڑھیں:موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت سے باہر، گینگ کا ایک ساتھی گرفتار

دو روز قبل پولیس نے موٹروے گینگ ریپ کیس کا ایک ملزم گرفتار کیا تھا،جس نے اعتراف جرم کرلیا تھااور گزشتہ روز ریمانڈپر جیل بھیج دیا گیا۔

ملک میں ریپ اور بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت سزائیں دینے کا مطالبہ زور پکڑ ریا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پولیس سربراہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد موٹروے گینگ ریپ کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں اور قانون کے مطابق قصورواروں کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا کو یقینی بنائیں۔

سینئر پولیس افسر کا کیس سے متعلق کہنا تھا کہ تیسرا ملزم جس کی شناخت اقبال عرف بالا کے نام سے ہوئی ہے اور اس کو شریک ملزم شفقت علی کی جانب سے دوران تفتیش فراہم کی گئی معلومات پر 'گرفتار' کیا گیا۔