پنجاب: اہلِخانہ کی موجودگی میں خاتون کا 'گینگ ریپ'

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

واقعے 12 گھنٹوں بعد پولیس نے 2 ملزمان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا—فائل فوٹو: اے پی
واقعے 12 گھنٹوں بعد پولیس نے 2 ملزمان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا—فائل فوٹو: اے پی

سرگودھا: شوہر اور بچوں کی موجودگی میں 4 مسلح افراد نے خاتون کا مبینہ طور پر گینگ ریپ کردیا اور زیورات کے علاوہ 20 ہزار روپے بھی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعہ مڈھ رانجھا پولیس تھانے کی حدود میں قائم گھلا نامی گاؤں میں پیش آیا۔

شکایت گزار کا کہنا تھا کہ 4 ڈاکوؤں نے ڈیرہ اسلام ہرال میں اس کے گھر کی دیوار توڑی اور انہیں، ان کی اہلیہ اور بچوں کو چھت پر لے گئے جہاں ان کی اہلیہ کا گینگ ریپ کیا، شکایت گزار کے مطابق ایک ڈاکو کو انہوں نے شناخت کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: 6 سالہ مروہ کے ریپ و قتل، گرفتار 2 ملزمان کے ڈی این اے میچ کر گئے

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈاکوؤں نے نقدی، سونے کے زیورات لوٹ لیے اور فرار ہونے سے قبل باغ میں لے جاکر دوبارہ ان کی اہلیہ کا ریپ کیا۔

شکایت گزار نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے پولیس کو معاملے کی رپورٹ کی لیکن پولیس نے رپورٹ میں سے کینگ ریپ کو ہذف کرنے پر اصرار کیا۔

تاہم واقعے کے 12 گھنٹے کے بعد پولیس نے 2 ملزمان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا جس میں سے ایک ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس ترجمان نے واقعے کے حوالے سے پولیس پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کیا اور کہا کہ شکایت گزار کی تحریری شکایت پر ایف آئی آر درج کرلی گئی تھی اور تفتیش کا آغاز بھی کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) فیصل گلزار نے واقعے کا نوٹس لیا اور ایس ڈی پی او کوٹ مومن کو بذات خود تفتیش کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے گزشتہ چند روز کے دوران ملک میں گینگ ریپ کے واقعات میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

قبل ازیں 7 ستمبر کو پنجاب کے گاؤں پنن وال کی رہائشی لڑکی کو اس کے ماموں زاد بھائی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا، پولیس نے 13 ستمبر کو ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ریپ کی کوشش پر ملزم کیخلاف کارروائی میں تاخیر، لڑکی نے 'خودکشی' کرلی

11 ستمبر کو تحصیل تونسہ کے گاؤں بستی لاشاری میں ایک شادی شدہ خاتون کا 2 مشتبہ افراد نے گھر میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا۔

واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق 2 بچوں کی والدہ نے بتایا کہ رات 10 بجکر 45 منٹ پر 2 افراد اس وقت گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے جب اس کے بچے 2 سالہ بیٹا اور 6 ماہ کی بیٹی سورہے تھے اور انہیں زبردستی گھر کے ایک کمرے میں لے جا کر ریپ کا نشانہ بنایا۔

10 ستمبر کو گجرپورہ کے علاقے میں 2 'ڈاکوؤں' نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔

واقعے کی تفصیل سے متعلق پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ 2 مسلح افراد نے خاتون کو اکیلا دیکھا اور اسلحے کے زور پر خاتون اور بچوں کو قریبی کھیت میں لے گئے اور وہاں خاتون کا گینگ ریپ کیا۔