تونسہ کے گاؤں میں گھر میں خاتون کا 'گینگ ریپ'

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2020

ای میل

متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج اور طبی معائنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی—فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج اور طبی معائنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی—فائل فوٹو: کری ایٹو کامنز

ڈیرہ غازی خان: تحصیل تونسہ کے گاؤں بستی لاشاری میں ایک شادی شدہ خاتون کو 2 مشتبہ افراد نے گھر میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رائترا تھانے میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں 2 بچوں کی والدہ نے بتایا کہ رات 10 بجکر 45 منٹ پر 2 مشتبہ افراد اس وقت گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے جب اس کے بچے 2 سالہ بیٹا اور 6 ماہ کی بیٹی سورہے تھے۔

جس کے بعد مشتبہ افراد انہیں زبردستی گھر کے ایک کمرے میں لے گئے اور اسے ریپ کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

بعد ازاں متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج اور طبی معائنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی۔

خیال رہے کہ تونسہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا آبائی علاقہ ہے اور انہوں نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس افسر رانا فیصل کو ہدایت کی کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر واقعے کی رپورٹ پیش کریں۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر آر پی او نے ایس پی انویسٹی گیشن کو واقعے کی تحقیقات کے لیے سربراہ مقرر کردیا۔

ادھر ڈسٹرکٹ پولیس افسر اختر فاروق نے ڈان کو بتایا کہ پولیس انکوائری میں فرانزکس کا استعمال کرے گی۔

خیال رہے کہ 3 روز قبل 9 ستمبر کو لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی خراب ہونے پر مدد کی منتظر تھیں۔

واقعے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوا تھا کہ ایک خاتون رات کو لاہور ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی سے گوجرانوالہ سفر کے لیے اپنے 2 بچوں کے ہمراہ نکلی تھیں کہ موٹروے پر ان کی گاڑی فیول ختم ہونے کی وجہ سے رک گئی۔

اس دوران انہوں نے اپنے ایک رشتے دار سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے انہیں موٹروے پولیس سے رابطہ کرنے کا کہا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے گینگ ریپ کیس کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی

تاہم جب خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی کا فیول ختم ہونے پر موٹروے پر کھڑی تھیں تب 2 مسلح افراد وہاں آئے اور مبینہ طور پر خاتون اور ان کے بچوں کو مارا، جس کے بعد وہ انہیں قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں خاتون کا ریپ کیا گیا۔

بعد ازاں جب پولیس اور خاتون کا رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے، مسلح افراد جاتے ہوئے خاتون سے نقدی سمیت دیگر قیمتی سامان اور اے ٹی ایم کارڈ بھی ساتھ لے گئے تھے۔