موسم بدلنے پر کھانسی کی شکایت کیا کووڈ کی علامت ہے؟

22 ستمبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

موسم میں تبدیلی یعنی خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی متعدد افراد نزلہ، زکام اور کھانسی کے شکار ہونے لگتے ہیں مگر اس سال بیشتر مریضوں کے لبوں پر ایک جملہ ہوگا کہ کیا یہ موسمی بیماریاں ہیں یا کورونا وائرس کی علامات۔

نئی مگر مسلسل کھانسی کووڈ 19 کی چند نمایاں علامات میں سے ایک ہے جن میں دیگر تیز بخار اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی شامل ہیں۔

برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ ایس کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں میں کھانسی کی علامت کچھ ایسی ہوسکتی ہے کہ انہیں 24 گھنٹوں تک ایک یا 3 یا اس سے زیادہ گھنٹوں تک کھانسی کے دورے کا سامنا ہو۔

برطانیہ کے رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز (آر سی جی پی) کے پروفیسر مارٹین مارشل نے بتایا 'اگر کسی مریض کو ان علامات میں سے کسی کا تجربہ ہو، تو ہم زور دیتے ہیں کہ حکومتی ہدایات پر عمل کیا جائے اور خود کو اپنے گھر میں آئسولیٹ کرلیں اور اگر ممکن ہو تو ٹیسٹ کروالیں'۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ کھانسی کا مسئلہ عام ہوجاتا ہے اور ایسے میں بیشتر افراد کے سامنے یہ سوال مشکل کا باعث بن جائے گا کہ کیا انہیں واقعی خود کو آئسولیٹ کرنا چاہیے؟

اس حوالے سے مانچسٹر یونیورسٹی کے نظام تنفس کے پروفیسر جیکی اسمتھ نے کہا کہ اس حوالے سے صورتحال کچھ الجھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا 'میرے خیال میں ماہرین کا مطلب یہ نہیں کہ ایک دن کھانسی ہو اور اگلے دن ختم ہوجائے تو خود کو الگ تھلگ کرلیں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کھانسی روکنے میں نہ آرہی ہو۔ ہم سب کو متعدد ایسے وائرسز کا سامنا ہوتا ہے جس میں ناک بہنے لگتی ہے اور گلے میں خراش ہوجاتی ہے مگر کھانسی نہیں ہوتی، تاہم اگر اس کے ساتھ کھانسی ہو اور وہ برقرار رہے تو پھر کووڈ کو ٹیسٹ کرانے کی کوشش کی جانی چاہیے'۔

کووڈ کی علامات کے حوالے سے تحقیقی ایپ کے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر آپ کو عام نزلہ زکام کے باعثچ کھانسی ہو تو وہ اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ بولنا مشکل ہوجائے، رات میں نیند سے جاگنا پڑجائے یا شدید سردرد یا تھکاوٹ کا بھی سامنا نہیں ہوتا جیسا کووڈ 19 کے مریضوں کو اکثر ہوتا ہے'۔

کنگز لندن کالج کے جینیاتی امراض کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے بتایا ' اگر آپ کی ناک بہہ رہی ہے، گلے کے غدود پھول گئے اورر چھینکیں آرہی ہیں تو بہت زیادہ امکان یہ ہے کہ آپ کووڈ 19 کے شکار نہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ کے مریض بچوں میں کھانسی کی شکایت بالغ افراد کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

کووڈ کی علامت بننے والی کھانسی یا عام کھانسی میں ویسے فرق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے طبی ماہرین ٹیسٹوں کے نظام میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ کووڈ 19 یا دیگر سنگین امراض کے شکار افراد کو الگ کرکے ان کی مدد کی جاسکے۔

ماہرین کے مطابق عام نزلے، فلو اور کووڈ 19 کی متعدد علامات ملتی جلتی ہیں اور ان میں امتیاز کرنا مشکل ہوسکتا ہے، یہ سب وائرسز سے ہونے والی بیماریاں ہیں، مگر ان سب بیماریوں کا باعث بننے وائرسز مختلف ہیں۔

مگر ان تینوں میں ایک نمایاں فرق کورونا وائرس کی ایک علامت سانس لینے میں مشکل ہے، جو اس کی ایسی عام علامت ہے جو نمونیا سے قبل سامنے آتی ہے۔

عام طور پر فلو یا نزلہ زکام میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک نمونیا کا مرض نہ ہوجائے۔

نئے کورونا وائرس کے شکار افراد میں عموماً سانس لینے میں مشکل کا سامنا مریض کو پہلی علامت بخار ہونے کے 5 سے 10 دن کے دوران ہوتا ہے۔

چھینکنا، ناک بہنا، چہرے میں تکلیف اور آنکھوں میں خارش سب الرجی یا عام نزلہ زکام کی علامات تو ہیں مگر کووڈ 19 میں یہ عام نہیں۔