ایک عام دوا کووڈ 19 کے مریضوں میں موت کا خطرہ کم کرے، تحقیق

26 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ایسا مانا جاتا ہے کہ روزانہ ایک گولی اسپرین کا استعمال مختلف امراض سے بچا سکتا ہے، اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو طبی ماہرین ہی بتاسکتے ہیں۔

مگر اب ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج مریض اگر روزانہ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال کریں، ان میں اس وبائی مرض سے پیچیدگیوں اور موت کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اسپرین استعمال کرنے والے کووڈ 19 کے مریضوں کا آئی سی یو تک پہنچنے یا وینٹی لیٹر سپورٹ پر جانے کا امکان دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور اس دوا سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں ان میں موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

طبی جریدے اینستھیسیا اینڈ اینل جیسیا میں شائع تحقیق میں 'محتاط امید' کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سستی اور آسانی سے دستیاب دوا کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں کی روک تھام کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم ترین دریافت ہے کہ جس کلینیکل ٹرائل سے تصدیق کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کی تصدیق ہوگئی، تو اس سے اسپرین پہلی بڑے پیمانے پر دستیاب دوا بن جائے گی جو کووڈ 19 کے مریضوں کی شرح اموات کم کرسکے گی۔

اس تحقیق کے دوران 412 کووڈ 19 کے مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جو گزشتہ چند ماہ کے دوران اس بیماری کی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

ان مریضوں کا علاج میری لینڈ یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر میں ہوا تھا، جن میں سے 25 فیصد افراد ایسے تھے جو ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل یا اس کے بعد روزانہ 81 ملی گرام اسپرین کا استعمال کررہے تھے تاکہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی روک تھام کرسکیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ اسپرین کا استعمال کرنے سے وینٹی لیٹر سپورٹ کا خطرہ 44 فیصد، آئی سی یو میں داخلے کا امکان 43 فیصد اور موت کا خطرہ 47 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا کہ اسپرین استعمال کرنے والوں میں ہسپتال کے دوران مختلف پیچیدگیوں جیسسے جریان خون جیسا مضر اثر نظر نہیں آیا۔

محققین نے متعدد عناصر جیسے عمر، جنس، جسمانی وزن، نسل، فشار خون اور ذیابیطس کو مدنظر رکھا جبکہ امراض قلب، گردوں کے امراض، جگر کے امراض اور بلڈ پریشر کی روک تھام کے لیے ادویات کو بھی نتائج کے پیش نظر رکھا۔

خیال رہے کہ کووڈ 19 کے نتیجے میں دل، پھیپھڑوں، خون کی شریانوں اور دیگر اعضا میں جان لیوا بلڈکلاٹس کا خطرہ بڑھتا ہے جو ہارٹ اٹیک، فالج اور اعضا کے افعال کو فیل کرنے کا باعث بنتا ہے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے ایسے مریضوں کو روزانہ کم مقدار میں اسپرین کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے جو پہلے خون گاڑھا ہونے یا لوتھڑے بننے سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا شکار ہوچکے ہوں تاکہ مزید بلڈ کلاٹس سے بچ سکیں۔

تاہم روزانہ استعمال سے جریان خون کا خطرہ ہوتا ہے اور ڈاکٹر کی ہدایت پر طے شدہ مقدار کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔

میری لینڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اسپرین کی خون پتلا کرنے والی خصوصیت کووڈ 19 کے مریضوں کو ننھے کلاٹس سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی تشخیص پر مریضوں کو روزانہ اسپرین کے استعمال پر غور کرنا چاہیے تاہم پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

ایسے افراد جو گردوں کے امراض کے شکار ہیں یا مخصوص ادویات کا استعمال کررہے ہیں، ان کے لیے اسپرین کا استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

محققین نے مزید بتایا کہ اس تحقیق سے کووڈ 19 کے نئے علاج کی دریافت مین مدد ملے گی اور مریضوں کی زندگیاں بچانا ممکن ہوسکے گا، اگرچہ اس حوالے سے اسپرین کے استعمال کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر اب تک شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ مریضوں کو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا اہیے کہ ان کے لیے اسپرین کا استعمال محفوظ ہے یا نہیں، تاکہ ممکنہ پیچیدگیوں سے بچ سکیں۔