موسم سرما میں کورونا وائرس زیادہ خطرناک کیوں ہوگا؟

25 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

موسم سرما میں کووڈ 19 انفلوائنزا کے ساتھ مل کر بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے نئے کورونا وائرس کی نقول بننے کی شرح 10 ہزار گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہ بات چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں میں ثابت ہوا کہ انفلوائنزا اور کووڈ 19 دونوں کا ایک ساتھ شکار ہونے والے فرد میں کورونا وائرس کی نقول بننے کا عمل 10 ہزار گنا بڑھ جائے گا۔

لیبارٹری ٹیسٹوں میں ثابت ہوا کہ انفلوائنزا اے وائرس بیماری کے چند گھنٹوں کے اندر انسانی خلیات کی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لاتا ہے، جس کے نتیجے میں نیا کورونا وائرس ان تبدیلیوں کو خلیات پر حملے میں آسانی اور اپنی نقول بنانے کے لیے استعمال کرسکے گا۔

ووہان یونیورسٹی کی اسٹیٹ کی لیبارٹری آف وائرلوجی کی یہ تحقیق ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ اس کے نتائج پری پرنٹ سرور Biorxiv پر جاری کیے گئے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد پروفیسر شو کے (Su Ky)نے بتایا کہ دنیا کے شمالی کرے میں جلد شروع ہونے والا فلو سیزن کووڈ 19 کی وبا سے جڑ سکتا ہے جو کہ عوامی صحت کے لیے ممکنہ طور پر سنگین خطرہ ہے۔

فلو اور کووڈ 19 کی اکثر علامات ملتی جلتی ہیں اور دنیا بھر میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے امراض کی تشخیص کا عمل پیچیدگیوں کا شکار ہوگا۔

دنیا کے مختلف ممالک میں سرما کے آغاز سے قبل فلو ویکسین کا استعمال کرایا جاتا ہے مگر عام طور پر ان ممالک میں بھی سپلائی مھدود ہونے پر سب تک وہ پہنچ نہیں پاتی۔

چین کی اس نئی تحقیق کے لیے محققین نے جسم کے مختلف حصوں میں موجود متعدد انسانی خلیات کو اپنے تجزیے کا حصہ بنایا۔

تحقیق میں انفلوائنزا کے ساتھ ساتھ دیگر جراثیم جیسے رینو وائرس، سینڈائی وائرس اور انٹرووائرس کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

جب ان وائرسز سے متاثرہ خلیات پر نئے کورونا وائرس کو داخل کیا گیا تو محققین نے دریافت کیا کہ صرف انفلوائنزا اے وائرس سے ہی بیماری کی شدت سنگین ہوئی۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ایسا لگ بھگ تمام انسانی خلیات کے ساتھ ہوسکتا ہے مگر سب سے زیادہ متاثر پھیپھڑوں کی سطح کے خلیات ہوتے ہیں، جن میں کورونا وائرس کی نقول بننے کا عمل ایک ہزار سے 10 ہزار گنا بڑھ جاتا ہے (اس کا انحصار انفلوائنزا کی بیماری کی شدت پر ہوتا ہے)۔

اس تجربے کو بعد ازاں چوہوں پر دہرایا گیا اور نتائج ملتے جلتے ہی رہے۔

تحقیق کے مطابق ہم نے پہلا تجرباتی ثبوت پیش کیا ہے کہ پہلے سے انفلوائنزا اے وائرس سے متاثر ہونے پر نئے کورونا وائرس کے خلیات میں داخلے اور افعال بہت تیز ہوجاتے ہیں۔

رواں سال کے شروع میں ووہان، جہاں سے کورونا وائرس کی وبا گزشتہ سال کے آخر میں پھیلنا شروع ہوئی تھی، وہاں کے ڈاکٹروں نے دریافت کیا تھا کہ انفلوائنزا اور کورونا دونوں کے مشترکہ شکار متعدد افراد سنگین حد تک بیمار ہوکر آئی سی پو میں داخل ہوئے۔

دیگر ممالک کے طبی حکام نے بھی دونوں بیماریوں کے اکٹھے ہونے کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کیا ہے۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے اگست میں کہا تھا کہ امریکا کو فلو سیزن میں ہماری تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انفلوائنزا اے وائرس کے کسی بھی مریض کے جسم کے اندر خلیات کی سطح پر ان ریسیپٹرز ایس 2 کی تعداد بڑھ سکتی ہے جن کی مدد سے کورونا وائرس سے خلیات کو جکڑتا ہے۔

ایس 2 بنیادی طور پر ایک پروٹین ہے جن کے بارے میں پہلے ہی ثابت ہوچکا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کو خلیات کو جکڑنے میں سہولت فراہم کرتا ہے، جن اعضا میں یہ ریسیپٹر زیادہ ہوتے ہیں، ان کو کووڈ 19 سے زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران محققین نے انفلوائنزا کی مختلف اقسام بشمول ایچ 1 این 1 اور ایچ 2 این 3 کو استعمال کیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ انہوں نے دریافت کیا کہ انفلوائنزا کی تمام اقسام نئے کورونا وائرس کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان کے نتیجے میں کورونا کی نقول بننے کا عمل کیوں طاقتور ہوجاتا ہے۔

مگر انہوں نے انفلوائنزا اے وائرس کے ایک جینیاتی پہلو کی جانب اشارہ کیا جو ممکنہ طور پر کورونا وائرس کو کسی متاثرہ خلیے کے اندر اپنی نقول بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سماجی دوری اور فیس ماسک کا استعمال لوگوں کو ان میں سے کسی ایک یا دونوں وائرسز کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے مدددگار ہے۔