ایتھوپیا کے منحرف رہنما کا اریٹیریا کے ہوائی اڈے پر بمباری کا دعویٰ

15 نومبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ ان کی فوجیں ایتھوپیا کے فوجیوں کے علاوہ اریٹرین فوج سے بھی لڑ رہی ہے—فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ ان کی فوجیں ایتھوپیا کے فوجیوں کے علاوہ اریٹرین فوج سے بھی لڑ رہی ہے—فوٹو: اے ایف پی

ایتھوپیا کے شمالی ٹیگرے کے رہنما نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے ہمسایہ ملک اریٹیریا کے دارالحکومت میں ہوائی اڈے پر بمباری کی تھی۔

غیرملکی خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق وفاقی حکومت کے فوجیوں اور ٹیگرے کی افواج کے مابین شمالی ایتھوپیا میں ہونے والی لڑائی بین الاقوامی سرحد کے پار پھیل چکی ہے۔

مزیدپڑھیں: ایتھوپیا میں پرتشدد لڑائی: فوجیوں سمیت ہزاروں افراد کی سوڈان ہجرت

ٹیگرے کے صدر ڈیبریٹسن گیبریمائیکل نے یہ نہیں بتایا کہ ہفتے کے روز اسمارا پر کتنے میزائل داغے گئے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ اریٹیریا کا واحد شہر ہے جس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی افواج گزشتہ کچھ دنوں سے 'کئی محاذوں پر' اریٹریئن فورسز سے لڑ رہی ہیں۔

ڈیبریٹسن گیبریمائیکل نے اس کی وضاحت نہیں کی لیکن یہ کہا کہ اریٹرین فوجیں تعینات کی گئیں اور ایتھوپیا کی سرحد پر لڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فوجیں ایتھوپیا کے فوجیوں کے علاوہ اریٹرین فوج کی '16 ڈویژن' سے لڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایتھیوپیا کے آرمی چیف شمالی خطے میں لڑائی کے دوران عہدے سےبرطرف

ممکنہ طور پر جب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کو نشانہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ "میں آپ کو بتانا نہیں چاہتا لیکن میزائل بھی لمبی دوری کے تھے'۔

دوسری جانب اریٹرین کے عہدیداروں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اریٹرییا پر ہونے والے حملوں کے بعد ایتھوپیا کی حکومت کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

ایتھوپیا میں حکام نے کہا تھا کہ ہزاروں ایتھوپین شمالی ٹیگرے کے علاقے میں پرتشدد حملوں سے بچنے کے لیے ہمسایہ مملک سوڈان میں ہجرت کرگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایتھوپیا: گلوکار کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں 80 سے زائد افراد ہلاک

مشرقی سرحدی قصبے قصالہ میں سوڈان کی مہاجر ایجنسی کے سربراہ السیر خالد نے بتایا تھا کہ سرحد پار سے آنے والوں میں متعدد ایتھوپیایی فوجی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت اور ٹیگرے کی مقامی انتظامیہ کے درمیان طویل عرصے سے چپقلش تھی اور گزشتہ ہفتے جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔

فضائی کارروائی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ یہ لڑائی ملک میں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے اور اس سے پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔