ایتھوپیا میں پرتشدد لڑائی: فوجیوں سمیت ہزاروں افراد کی سوڈان ہجرت

اپ ڈیٹ 10 نومبر 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی آمد جاری ہے اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی آمد جاری ہے اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں—فوٹو: اے ایف پی

ایتھوپیا میں حکام نے کہا ہے کہ ہزاروں ایتھوپین شمالی ٹیگرے کے علاقے میں پرتشدد حملوں سے بچنے کے لیے ہمسایہ مملک سوڈان میں ہجرت کرگئے ہیں۔

مشرقی سرحدی قصبے قصالہ میں سوڈان کی مہاجر ایجنسی کے سربراہ السیر خالد نے بتایا کہ سرحد پار سے آنے والوں میں متعدد ایتھوپیایی فوجی بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ایتھیوپیا کے آرمی چیف شمالی خطے میں لڑائی کے دوران عہدے سےبرطرف

انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی آمد جاری ہے اور حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے دو دنوں میں کم از کم 25 سو مہاجرین نے ہجرت کی لیکن سیکڑوں مزید شہریوں کی آمد سے متعلق ابھی تک حکام نے کوئی 'کارروائی' نہیں کی۔

السیر خالد نے مزید کہا کہ کم از کم 30 ایتھوپیایی فوجیوں نے بھی 'سوڈانی فوجی چوکی پر اپنے آپ کو حوالے کردیا'۔

واضح رہے کہ ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نے ٹیگرے میں علاقائی حکومت کے خلاف فوج اور جنگی طیارے بھیجے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ چھوٹے بچوں والے کنبے سوڈان پہنچنے کے لیے دریا عبور کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایتھوپیا: گلوکار کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں 80 سے زائد افراد ہلاک

اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی کے ترجمان بابر بلوچ نے بتایا کہ سوڈان کی ریاست گیدرف میں دو سرحدی داخلی راستوں پر 'کئی سو سے زیادہ پناہ گزین' موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یو این ایچ سی آر زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے کے لیے وسائل جمع کر رہی ہے'۔

بابر بلوچ نے بتایا کہ 'آنے والے مہاجرین کی اسکریننگ کی جارہی ہے اور انہیں سرحدی مقامات سے منتقل کرکے ریاست کاسالہ کے شگراب کیمپ میں موجود استقبالیہ مرکز میں منتقل کیا جائے گا'۔

واضح رہے کہ حکومت اور ٹیگرے کی مقامی انتظامیہ کے درمیان طویل عرصے سے چپقلش تھی اور گزشتہ ہفتے جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔

فضائی کارروائی میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کہ یہ لڑائی ملک میں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے اور اس سے پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایتھوپیا کے وزیر اعظم کیلئے امن کا نوبیل انعام

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ایتھوپیا کی مرکزی حکومت کے فوجیوں اور ٹیگرے فورسز کے درمیان 8 مختلف مقامات پر لڑائی جاری ہے۔

وزیراعظم آبے محمد نے خطے میں کارروائی کے لیے فوج کو احکامات جاری کیے تھے جبکہ اس سے قبل ٹیگرے حکومت کی حامی فورسز نے میکیلے میں مرکزی فوج کے ایک بیس پر قبضہ کیا تھا۔

ایتھوپیا کی کابینہ نے بھی خطے میں 6 ماہ کے لیے ہنگامی حالات کا اعلان کیا ہے۔