سینئر بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی، ایل او سی فائرنگ پر احتجاج

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2020

ای میل

سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج کیا گیا— فائل فوٹو: اے پی
سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج کیا گیا— فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی افواج کی جانب سے 22 نومبر کو لائن آف کنٹرول کے کھوئی رٹہ سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

22 نومبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 11 بے گناہ شہری شدید زخمی ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: کوٹلی میں بھارتی فوج کی شیلنگ سے 7 سالہ لڑکی سمیت 11 افراد زخمی

پیر کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا گیا۔

احتجاجی مراسلے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔

بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ اسٹرٹیجک غلطی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے رواں سال کے دوران 2 ہزار 820 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس کے نتیجے میں 26 بے گناہ شہری شہید اور 245 زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت سلامتی کونسل کی رکنیت کا اہل نہیں، منیر اکرم

بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

بیان میں بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے۔

اس کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک سے مطالبہ کیا گیا کہ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرینکو اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

یاد رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن کے قریب آزاد جموں و کشمیر کے ضلع کوٹلی میں شادی کے گھر میں مارٹر شیل کی فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ابتدائی طور پر 7 سالہ لڑکی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع آئی تھی لیکن بعد میں واضح کیا گیا کہ وہ دماغ میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں 22 نومبر سے لاک ڈاؤن کا فیصلہ

ڈان کو سب ڈویژن خوراٹہ کے اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) سید نسیم عباس کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے سری سیکٹر میں بلا اشتعال صبح تقریباً 10 بجے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے شیلنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی شیلنگ سے ایل او سی کے قریبی گاؤں جنجوٹ بہادر میں واقع ایک گھر میں ایک موٹر شیل گرا جہاں کووڈ-19 کی وجہ سے عائد لاک ڈاؤن کے باعث دروازہ بند شادی کی تقریب جاری تھی۔

اے سی سید نسیم عباس نے کہا کہ شیلنگ کے نتیجے میں 11 شرکا زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔