شام کی اقوامِ متحدہ کی قرار داد کی خلاف ورزی پر امریکی مذمت

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2018

ای میل

امریکا نے شامی اور روسی افواج کو اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی کرنے اور شامی شہر غوطہ میں بمباری جاری رکھنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نمائندہ کیلی کری کا کہنا تھا کہ امریکا، شامی فورسز کی جانب سے غوطہ میں جاری بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے۔

خیال رہے کہ شامی دارالحکومت دمشق سے کچھ فاصلے پر واقعے شہر غوطہ 2013 سے باغیوں کے زیرِ اثر ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں متفقہ طور پر جنگ بندی کے لیے منظور ہونے والی قرارداد کے بعد بھی شامی حکومت نے غوطہ میں بمباری جاری رکھی اور سیکڑوں لوگوں کی جان لے لی۔

مزید پڑھیں: شام: امدادی سامان کے بدلے خواتین کے جنسی استحصال کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے صاف ظاہر ہے کہ شامی حکومت نے نہ صرف سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی بلکہ اقوامِ متحدہ کی بھی توہین کی۔

ادھر انسانی حقوق کی نگراں تنظیم نے اقوامِ متحدہ میں بتایا کہ روسی جنگی جہازوں کے ساتھ بشارالسد کی فوج نے 18 فروری کو غوطہ میں بمباری کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک سیکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے شام میں 30 روز کے لیے عارضی جنگ بندی کرنے اور جنگ زدہ علاقے میں شدید بیمار اور زخمی افراد کو طبی امداد دینے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی تھی۔

یہ قرار داد کویت اور سوئیڈن کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں آخری لمحات میں ترمیم کی گئی جس کا مقصد روس کو مطمئن کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا نے شام کو کیمیائی آلات فراہم کیے، اقوام متحدہ

قرار داد کے منظور ہونے کے بعد روس نے روزانہ کی بنیاد پر 5 گھنٹوں کے لیے ’عارضی جنگ بندی‘ کی اجازت دے دی تھی جس کا مقصد عام شہریوں کا علاقے سے انخلا تھا۔

27 فروری کو امریکا نے روس پر زور دیا تھا کہ وہ شام کے باغیوں کے ہاتھوں محصور علاقے مشرقی غوطہ میں خونی جنگ ’فوری طور پر‘ روکنے کے لیے اپنا ’اثر و رسوخ‘ استعمال کرے۔

یاد رہے کہ یہ اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ جنگ زدہ شام کے شہر غوطہ میں سرکاری فوج اور فضائیہ کی جانب سے کارروائیوں اور بمباری سے گزشتہ چند روز کے دوران 121 بچوں سمیت 510 عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔