شمالی کوریا نے شام کو کیمیائی آلات فراہم کیے، اقوام متحدہ

28 فروری 2018

ای میل

اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے شام کو کیمائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے آلات فراہم کیے گئے۔

امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے شام کو تیزابی اثرات کو روکنے والی ٹائلز، والووز اور تھرمامیٹر بھیجے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ایک پینل کی جانب سے شمالی کوریا پر تیار کی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل بنانے کے ماہرین نے شام کو کیمائی ہتھیار بنانے کے لیے آلات بھیجنے کے بعد 2016 اور2017 میں دورہ بھی کیا۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک نے ماہرین کے پینل کو آگاہ کیا کہ شمالی کوریا کے سائنس دان اب بھی شام کے شہروں برزہ، عدرا اور حما میں سرگرم عمل ہوسکتے ہیں۔

شام میں ہونے والے حالیہ شدید بمباری کو روس کی جانب سے وقفے کے اعلان کے ایک روز بعد آنے والی اطلاعات کے مطابق غوطہ میں جرائم کو ختم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شام: مشرقی غوطہ میں 5 گھنٹوں کے لیے ’عارضی جنگ بندی’ کی اجازت

خیال رہے کہ روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز کی جانب سے مشرقی غوطہ میں کی جانے والی بمباری کا مقصد شام میں موجود باغیوں کی آخری پناہ گاہ کا قبضہ حاصل کرنا تھا تاہم 5 گھنٹوں کے لیے وقفے کے نفاذ کے بعد بھی پہلے ہی روز سات افراد کو مارا گیا تھا۔

روس نے مشرقی غوطہ میں جاری شدید بمباری کے بعد باغیوں پر مزید دباؤ بڑھانے اور عام شہریوں کے انخلا کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 5 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن نے حکم دیا کہ روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 2 تک عارضی طور پر جنگ بندی رہے گی۔

اس حوالے سے انسانی حقوق کے شامی مبصرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 دنوں میں زمینی اور فضائی حملوں میں 550 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں:اقوامِ متحدہ کا شام میں 30 روز کی عارضی جنگ بندی کا مطالبہ

قبل ازیں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں شام میں 30 روز کے لیے عارضی جنگ بندی اور جنگ زدہ علاقے میں شدید بیمار اور زخمی افراد کو طبی امداد دینے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کرلی گئی تھی جس میں 'بغیر کسی دیر کے' جنگ زدہ علاقے میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ قرار داد کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں آخری لمحات میں ترمیم کی گئی جس کا مقصد روس کو مطمئن کرنا تھا جو 72 گھٹوں بعد جنگ بندی کے لیے آمادہ ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیوتریز نے اس قرار داد پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی غوطہ کی صورت حال کو 'زمین پر جہنم' قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ روس کی حمایت یافتہ شامی حکومتی فورسز کی جانب سے جاری وحشیانہ بمباری سے مشرقی غوطہ میں صورت حال سنگین ہوچکی ہے اور افراط زر کافی بلند ہوچکا ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔