شام: مشرقی غوطہ میں 5 گھنٹوں کے لیے ’عارضی جنگ بندی’ کی اجازت

27 فروری 2018

ای میل

شام میں جاری خانہ جنگی میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے مشرقی غوطہ میں جاری شدید بمباری کے بعد باغیوں پر مزید دباؤ بڑھانے اور عام شہریوں کے انخلا کے لیے روس نے روزانہ کی بنیاد پر 5 گھنٹوں کے لیے ’ عارضی جنگ بندی‘ کی اجازت دے دی۔

خیال رہے کہ شام کے علاقے مشرقی غوطہ میں شامی صدر بشارالسد کی حکومتی فورسز کو روس کی حمایت حاصل ہے اور وہ اس علاقے میں مسلسل بمباری کررہا ہے۔

عربی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن نے حکم دیا کہ روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 2 تک عارضی طور پر جنگ بندی رہے گی۔

اس حوالے سے انسانی حقوق کے شامی مبصرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 دنوں میں زمینی اور فضائی حملوں میں 550 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا شام میں 30 روز کی عارضی جنگ بندی کا مطالبہ

شامی سول ڈیفنس ریسکیو ٹیم کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں ایک بچہ ہلاک جبکہ مشرقی غوطہ کے الشفانیہ ٹاؤن میں ہونے والے کلورین گیس حملے میں 18 افراد زخمی بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سے مشرقی غوطہ میں موجود باغی شامی فورسز سے زمینی سطح پر لڑائی لڑ رہے ہیں جبکہ فورسز انہیں اس جگہ سے باہر نکالنے کی کوشش میں بدترین بمباری کر رہی ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے ہفتے کو ایک قرار داد پاس کی، جس میں شام میں 30 روز کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا لیکن وہاں موجود مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کے باوجود شیلنگ جاری ہے۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گیوٹرز نے اس قرار داد پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے مشرقی غوطہ میں صورتحال کو’ زمین پر جہنم‘ قرار دیا۔

یاد رہے کہ روس کی حمایت یافتہ شامی حکومتی فورسز کی جانب سے جاری وحشیانہ بمباری سے مشرقی غوطہ میں شدید قہر کی صورتحال ہے اور افراط زر کافی بلند ہوگیا ہے اور ایک ڈبل روٹی کے بیگ کی قیمت 5 ڈالر (550 روپے) سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔

امداد کے نام پر خواتین کا جنسی استحصال

دوسری جانب شام میں جاری اس خانہ جنگی کے بعد امداد کے نام پر خواتین کے جنسی استحصال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شام میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے امداد دینے پر مامور مردوں کی جانب سے خواتین کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے۔

اس بارے میں امدادی رضا کاروں کا کہنا تھا کہ تین سال قبل بدسلوکی پر انتباہ کے باوجود مرد جنسی خواہشات کے لیے خوراک کی تجارت کر رہے ہیں اور نئی رپورٹ میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ عمل ملک کے جنوبی حصے میں جاری ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور خیراتی اداروں کا کہنا تھا کہ جنسی استحصال کے حوالے سے ان کی زیرو تشدد کی پالیسی ہے اور وہ خطے میں کسی ساتھی ادارے کی جانب سے بدسلوکی کے واقعے سے لاعلم تھے۔

مزید پڑھیں: شام میں 121 بچوں سمیت 510 شہری جاں بحق

امدادی رضا کاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کے جنسی استحصال کا یہ عمل کافی وسیع ہے اور کچھ شامی خواتین امداد حاصل کرنے والے مراکز پر جانے سے انکار کرتی ہیں کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ امداد گھر لے جانے کے لیے اپنے جسم کی پیش کش کریں گے۔

اس بارے میں ایک رضا کار نے دعویٰ کیا کہ کچھ انسانی حقوق کی تنظیمیں جنسی استحصال کے معاملے پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں کیونکہ وہ کسی تیسرے فریق اور مقامی حکام کو شام کے ان خطرناک علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے استعمال کرتی ہیں جہاں بین الاقوامی اسٹاف نہیں جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) کی جانب سے گزشتہ برس خطے میں صنفی بنیادوں پر تشدد کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی تھی اور اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ شام کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کے لوگ جنسی استحصال کے لیے خواتین کو استعمال کرتے ہیں۔

’شام 2018 سے آوازیں‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں خواتین یا لڑکیوں کو خوراک کے حصول کے لیے حکام کی جانب سے اپنے جنسی عزائم کے لیے وقتی شادی کی پیش کش کی جاتی تھی۔

اس کے علاوہ خوراک دینے والوں کی جانب سے لڑکیوں اور خواتین سے ٹیلی فون نمبرز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور وہ انہیں ان کے گھر تک چھوڑنے کے لیے لفٹ دیتے ہیں، جس کے بدلے میں وہ کچھ مانگتے ہیں، ساتھ ہی ڈسٹری بیورٹرز سے کچھ حاصل کرنے کے لیے وہ خواتین اور لڑکیوں کے گھر آنے کا کہتے ہیں یا ان سے رات بھر ساتھ رہنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’شام میں مردوں کے تحفظ کے بغیر رہنے والی خواتین اور لڑکیاں، جیسے بیوہ، طلاق یافتہ اور اپنے گھروں سے محروم خواتین کو جنسی استحصال کے لیے آسان ہدف سمجھا جاتا ہے‘۔

واضح رہے کہ شام میں اس طرح کے واقعات تین سال قبل منظر عام پر آئے تھے جب امداد کے لیے کام کرنے والی انسانی حقوق کی مشیر ڈینیل اسپینسر نے بتایا تھا کہ 2015 میں جب وہ اردن میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں گئی تھیں تو وہاں شامی خواتین کی جانب سے اس طرح کے الزامات سامنے آئے تھے۔

مزید پڑھیں: ہم مرنے کا انتظار کررہے ہیں، مشرق غوطہ کے مکین

انہوں نے بتایا کہ خواتین کے ایک گروپ نے انہیں بتایا تھا کہ کس طرح ڈارا اور قونیترا کے مقامی علاقوں میں مرد امداد کے لیے ’سیکس‘ کی پیش کش کرتے ہیں۔

ڈینینل اسپینسر نے بتایا کہ ’جو امداد لوگوں کو دینے کے لیے دی جاتی ہے وہ اسے روک لیتے ہیں اور پھر اسے خواتین کے جنسی استحصال کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘۔

انسانی حقوق کی مشیر کے دورہ کے بعد بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انہوں نے ڈارا اور قونیترا میں 190 خواتین اور لڑکیوں سے سروے کیا اور ان کی رپورٹ کے مطابق 40 فیصد نے کہا کہ انسانی حقوق کی امداد سمیت کسی بھی طرح کی خدمات کے حصول کے لیے انہیں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔