کراچی: غلط انجیکشن کا شکار 9 ماہ کی بچی انتقال کرگئیں

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

رپورٹس کے مطابق غلط انجیکشن سے بچی کے دماغ کو نقصان پہنچا تھا — فوٹو: شٹر اسٹاک
رپورٹس کے مطابق غلط انجیکشن سے بچی کے دماغ کو نقصان پہنچا تھا — فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی کے نجی ہسپتال میں غلط انجیکشن کا شکار ہونے والی 9 ماہ کی بچی نشوا کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع نجی ہسپتال دارالصحت میں 7 اپریل کو غلط انجیکشن لگنے سے 9 ماہ کی بچی نشوا کی حالت بگڑ گئی تھی۔

جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی دنوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج تھی۔

تاہم آج ترجمان لیاقت نیشنل ہسپتال کی جانب سے بتایا گیا کہ ہسپتال میں نشوا کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئی۔

مزید پڑھیں: کراچی: ’ہسپتال انتطامیہ کی غفلت سے 9 ماہ کی بچی کے دماغ کو نقصان پہنچا‘

ترجمان ڈاکٹر انجم رضوی کا کہنا تھا کہ نشوا دارالصحت ہسپتال سے ہمارے پاس آئی تھی لیکن اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی، بچی کا دماغ بری طرح متاثر تھا اور وہ مفلوج حالت میں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے سر توڑ کوشش کی لیکن بچی کی حالت بہت زیادہ خراب تھی، آج صبح طبیعت مزید خراب ہوئی اور پھیپڑوں نے آکسیجن لینا بند کردی۔

واضح رہے کہ 6 اپریل کو قیصر علی نامی شخص اپنی 9 ماہ کی بیٹی نشوا کو طبیعت خراب ہونے پر دارالصحت ہسپتال لائے تھے۔

غلط انجیکشن کا یہ واقعہ دارالصحت ہسپتال میں 7 اپریل کو پیش آیا تھا، جہاں ایک ملازم نے 9 ماہ کی نشوا کو غلط انجیکشن لگایا، جس سے اس کی حالت بگڑ گئی اور ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوگئے جبکہ 71 فیصد دماغ مفلوج ہوچکا تھا۔

واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بچی کے والد نے روتے ہوئے روداد سنائی تھی کہ ان کی بیٹی کو دست کی شکایت پر ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں ہسپتال کے ملازم نے اسے وہ انجیکشن ایک منٹ میں لگا دیا جو انسانی جسم میں 24 گھنٹے میں ڈرپ کے ذریعے دیا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد حکومت سندھ نے بھی واقعے کا نوٹس لیا تھا جبکہ دارالصحت ہسپتال انتظامیہ نے بھی غلطی تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ عملے کو معطل کردیا تھا۔

تاہم اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ متاثرہ بچی کے والدین پر پولیس کی جانب سے معاملے کو حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ بعد ازاں شاہراہ فیصل تھانے میں نومولود بچی کے والد کی شکایت پر دارالصحت ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

اس مقدمے کو پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 324، 337 اور 34 کے تحت درج کیا تھا۔

کیس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب قیصر علی نے 6 اپریل کو اپنی 9 ماہ کی بیٹی نشوا کو دست کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا۔

تاہم اگلے روز 7 اپریل کی صبح ہسپتال کے اسٹاف نے نشوا کو پوٹیشیئم کلورائیڈ کا اوور ڈوز دے دیا۔

بچی کے والد نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ انجیکشن ڈرپ کے ذریعے دیا جانا تھا تاہم ہسپتال نے غفلت برتتے ہوئے اسے انجیکشن دے دیا۔

انجیکشن لگنے کے چند منٹ بعد ہی بچی کے ہونٹ نیلے ہوگئے تھے اور اسے سانس لینے میں مشکلات کا سامنا تھا جس کے بعد اسے آئی سی یو منتقل کیا گیا جہاں 45 منٹ تک اسے سی پی آر دیا گیا جس کے بعد اس کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس کے بعد اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: نوماہ کی بچی کو انجیکشن لگانے کا کیس، ڈاکٹر سمیت 3 افراد گرفتار

قیصر علی کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کو 12 اپریل کو وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ 45 منٹ تک بچی کو دیے گئے سی پی آر سے اس کے دماغ کو نقصان پہنچا۔

ایف آئی آر کے مطابق نشوا کے سی ٹی اسکین سے انکشاف ہوا تھا کہ دماغ کو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے اس کے ہاتھ، پاؤں اور منہ مفلوج ہوگئے تھے۔

دکھی والد کی فریاد

نومولود نشوا کے انتقال پر غم سے نڈھال والد قیصر علی نے میڈیا سے مختصر بات چیت میں کہا کہ ’ہم کسی اچھے ملک میں نہیں رہتے، یہاں آپ کسی کو نہیں بچا سکتے، میری بیٹی نے بہت ہمت کی لیکن وہ ہار گئی۔

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی چلی گئی لیکن سب مل کر کھڑے ہوں تاکہ کسی اور کی بیٹی نہ جائے، ورنہ یہی خبر بنتی رہے گی، تصویریں بنتی رہیں گی، حکام آکر ملتے رہیں گے اور ہوگا کچھ نہیں۔

قبل ازیں اپنی بچی کی ایسی حالت دیکھ کر والد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹس میں اپنی بیٹی کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کی تھی۔

قیصر علی نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اتنا تو کوئی بھی نہیں سوتا جتنا نشوا سوتی ہے، یہ تو سوتی ہی نہیں تھی، یہاں سے وہاں کرال، وہاں سے یہاں بھاگنا اور اب صبح سے شام تک صرف سوتی ہے۔

والد نے لکھا تھا کہ نشوا صرف شدید درد میں آنکھ کھول کر یہ پیغام دیتی ہے کہ بہت درد ہورہا ہے، یااللہ نشوا کی تکلیف کو کم کردے۔

انہوں نے اپنی ننھی کلی کی تکلیف کو بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس حالت میں ڈاکٹر و دوست، احباب دعاؤں میں صحت کا نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں کہ دعا کریں کہ نشوا کو مزید تکلیف نہ ہو۔

سوشل میڈیا پر نشوا کیلئے انصاف کا مطالبہ

ننھی بچی کی موت پر نہ صرف والدین غم سے نڈھال ہیں بلکہ ہر خاص و عام بھی نشوا کی موت پر افسوس کا اظہار کر رہا ہے اور ہسپتال اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں سوشل میڈیا خاص طور پر ٹوئٹر پر ’نشوا‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جبکہ ’نشوا کے لیے انصاف‘ کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ نشوا کی ناگہانی موت نے ہمارے صحت کے نظام کی ایک بار پھر قلعی کھول دی ہے، صحت کا یہ نظام ملک کی عمومی گورننس کا چہرہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ عشروں کی لاپروائی اور کم ظرف قیادت نے سارا نظام تباہ کر دیا ہے، ہمیں ایک مشکل راستہ ملا ہے لیکن روشنی کی کرن یہ ہے کہ ایک مخلص قیادت اب میسر ہے۔

اسی طرح خاتون اینکر فرح اقرار نے بھی ٹوئٹ کی کہ اس خبر پر دل پھٹ رہا ہے کہ ننھی معصوم پری نشوا اس دنیا سے رخصت ہو گئی، اس کے والدین کی اذیت کو کوئی کم نہیں کر سکتا نہ کبھی نشوا واپس آسکے گی۔

انہوں نے سوال کیا کہ نہ جانے کتنی جانیں غفلت کے باعث جاتی ہیں لیکن ایسے ظالموں کو سزا تک نہیں ملتی کیسا انصاف ہے یہ؟؟؟

ساتھ ہی ایک اور خاتون اینکر نے بھی نومولود نشوا کی موت پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

ہسپتال کے ڈاکٹر و ملازمین گرفتار

بچی کو غلط انجیکشن دینے والے ملازم کو گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ گزشتہ شب ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود خاتون ڈاکٹر سمیت 3 عہدیداروں کو بھی گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: نومولود بچے اور ماں سے ملنے جائیں تو ان اصولوں کو ضرور یاد رکھیں

شاہراہ فیصل پولیس کے اسٹیشن انوسٹی گیشن افسر (ایس آئی او) اسلم مغل کا کہنا تھا کہ گرفتار خاتون ڈاکٹر اس وقت دارالصحت ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود تھیں جب 9 ماہ کی بچی کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا اور اس کے دماغ کو مبینہ طور پر انجیکشن کی زیادتی کے باعث نقصان پہنچا تھا۔

اسلم مغل نے کہا تھا کہ گرفتار عہدیداروں میں ڈاکٹر ثوبیہ، نرسنگ انچارج عاطف جاوید اور ایڈمنسٹریٹر احمد شہزاد شامل ہیں۔