سی پیک پر ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

وزیرخارجہ کا بیان امریکا کے سی پیک پر الزامات اور چین کے اس پر ردعمل کے بعد سامنے آیا—فائل فوٹو: شاہ محمود فیس بک پیج
وزیرخارجہ کا بیان امریکا کے سی پیک پر الزامات اور چین کے اس پر ردعمل کے بعد سامنے آیا—فائل فوٹو: شاہ محمود فیس بک پیج

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے ہمیں اپنا مفاد دیکھنا ہے، جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔

سی پیک سے متعلق امریکی الزامات اور چین کے ردعمل کے بعد موجودہ صورتحال کے تناظر میں جاری کیے گئے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے رکھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں حالات بگڑتے ہیں یا جنوبی ایشیا میں کوئی چپقلش جنم لیتی ہے تو خطے کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، لہٰذا ان تمام مسائل کو اجاگر کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اجاگر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ پاکستان پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور وہ جلد پاکستان آنے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور وہ اس کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی پاک چیف اقتصادی راہداری سے متعلق انہوں نے کہا کہ سی پیک سے متعلق ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے، جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں بھی سی پیک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ معاملہ امریکی سینئر سفیر ایلس ویلز کے بیان کے بعد سامنے آیا۔

سی پیک سے متعلق امریکی سفیر نے کیا کہا تھا؟

گزشتہ دنوں تھنک ٹینک سے کی ایک تقریب سے خطاب میں ایلس ویلز نے اسلام آباد سے سی پیک میں شمولیت کے فیصلے پر نظرثانی کا کہا تھا اور چین کے ون بیلڈ ون روڈ انیشی ایٹو منصوبے پر تنقید کی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں، پاکستان کا قرض چین کی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

ایلس ویلز نے سی پیک پر مختلف سوالات اٹھائے تھے، فوٹو: اے پی
ایلس ویلز نے سی پیک پر مختلف سوالات اٹھائے تھے، فوٹو: اے پی

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ ایلس ویلز کا یہ بیان 21 نومبر 2019 کو واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں دیے گئے بیان جیسا ہی تھا تاہم اسلام آباد کے دورے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات بنانے پر زور دینے کے بعد ان کا دوبارہ یہ دعویٰ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا۔

سی پیک پر الزامات لگاتے ہوئے سفیر ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی کمپنیوں کو سی پیک میں ٹھیکے ملے ہیں۔

ساتھ ہی امریکی سفیر نے حال ہی میں قائم کی جانے والی سی پیک اتھارٹی کو مقدمات سے استثنیٰ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی سفارتخانے نے ایلس ویلز کا سی پیک مخالف 'پروپیگنڈا' مسترد کردیا

خیال رہے کہ سی پیک اتھارٹی تعاون اور منصوبوں کے لیے نئے علاقوں کی نشاندہی، سہولیات کی فراہمی، رابطہ اور جاری منصوبوں کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا نیا ادارہ ہے۔

چین کا امریکی بیان پر ردعمل

امریکی سفیر کے اس بیان پر چین کا بھی ردعمل سامنے آیا تھا اور چینی سفارتخانے نے 'سی پیک' پر تنقید کو منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل میں کہا تھا کہ 21 جنوری کو دورہ پاکستان پر آنے والی امریکی نائب سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے منفی ردعمل دیا جو نئی بات نہیں ہے بلکہ نومبر 2019 والی تقریر کا تکرار ہے جسے پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا تھا کہ ہمیں پاک-امریکا تعلقات پر خوشی ہے تاہم پاک-چین تعلقات اور سی پیک میں امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور امریکا کے منفی پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سی پیک منصوبے کے معاہدے بلیک لسٹڈ اداروں کو دیے گئے، امریکا

انہوں نے کہا تھا کہ سی پیک کے منصوبوں میں پاک-چین باہمی مشاورت اور مشترکہ مفاد کے لیے باہمی تعاون پر پرعزم ہیں جبکہ چین، پاکستانی عوام کے مفادات کو سب سے مقدم رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برس میں 32 منصوبوں کی قبل از وقت تکمیل سے ثمرات حاصل ہوئے، بروقت تکمیل سے مقامی ذرائع آمد و رفت میں بہتری آئی اور روزگار کے 75 ہزار مواقع پیدا ہوئے اور پاکستان کے جی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

چینی سفارت خانے نے واضح کیا تھا کہ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام کو دینا ہے نہ کہ امریکا نے، چینی حکومت چینی کمپنیوں سے ہمیشہ مقامی قوانین کے تحت کام کرنے کی درخواست کرتی ہے، سی پیک میں شامل ہونے والی تمام کمپنیاں بین الاقوامی تشخص رکھتی ہیں، سختی سے منڈیوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر قابل قبول بزنس ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کرتی ہیں۔