چینی سفارتخانے نے ایلس ویلز کا سی پیک مخالف 'پروپیگنڈا' مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

ترجمان کے مطابق سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام کو دینا ہے نہ کہ امریکا نے — فائل فوٹو / اے ایف پی
ترجمان کے مطابق سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام کو دینا ہے نہ کہ امریکا نے — فائل فوٹو / اے ایف پی

چینی سفارتخانے نے امریکی نائب سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز کی 'سی پیک' پر تنقید کو منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ 21 جنوری کو دورہ پاکستان پر آنے والی امریکی نائب سیکریٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے منفی ردعمل دیا جو نئی بات نہیں ہے بلکہ نومبر 2019 والی تقریر کا تکرار ہے جسے پاکستان اور چین دونوں مسترد کر چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہمیں پاک ۔ امریکا تعلقات پر خوشی ہے تاہم پاک ۔ چین تعلقات اور سی پیک میں امریکی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور امریکا کے منفی پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں پاک ۔ چین باہمی مشاورت اور مشترکہ مفاد کے لیے باہمی تعاون پر پرعزم ہیں جبکہ چین، پاکستانی عوام کے مفادات کو سب سے مقدم رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برس میں 32 منصوبوں کی قبل از وقت تکمیل سے ثمرات حاصل ہوئے، بروقت تکمیل سے مقامی ذرائع آمد و رفت میں بہتری آئی اور روزگار کے 75 ہزار مواقع پیدا ہوئے اور پاکستان کے جی ڈی پی میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

چینی سفارت خانے نے واضح کیا کہ سی پیک کام کر رہا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب پاکستانی عوام کو دینا ہے نہ کہ امریکا نے، چینی حکومت چینی کمپنیوں سے ہمیشہ مقامی قوانین کے تحت کام کرنے کی درخواست کرتی ہے، سی پیک میں شامل ہونے والی تمام کمپنیاں بین الاقوامی تشخص رکھتی ہیں، سختی سے منڈیوں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر قابل قبول بزنس ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: سی پیک منصوبے کے معاہدے بلیک لسٹڈ اداروں کو دیے گئے، امریکا

ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان کے متعلقہ احتسابی اداروں سے رابطے میں ہیں اور متفق ہیں کہ سی پیک شفاف ہے، پاکستانی اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا کُل بیرونی قرضہ 110 ارب امریکی ڈالرز ہے جن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پیرس کلب سمیت عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضہ دینے والوں میں سر فہرست ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے لیے کُل قرضہ 5.8 ارب امریکی ڈالرز ہے جو کہ کل بیرونی قرضہ جات کا 5.3 فیصد ہے، چینی قرض کی ادائیگی کی مدت تقریباً 2 فیصد شرح سود کے ساتھ 20 سے 25 برس ہے، چینی قرضہ جات کی ری پیمنٹس 2021 میں شروع ہوگی اور سالانہ 30 کروڑ امریکی ڈالر ہوگی جو پاکستان پر کبھی بوجھ نہیں ہوگی۔

ترجمان چینی سفارت خانہ کا کہنا تھا کہ چین نے کبھی کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مجبور نہیں کیا اورپاکستان سے بھی غیر معقول مطالبات نہیں کرے گا، امریکہ مسلسل خود ساختہ قرضہ جات کی کہانی میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے، امریکا کا حساب کتاب کمزور اور ارادے بدترین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں پابندیوں کی چھڑی لے کر گھومتا ہے اور ممالک کو بلیک لسٹ کرتا رہتا ہے، تاہم یہ امریکی عمل عالمی معیشت کے لیے نہیں بلکہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سینیئر امریکی سفیر ایلس ویلز نے پاک چین اقتصادی راہداری پر اپنی تنقید دوہراتے ہوئے اسلام آباد سے اس میں شمولیت کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پر ایلس ویلز کا بیان 'پرانے الزامات' ہیں، چین

اسلام آباد میں ھنک ٹینک کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چین کے ون بیلٹ ون روڈ انیشی ایٹو منصوبے پر تنقید کی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں، پاکستان کا قرض چینی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

ان کا یہ بیان اس سے قبل 21 نومبر 2019 کو واشنگٹن کے ولسن سینٹر میں دیے گئے ریمارکس جیسا ہی تھا تاہم اسلام آباد کے دورے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات بنانے پر زور کے بعد ان کا دوبارہ یہ دعویٰ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

قرضوں کے مسئلے پر ایلس ویلز نے زور دیا کہ چینی پیسے معاونت نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں کے لیے چین سے فنانسنگ حاصل کرکے پاکستان مہنگے ترین قرضے حاصل کر رہا ہے اور خریدار ہونے کے ناطے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیونکہ اس سے ان کی پہلے سے کمزور معیشت پر بھاری بوجھ پڑے گا۔

امریکی سفیر نے ریلوے ایم ایل 1 منصوبے کی لاگت میں اضافے پر بھی بات کی، جو کراچی سے پشاور کو جوڑتا ہے۔

انہوں نے حکومت سے بڑے منصوبوں پر شفافیت دکھانے کا مطالبہ کیا۔