ڈاؤ یونیورسٹی نے کورونا وائرس ٹیسٹ کیلئے کٹس کوریا سے درآمد کرلی

اپ ڈیٹ 12 فروری 2020

ای میل

چین  میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی ہے—فوٹو:اے ایف پی
چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی ہے—فوٹو:اے ایف پی

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے میں نوول کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے کوریا سے کٹس درآمد کرلی اور پاکستان میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے بعد ٹیسٹ کی سہولت حاصل کرنے والا دوسرا ادارہ بن گیا۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ کٹس پہنچ گئی ہیں اور ان کو کوریا سے درآمد کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کٹس کے استعمال کے لیے پی سی آر سمیت مطلوبہ آلات ڈاؤ یونیورسٹی میں پہلے سے موجود ہیں اور یہ کٹس جدید ٹیکنالوجی پی سی آر کے طریقہ کار پر ہی استعمال ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی مکمل صلاحیت حاصل کرلی، معاون خصوصی صحت

خیال رہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی سندھ میں واحد ہیلتھ کیئر انسٹی ٹیوٹ ہے جہاں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کی سہولت ڈاؤ یونیورسٹی سے قبل صرف نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس 2019 کے پیش نظر جنوری کے اوائل میں ہی کوریا سے وائرس کے ٹیسٹ کی کٹس درآمد کے لیے ہدایت جاری کردی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس 2019 اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ہے، جس کے ٹیسٹ سخت حفاظتی اقدامات اور مستند طریقہ کار کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے، اس لیے صرف آئسولیشن وارڈ میں رکھے گئے مشتبہ افراد کے ہی ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

حکومتِ سندھ کے محکمہ صحت کی ہدایت پر ڈاؤ یونیورسٹی میں ابتدائی طور پر دس بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ پہلے ہی تیار کرلیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے 3 فروری کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ چین سے کم از کم ایک ہزار کٹس موصول ہوگئی ہیں اور پاکستان نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں بیان میں ظفر مرزا نے کہا تھا کہ ‘الحمداللہ آج ہم پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں اور میں این آئی ایچ کی قیادت اور ٹیم کو ان کی سخت محنت پر تعریف کرنا چاہتا ہوں’۔

انہوں نے کہا ہے کہ ‘ہوائی اڈوں پر 199 ہیلتھ انفارمیشن بوتھ قائم کیے گئے ہیں جہاں کورونا وائرس سے متعلق سوالوں کے جواب دیے جائیں گے’۔

یہ بھی پڑھیں:چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1100 سے تجاوز کر گئیں

ڈان سے بات کرتے ہوئے این آئی ایچ لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلمان کا کہنا تھا کہ کٹس اتوار کی علی الصبح پاکستان پہنچ گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک ہزار کٹس چین سے پاکستان بھیجی گئی ہیں جبکہ کٹس کے استعمال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پی سی آر کی بنیاد پر ٹیسٹ ہے جو وائرس کے بننے کو آئیسولیٹ کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

ڈاکٹر محمد سلمان کا کہنا تھا کہ اب این آئی ایچ اسلام آباد میں ٹیسٹ کیے جائیں گے اور بعد میں ضرورت کے مطابق دیگر شہروں تک دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘ملک بھر میں حاصل کیے گئے نمونے ٹیسٹ کے لیے این آئی ایچ بھیجے جائیں گے جہاں اس کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ہم نے اس کے لیے باقاعدہ ایک طریقہ کار بھی وضع کرلیا ہے’۔

واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1100 سے تجاوز کر گئی ہیں لیکن وائرس میں مبتلا ہونے والے نئے افراد کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے جو خوش آئند ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے صرف 10 دن میں ایک ہزار بستروں کا ہسپتال کیسے تعمیر کیا؟

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔