مرد و خواتین کی مشترکہ ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتاریاں

12 فروری 2020

ای میل

ویڈیو ایرانی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی—اسکرین شاٹ
ویڈیو ایرانی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی—اسکرین شاٹ

ایرانی سوشل میڈیا پر فارسی زبان کے گانوں پر رقص کرتے مرد و خواتین کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد پولیس انتطامیہ نے ہوٹل کے اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کرلیا۔

عرب نشریاتی ادارے ’العربیہ‘ کے مطابق سوشل میڈیا پر مرد و خواتین کی مشترکہ ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کم سے کم تین ہوٹلز کے مینیجرز اور گلوکاروں کو گرفتار کرلیا۔

عرب نشریاتی ادارے نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ گرفتاریاں نامحرم مرد و خواتین کی ڈانس ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شروع کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مرد و خواتین کو فردوسی ہوٹل میں رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ’شبستان اور دیوان‘ نامی ہوٹلز کے مینیجرز اور وہاں گلوکاری کرنے والے فنکاروں کو بھی گرفتار کرلیا۔

پولیس نے تینوں ہوٹل کے اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف غیر اخلاقی ماحول پیدا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کردیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتاریوں کے بعد پولیس نے تینوں مذکورہ ہوٹل بھی بند کردیے۔

اسی واقعے کے حوالے سے ایرانی نژاد امریکی خاتون صحافی فرح ناز فصیحی نے ہوٹل میں ڈانس کرتے مرد و خواتین کی ویڈیو بھی ٹوئٹ کی۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ جہاں ویڈیو میں مرد و خواتین ایک ساتھ رقص کر رہے ہیں وہیں خواتین حجاب کے بغیر ہی دکھائی دے رہی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایرانی پولیس نے غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ سے کسی ہوٹل کو بند کیا ہو، ایرانی حکام صرف دارالحکومت تہران میں ہی 500 سے زائد ہوٹلوں کو بند کر چکے ہیں۔

تہران میں بند کیے گئے ہوٹل مالکان پر الزام تھا کہ وہ اپنے ہوٹلوں میں ڈانس جیسے پروگرامات سمیت دیگر غیر اخلاقی اور غیر مذہبی پروگرامات منعقد کرتے ہیں جن سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔