مالٹا: فراڈ کے الزام میں نصف سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار گرفتار

اپ ڈیٹ 12 فروری 2020

ای میل

چند افسران پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری ایندھن کو اپنی ذاتی سواریوں کے لیے استعمال کیا — فائل فوٹو / رائٹرز
چند افسران پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری ایندھن کو اپنی ذاتی سواریوں کے لیے استعمال کیا — فائل فوٹو / رائٹرز

یورپی ملک مالٹا میں ٹریفک پولیس فورس کے نصف سے زائد اہلکاروں کو مبینہ طور پر اوورٹائم فراڈ پر گرفتار کر لیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق حکام نے کہا کہ اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد ٹریفک پولیس فورس کے افسران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سڑکوں پر پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی پلان مرتب کریں۔

پولیس نے کہا کہ 50 اہلکاروں پر مشتمل ٹریفک پولیس فورس یونٹ کے لگ بھگ 30 اراکین سے اقتصادی جرائم یونٹ نے سوالات کیے۔

ان اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے تین سال کے عرصے کے دوران سیکڑوں اضافے گھنٹے کی درخواست فائل کی، حالانکہ اس عرصے میں انہوں نے کبھی اضافی ڈیوٹی کی ہی نہیں تھی۔

چند افسران پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری ایندھن کو اپنی ذاتی سواریوں کے لیے استعمال کیا۔

پولیس ذرائع نے کہا کہ اہلکاروں کی گرفتاری کے بعد سابق ٹریفک پولیس اہلکاروں، جو فورس کے دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں، انہیں واپس اپنی پُرانی ڈیوٹیوں پر آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مالٹا کے وزیر اعظم روبرٹ اَبیلا کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ پولیس اپنے ہی لوگوں کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہمارے پاس فعل پولیس فورس ہے، اگر ان تحقیقات کے نتیجے میں لوگوں کو عدالت میں لے جایا جاتا ہے یا ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ خوش آئیند بات ہوگی۔'

واضح رہے کہ مالٹا، یورپی یونین کا سب سے چھوٹا ملک ہے جس کی سیاسی و کاروباری ایلیٹ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران بڑے پیمانے پر کرپشن، دوستوں و رشتہ داروں کو نوازنے اور مالی باضابطگیوں کے کئی الزامات سامنے آئے ہیں۔

روبرٹ اَبیلا نے گزشتہ ماہ ہی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔