عمر اکمل کے ساتھ تنازع غلط فہمی کے نتیجے میں سامنے آیا، پی سی بی

اپ ڈیٹ 12 فروری 2020

ای میل

عمر اکمل فٹنس ٹیسٹ دینے نیشنل کرکٹ اکیڈمی گئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان
عمر اکمل فٹنس ٹیسٹ دینے نیشنل کرکٹ اکیڈمی گئے تھے—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم کے بلے باز عمر اکمل اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے عملے کے درمیان سامنے آنے والے تنازع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ 'غلط فہمی' کی وجہ سے سامنے آیا۔

پی سی بی سے جاری بیان کے مطابق ‘بورڈ نے عمر اکمل کے فٹنس ٹیسٹ کے دوران مبینہ بدانتظامی کے حوالے سے اپنی کارروائی مکمل کرلی ہے’۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘تمام فریقین کا موقف جاننے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا’۔

بورڈ کا کہنا ہے کہ ‘عمر اکمل کی جانب سے واقعے پر افسوس کا اظہار کرنے کے بعد پی سی بی نے انہیں سرزنش کرتے ہوئے بطور سینئر کرکٹر ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا‘۔

یہ بھی پڑھیں:عمر اکمل ایک نئے اسکینڈل کی زد میں، پابندی کا خدشہ

عمر اکمل کے ساتھ تنازع پر بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ‘معاملہ اب ختم ہوچکا، پی سی بی اور عمر اکمل اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے’۔

خیال رہے کہ عمر اکمل رواں ماہ کے شروع میں اس وقت میڈیا میں تنازع کا باعث بنے تھے جب وہ اپنے بھائی کامران اکمل کے ہمراہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں فٹنس ٹیسٹ دینے گئے جہاں مبینہ طور پر عملے سے بدتمیزی کی۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ فٹنس ٹیسٹ کے دوران عمر اکمل آپے سے باہر ہوگئے اور عملے سے بدتمیزی کی جس کے بعد ان کی اگلے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں شرکت پر پابندی لگنے کا خدشہ ہے۔

کامران اکمل نے اس معاملے کو سراسر غلط فہمی پر مبنی قرار دیا تھا۔

پی سی بی نے ان رپورٹس کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس معاملے کا بھرپور علم ہے اور وہ کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ سزا کے بارے میں سوچ رہے ہیں، عمر اکمل کو ممکنہ طور پر آنے والے ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔

عمر اکمل نے چیمپیئنز ٹرافی سے قبل نیشنل اکیڈمی میں لیے گئے ٹیسٹ میں شان دار فٹنس دکھائی تھی لیکن ٹورنامنٹ میں کم سے کم مطلوبہ معیار بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے اور انہیں واپس پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اب فٹنس پر خصوصی طور پر توجہ دے رہا ہے اور قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق ڈومیسٹک سطح پر بھی یہی معیار برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر سہ ماہی پر تمام صوبائی ٹیموں کو اپنی فٹنس ٹیسٹ کی تجدید شدہ رپورٹ جمع کرانی ہوتی ہے۔