بجٹ کیسا ہونا چاہیے؟

ای میل

بجٹ کیا ہوتا ہے اور اسے کس طرح سمجھا جا سکتا ہے یہ جاننے کے لیے آئیے ایک نظر پچھلے سال کے حکومتی اعداد و شمار پر ڈالتے ہیں۔

بجٹ ایک حساب کتاب ہے جو یہ بتاتا ہے کہ حکومت آنے والے ایک سال میں کن شعبوں سے کتنا پیسہ کمائے گی اور کن شعبوں پر کتنا پیسہ خرچ کرے گی۔ حکومت کا مالیاتی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اور 30 جون کو ختم ہوجاتا ہے۔ ابھی چونکہ 30 جون آنے میں چند دن باقی ہیں اس لیے حکومت نے پچھلے 9 ماہ کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔

اس ڈیٹا کے مطابق آمدن کا 76 فیصد ملکی آمدن سے حاصل کیا اور 24 فیصد قرض لے کر پورا کیا گیا۔ جو 76 فیصد آمدن حاصل ہوئی اس میں سے تقریباً 40 فیصد قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہوئے۔ 17 فیصد عسکری اداروں کو دیے۔ 4 فیصد عوامی تحفظ، ثقافت و مذہب اور ماحولیاتی تحفظ وغیرہ پر خرچ کیے۔ صحت پر 0.20 فیصد اور تعلیم پر تقریباً ایک فیصد خرچ کیا جبکہ بقیہ 37 فیصد صوبوں کو دے دیا گیا۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس پابندیوں سے 14 لاکھ روزگار ختم ہونے کا خدشہ

یہ وفاقی حکومت کے پچھلے 9 ماہ کے اخراجات کی سادہ سی وضاحت ہے۔ ان اعداد و شمار کو جاننے کے بعد آپ کو یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ مالیاتی سال 21ء-2020ء کا وفاقی بجٹ کیسا ہوگا۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے یہ بجٹ پورے سال کے لیے پیش کیا جاتا تھا لیکن پچھلے چند سالوں سے منی بجٹ کی روایت نے بھی جنم لیا ہے۔ یعنی کہ جو دکھ پہلے سال میں ایک مرتبہ ملا کرتا تھا وہ اب اچانک کبھی بھی مل سکتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں دل کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

اس کے علاوہ کسی بھی وقت ایس آر او جاری کرکے کسی بھی قانون کو تبدیل کرنے کا آپشن موجود ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ سال کے شروع میں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے منعقد ہونے والا اسمبلی اجلاس بلا کر جو پالسیی دی گئی تھی اس میں تمام معاملات کو ایک ہی مرتبہ حتمی شکل کیوں نہیں دی گئی؟

اب معاملہ یہ ہے کہ جو ٹیکس سالانہ بجٹ میں لگائے جائیں گے یا جو ریلیف دیے جائیں گے وہ مستقل نہیں ہیں بلکہ کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتے ہیں۔ نتیجتاً کاروباری حضرات متاثر کن اور دیر پا پالیسی بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ کس شے کی قیمت سرکاری سطح پر کس وقت بڑھ جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ لہٰذا بجٹ پر انحصار کرنا بے وقوفی ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ اس بے وقوفی کے سوا کوئی چارا بھی نہیں ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن سے متعلق جو فیصلے ہوتے ہیں وہ عمومی طور پر مستقل رہتے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی ممکنہ شرائط کے پیش نظر اس سال اس روایت کا قائم رہنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ حکمرانوں کو مشورے نہیں دینے چاہیے کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہی عقلِ قل ہیں۔ لیکن میں اپنی عادت سے مجبور کچھ لکھنا چاہتا ہوں جنہیں قارئین تجاویز اور حکمران گزارشات سمجھ کر پڑھیں۔

اس سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ کورونا وائرس نے پاکستانی معیشت پر کس قدر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ شرح نمو 1952ء کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے جا رہی ہے۔ کاروبار سست روی کا شکار ہیں۔ جس کا براہِ راست اثر ٹیکس آمدن پر پڑے گا۔ برآمدات میں کمی اور ترسیلاتِ زر میں کمی نے بیرونی اکاؤنٹس پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک کام کرنے والے تقریباً 30 فیصد لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جس کا براہِ راست اثر مستقبل میں آنے والی آمدن پر پڑے گا۔

مزید پڑھیے: کورونا وائرس: ہمارے لیے جانی سے زیادہ مالی مسائل کا سبب؟

آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب اور نوجوانوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر پاکستان کو سالانہ 25 لاکھ ملازمتوں کی ضرورت ہے جو صرف اسی صورت حاصل ہوسکتی ہیں جب شرح نمو 7 فیصد ہو۔ لیکن اس کے برعکس پاکستان کی شرح نمو تو منفی 1.5 متوقع ہے اور تقریباً 12 لاکھ لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر بجٹ کو اس طریقے سے بنایا جانا چاہیے جس میں تمام مسائل اور ان کے ممکنہ حل کو بہتر طریقے سے پیش کیا جاسکے۔ اگر آمدن کو دیکھا جائے تو اس کا ہدف تقریباً 4 کھرب روپے سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔ آئی ایم ایف جو چاہے کہے لیکن حقائق سے نظریں چرانا مسائل کو جنم دے گا اور کچھ نہیں۔ چونکہ معیشت تقریباً ایک تھائی سکڑ گئی ہے لہٰذا ہدف بھی حقیقت کے قریب ترین ہونا چاہیے۔

پچھلے سال آئی ایم ایف کا ٹیکس آمدن کا ہدف 5 ہزار 500 کھرب روپے تھا جسے منتیں کرنے کے بعد 5 ہزار 300 ارب تک لایا گیا۔ عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار، حکومتی اخراجات میں کمی کے دعوے اور ایک سال میں 2 ایمنسٹی اسکیمیں لانے کے باوجود بھی ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ 3 ہزار 900 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا اور 1400 ارب روپے کا شارٹ فال آیا۔ اس سال آئی ایم ایف ممکنہ طور پر 5 ہزار 100 ارب روپے کا ٹیکس آمدن ہدف مقرر کرنے کی خواہاں ہے جسے پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوگا۔

مزید پڑھیے: لیگی بمقابلہ انصافی بجٹ

آنے والے دنوں میں حکومتی اخراجات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ حکومت اگلے سال تقریباً ایک کھرب روپے کورونا کی وجہ سے متاثر ہونے والے لوگوں پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جو روپیہ بچایا جاتا ہے وہی روپیہ آپ کی آمدن ہوتی ہے۔ لہٰذا فضول خرچیوں سے نکل کر بجٹ کا فوکس روپیہ بچانے پر ہونا چاہیے۔

بچت کا ایک طریقہ شرح سود میں کمی بھی ہے۔ اس وقت شرح سود 8.5 فیصد ہے۔ اگر اسے 6 فیصد تک لے آیا جائے تو جہاں عوام کو ریلیف ملے گا وہیں حکومت کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ نجی بینکوں سے سب سے زیادہ قرض سرکار لیتی ہے۔ شرح سود کی کمی سے سود کی ادائیگیوں میں کمی ہوگی اور ایک اندازے کے مطابق 1500 ارب روپے کی بچت ہوسکے گی۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے سے پاکستان کی تقریباً 4 ارب ڈالر کی درآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ اس سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کچھ فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ حکومتی بجٹ کو سہارا دینا بہترین پالیسی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام کو چار آنے منتقل کیے جائیں اور سرکار بارہ آنے لے اڑے۔

مزید پڑھیے: پاکستان تحریک انصاف کا ایک سال: معاشی میدان میں کیا کچھ ہوا؟

اس کے علاوہ جو ادارے کھربوں روپے سالانہ نقصان پر چل رہے ہیں انہیں سینے سے لگاکر رکھنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ انہیں منافع بخش بنانے کی کوئی تاریخ مقرر کی جائے۔ اگر اس وقت تک منافع حاصل نہیں ہوتا تو اسے نجی سیکٹر کو بیچ دیا جائے۔ اگر بیچنا نہیں ہے تو 10 یا 20 سال کے لیے لیز پر دے دیا جائے۔ کسی بھی نقصاندہ کاروبار میں پیسہ لگانے کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے۔ اس کے بعد کاروبار بند کردیا جاتا ہے لیکن سرکار اس اصول پر عمل درآمد سے گریزاں ہے جس کی قیمت عوام چکا رہے ہیں۔