پاکستان تحریک انصاف کا ایک سال: معاشی میدان میں کیا کچھ ہوا؟

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

ایک سال قبل پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اقتدار سنبھالا اور پارٹی چیئرمین عمران خان نے ملک کے 22ویں وزیرِاعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا، یوں وہ نہ صرف اپنی 22 سالہ جدوجہد کے بعد ملک کے چیف ایگزیکیٹو بن گئے بلکہ ’تبدیلی‘ کے خواب کو تعبیر ملنے کا عمل بھی شروع ہونے کا امکان بڑھ گیا۔

پی ٹی آئی نے اپنے منشور کا اعلان انتخابات سے چند روز قبل کیا تھا۔ اس حوالے سے ایک تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے منشور میں تمام پہلوؤں پر مفصل بحث کی گئی ہے اور اس منشور کو بنانے میں الیکشن سیل کا اہم کردار ہے۔ اس تقریب میں عمران خان نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد انہیں معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہمیں اپنے منشور پر عمل کرنے کے لیے بہت محنت درکار ہوگی، لیکن اس میں ایسی کوئی بات شامل نہیں کہ جو قابلِ عمل نہ ہو۔

اب جبکہ حکومت اپنی ایک سالہ مدت پوری کرچکی ہے تو آئیے جانتے ہیں کہ وہ اس میدان میں کس حد تک کامیاب اور کس حد تک ناکام رہی ہے۔

سول سروسز اور عوامی خدمات کے شعبے میں اصلاحات

پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں سول سروسز کو فعال بنانے اور انہیں سیاسی اثرورسوخ سے پاک کرنے کے لیے اہم نکات شامل کیے۔ منشور میں کہا گیا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے سول سروسز کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کی گئی ہے اور قیامِ پاکستان سے اب تک 38 کلیدی اصلاحات کی گئی ہیں۔ تاہم سول سروسز کا ڈھانچہ سیاسی اثرورسوخ سے پاک نہیں ہوسکا ہے۔

منشور میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پیشہ ور ماہرین کے لیے ملازمتوں کے دروازے کھولیں گے اور ان کے لیے عمر کی شرط میں کمی کی جائے گی۔ افسران کی سبکدوشی کے لیے شفاف طریقہ کار وضح کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی نے ریاستی کاروباری اداروں میں بھی اصلاحات کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ منشور میں کہا گیا کہ پاکستان میں 200 سے زائد ادارے خسارے میں چل رہے ہیں جو مجموعی طور پر سالانہ 650 ارب روپے کا خسارہ کرتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ خسارہ پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور پاکستان اسٹیل جیسے ادارے کررہے ہیں۔

اداروں کی یہ مایوس کن کارکردگی فرسودہ انفرا اسٹرکچر، سیاسی قیادت، ناکام پالیسیوں اور نااہل انتظامیہ کی وجہ سے ہے۔ منشور میں کہا گیا کہ سرکاری اداروں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اداروں کو وزارتوں کے کنٹرول سے آزاد کیا جائے گا اور ملائیشیا میں قائم ویلتھ فنڈ کی طرز پر چلایا جائے گا۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے چند روز بعد ہی ستمبر 2018ء میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی جس کو Task Force on Austerity and Restructuring of the Government کا نام دیا گیا۔ اس ٹاسک فورس کے 18 اراکین تھے جس نے اپنی رپورٹ 11 جوالائی 2019ء کو کابینہ کو پیش کی جسے کابینہ نے منظور بھی کرلیا ہے۔

ڈاکٹر عشرت اسی طرز کی ایک رپورٹ مشرف دور میں بھی حکومت کو پیش کرچکے ہیں۔ سابقہ حکومتوں میں بھی متعدد رپورٹس تیار کی گئیں، لیکن تاحال ان رپورٹس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا۔

بیوروکریسی میں تبدیلی اور اصلاحات کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے بیوروکریسی پر مشتمل ہی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ کابینہ نے ڈاکٹر عشرت حسین کی رپورٹ منظور کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ اس کمیٹی میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون اور کابینہ کے خصوصی سیکرٹری کابینہ کے علاوہ متعلقہ وزارت یا ڈویژن کے سیکرٹری بھی شامل ہوں گے، تاہم اس کمیٹی پر نگرانی کا کوئی نظام وضح نہیں کیا گیا ہے۔

اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور اراکینِ اسمبلی کو فنڈز کا اجرا

پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں اعلان کیا تھا کہ وہ اراکینِ اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کرے گی کیونکہ یہ فنڈز بطور رشوت استعمال ہوتے ہیں اور اکثر فنڈز ضائع ہوجاتے ہیں۔ نچلی سطح پر سماجی ترقی کے لیے ضلعی حکومتوں کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے صوبہ پنجاب میں قائم ضلعی حکومتوں کے نظام کے خاتمے کا فیصلہ تو ہوچکا ہے مگر نیا نظام کب تک نافذ ہوگا اس کی کوئی شنید نہیں ہے۔ تاہم پی ٹی آئی نے اپنے ہی منشور میں درج شق سے انحراف کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کو فنڈز کا اجرا کیا۔

ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانا اور (ایف بی آر) میں اصلاحات

پی ٹی آئی نے وفاقی ادارہ محصولات (ایف بی آر) میں بھی بڑے پیمانے پر اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔ منشور میں معیشت سے متعلق باب میں ایف بی آر میں ٹیکس پالیسی اور ٹیکس وصولی کو علیحدہ کرنے اور ٹیکسوں میں ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے آزاد ٹریبونل بنانے کا اعلان کیا گیا۔

اس وعدے کی روشنی میں اگر پی ٹی آئی کے بجٹ برائے مالی سال 2019ء کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وعدے کے برعکس پی ٹی آئی کی حکومت نے براہِ راست آمدنی پر ٹیکس وصول کرنے کے بجائے جنرل سیلز ٹیکس، ٹرن اوور ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی جیسے مختلف بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے۔

پاکستان انکم ٹیکس بار کے رکن ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ بجٹ میں حکومت براہ راست ٹیکس وصولی بڑھانے اور بالواسطہ ٹیکسوں کو کم کرنے میں ناکام نظر آئی ہے۔

ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل شروع ہوگیا ہے اور پہلی مرتبہ نجی شعبے سے اعزازی چیئرمین ایف بی آر کی تقرری اس عمل کا آغاز ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر میں ٹیکس کی وصولی اور پالیسی سازی کو الگ کردیا گیا ہے۔

ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع اور لیبر مارکیٹ کی مضبوطی

پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے قبل ہی بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دن سے پی ٹی آئی کو ملازمتوں سے متعلق مطالبے کا سامنا رہا ہے۔ حکمراں جماعت نے اپنے منشور میں ملازمتوں کی فراہمی کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ، صحت، تعلیم، سبز معیشت اور سیاحت کی نشاندہی کی تھی۔

ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملازمتوں کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے، سوشل ویلفیئر نہ دینے والے اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اس کے علاوہ لیبر ایکس چینج بھی قائم کی جائے گی۔

تاہم خوش کن وعدوں کے برعکس پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال میں ملازمتوں کی صورتحال بہت ہی خراب رہی ہے۔ آٹو موبائل پارٹس بنانے والوں کی تنظیم نے اخبارات میں اشتہار دیا ہے کہ ان کے ہاں سے اب تک 1200 ملازمین فارغ ہوچکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ اگر صورتحال فوری طور پر تبدیل نہ ہوئی تو 50 ہزار ہنر مند افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبہ جات میں کاروبار میں کمی ہوئی ہے۔

معروف معیشت دان قیصر بنگالی نے ایک دن غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ وہ آج کل گاڑی کے بجائے آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کررہے ہیں اور ایک ہفتے میں انہیں 4 افراد ایسے ملے ہیں جنہوں نے بتایا کہ وہ چند ماہ قبل تک فیکٹری میں ملازم تھے، اب چونکہ فیکٹری بند ہوگئی ہے اس لیے ٹیکسی چلا کر گزر بسر کررہے ہیں۔ قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ملازمت کے حوالے سے ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اگر ہوتا تو پتہ چل جاتا کہ لوگوں کی کتنی بڑی تعداد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔

50 لاکھ گھروں کی تعمیر

تعمیرات کا شعبہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے کی مرہون منت دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں نے ترقی کی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی قلت ہے۔ شہری علاقوں میں 40 لاکھ اور دیہی علاقوں میں 80 لاکھ تک گھروں کی کمی پائی جاتی ہے اور لوگ کچی آبادیوں یا جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پی ٹی آئی نے شہری علاقوں میں 20 لاکھ جبکہ دیہی علاقوں میں 35 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

نئے مکانات کی تعمیر کے لیے عمران خان نے کوئٹہ، پنجاب اور اسلام آباد میں ہاؤسنگ اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں سرکاری ملازمین کے لیے مکانات تعمیر کرنے کا اعلان ہوا ہے جبکہ عوام کی جانب سے رہائشی سہولیات کے حصول کے لیے خود کو نادرا کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کروانے کا عمل جاری ہے۔

گھروں کی تعمیر کے حوالے سے سابقہ حکومتوں نے بھی کاوشیں کی تھیں مگر زمین کی قیمت، تعمیراتی لاگت اور دیگر امور کی بنا پر کامیاب نہیں ہوسکیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا تھا لیکن اسے 1999ء میں مشرف دور کی ابتدا میں ختم کردیا گیا تھا۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کی گیلانی حکومت اور نواز شریف کی سابقہ حکومت نے بھی گھروں کی تعمیر کے حوالے سے اعلانات کیے تھے مگر ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔

ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی کا کہنا ہے کہ حکومت صدارتی حکم کے تحت ’نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کا قیام عمل میں لائی ہے اور اس کا سربراہ بھی مقرر کردیا ہے۔ آباد (چیئرمین یا نمائندگان) نے ادارے کے سربراہ سے متعدد ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ آباد نے بتایا کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتا ہے، جس کے لیے شفاف زمین کی دستیابی، انفرا اسٹرکچر، بلڈر اور الاٹی کے لیے قرض کی فراہمی کی شرائط رکھی ہیں۔

اب اگر موجودہ مہنگائی اور دیگر معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مہنگائی اور بلند شرح سود کے علاوہ سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر متعلقہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اس منصوبے کی تکمیل میں اہم رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ایک سال میں صرف اسٹیل کی قیمت 85 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر ایک لاکھ 20 ہزا روپے ہوچکی ہے، جبکہ بنیادی شرح سود سوا ریکارڈ سطح پر ہے جس پر گھروں کے طویل المدت قرض کی قسط وار ادائیگی کسی بھی عام آدمی کے لیے بالکل بھی آسان نہیں ہوگی۔

پاکستان میں توانائی کے مسئلے کا حل

پی ٹی آئی کی قیادت کو اچھی طرح سے اداراک تھا کہ سابقہ حکومت نے ملک میں بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا ہے اور اسے بجلی کے پیداواری نظام کے بجائے ترسیل اور دیگر امور پر توجہ دینا ہوگی۔ یہی بات پی ٹی آئی کے منشور میں بھی جھلکتی نظر آئی ہے، جس میں دیہی علاقوں تک بجلی کی فراہمی، بجلی فراہمی کے نظام میں خرابی اور چوری روکنا، گرین توانائی، مقامی کوئلے کو ترجیح دینا اور نیشنل گرڈ کے لیے پاور ایکسچینج کی جانب سفر شروع کرنے کے اقدامات شامل کیے گئے۔

پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد وزارتِ توانائی نے اپنی تمام تر توجہ گردشی قرضے کو ختم کرنے پر مرکوز کی ہوئی ہے اور بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت 12 روپے سے بڑھ کر 16 روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

اس وقت صرف نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (این ٹی ڈی سی) کو اپنے نیٹ ورک میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ بجلی کی فراہمی کا نظام 22 ہزار میگا واٹ بجلی کی ترسیل کرسکتا ہے جبکہ انتہائی طلب 25 ہزار میگا واٹ سے زائد ہے، یوں ترسیل کے نظام میں 3 ہزار میگا واٹ کی فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے این ٹی ڈی سی کو کم از کم 500 کے-وی کے 23 اور 220 کے-وی کے 62 گرڈ اسٹیشنز کی اشد ضرورت ہے۔

پی ٹی آئی کے منشور میں دیہی علاقوں کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کا کوئی وعدہ شامل نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف دور افتادہ علاقوں میں گرڈ کے علاوہ بجلی کی ترسیل کا نظام لانے کی خواہاں ہے، جس میں پہاڑی علاقوں میں چھوٹے بجلی گھر لگانے کے علاوہ شمسی توانائی کو فروغ دینا شامل ہے۔ تاہم اس حوالے سے وفاقی حکومت کی سطح پر کوئی اسکیم متعارف نہیں کرائی جاسکی ہے۔

ایندھن کی مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں تیل و گیس کی تلاش کے کام میں اضافے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اس حوالے سے سابقہ دور میں کیے جانے والے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے بھرپور سہولت فراہم کی گئی اور پی ٹی آئی کی حکومت نے بہت بڑی خوشخبری کی نوید بھی سنائی مگر یہ منصوبہ ناکام ہوا۔ اس کے علاوہ حکومت کی تیل و گیس کی کمپنیوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کنویں کھودنے کے عمل میں اضافہ کردیا ہے۔

پاکستان کو کاروبار دوست ملک بنانا

پی ٹی آئی حکومت نے اپنے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ 5 سال میں پاکستان کو دنیا کی 100 بڑی معیشتوں میں شامل کرانے کے لیے اقدامات کرے گی۔ پاکستان اس وقت کاروبار کرنے کے لحاظ سے 145ویں نمبر پر ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں نیچے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاروبار کی ابتدا اور اسے جاری رکھنے کے لیے متعدد ضوابط کمزور اور غیر ضروری ہیں جبکہ متعلقہ اداروں میں نااہل منتظمین اور بدعنوان عناصر کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

اس حوالے سے گزشتہ چند برسوں سے عالمی بینک کے ساتھ ایک منصوبہ چل رہا ہے، جس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر اصلاحات کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد اداروں نے خدمات کی فراہمی کے لیے دورانیہ کم کرنے، طریقہ کار آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور یہ پروگرام تاحال جاری ہے۔

پاکستان میں اس وقت کاروباری اعتماد کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ملک کی سب سے بڑی صارف اشیا فروخت کرنے والی کمپنی کی چیف ایگزیکٹو شازیہ سید نے ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ ملک میں کاروباری اعتماد کم ہورہا ہے اور صورتحال مخدوش ہے۔ کاروبار میں وسعت کے بجائے اس میں کمی ہورہی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہورہا ہے۔ حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی۔

سی پیک کو پاکستان کے لیے یقینی طور پر گیم چینجر بنانا

پی ٹی آئی کے منشور میں اقتصادی راہدری کے حوالے سے بھی نکات شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی نے عندیہ دیا تھا کہ وہ سی پیک میں بنیادی تبدیلی کرے گی۔ اس حوالے سے ایک بیان مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھی دیا تھا۔ چینی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے سی پیک کے حوالے سے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو سست کردیا ہے۔ گوادر پورٹ کی فعالیت، گوادر میں بجلی گھر کے قیام، فائبر آپٹک کی پورٹ تک دستیابی اور دیگر متعدد ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت کے اعلان کے مطابق زراعت کے شعبے میں چین سے سی پیک کے تحت معاونت لی جائے گی تاہم اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے، جبکہ ریل انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے غرض سے ایم ایل ون منصوبے پر بھی فنڈنگ کا معاہدہ طے نہیں پاسکا ہے۔

حرفِ آخر

  • پی ٹی آئی حکومت اپنے پہلے سال میں عوام سے کیے گئے معاشی وعدوں پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
  • ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کے بجائے کمی واقع ہوئی ہے۔
  • سرکاری شعبے میں اصلاحات تو نہیں ہوسکیں محض ایک رپورٹ کا اضافہ ہوا ہے۔
  • گھروں کی تعمیر کے لیے ابھی بنیادی کام ہی جاری ہے۔

آخر میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو اپنی معاشی پالیسی کو وضع کرنے سے قبل اپنے منشور کو ایک مرتبہ پڑھنا ضروری ہے۔