کورونا وائرس: ہمارے لیے جانی سے زیادہ مالی مسائل کا سبب؟

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2020

ای میل

ایک طرف جہاں چین کورونا وائرس پر قابو پانے کے بعد کسی حد تک سکون کا سانس لے رہا ہے، وہیں دوسری طرف ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کورونا وائرس کی وبا سے پریشان نظر آرہے ہیں اور صورتحال قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد کئی ممالک نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔

پاکستان میں بھی چند روز قبل تک صورتحال زیادہ تشویشناک نہیں تھی مگر وبائی پھیلاؤ میں رفتہ رفتہ تیزی آنے پر اب وفاقی اور صوبائی سطح پر افراتفری دکھائی دینے لگی ہے۔ جہاں ایک طرف وبا کے پھیلنے سے حکومت کے صحت عامہ کے بجٹ میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف معاشی سست روی سے حکومت کے حاصل کردہ معاشی اہداف میں کمزوری کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

جب اس وبائی مرض نے پاکستان میں اپنے اثرات دکھانے شروع کیے تو وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے عوام کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ خیال یہ تھا کہ وہ قوم کو مستقبل سے متعلق کوئی لائحہ عمل دیں گے مگر انہوں نے ماہرِ طبیب کی طرح قوم کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کورونا وائرس اصل میں ہے کیا اور یہ کیسے ہوتا ہے۔

انہوں نے اس خطاب میں کچھ اور باتیں بھی کیں جو کچھ اس طرح ہیں۔

  • وزیرِاعظم نے یہ بات تسلیم کی کہ سال 2019ء پاکستان کی معیشت کے لیے مشکل سال تھا، جس میں معاشی سست روی اور بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے۔
  • وزیرِاعظم نے ملک میں لاک ڈاون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم ایک طرف سے کورونا وائرس سے بچائیں گے اور دوسری طرف لوگ بھوک سے مرجائیں گے، ہمارے غریب لوگوں کا کیا بنے گا، لہٰذا ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے ہوں گے'۔
  • وزیرِاعظم نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر نظر رکھنے کے لیے کمیٹی کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران آٹے اور چینی کی مہنگی قیمتوں کے باعث تنقید کا نشانہ بننے والے وزیرِاعظم عمران خان نے اس کمیٹی کو مہنگائی خصوصاً اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا ٹاسک دیا ہے اور ساتھ ہی ذخیرہ اندوزوں کو بھی وارننگ دی ہے کہ اگر مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست سخت طریقے سے نمٹے گی۔

اس خطاب میں صنعتی اور کاروباری برادری کو توقع تھی کہ وزیرِاعظم کسی قسم کے معاشی پیکج کا بھی اعلان کریں گے، مگر اس پیکج کو انہوں نے آئی ایم ایف سے منظوری ملنے تک مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئی ایم ایف سے بات کریں گے جبکہ منگل کی صبح امریکی خبر رساں ادارے نے عمران خان کا انٹرویو جاری کیا ہے جس میں وزیرِاعظم نے عالمی مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں کا قرض معاف کردیں۔

وزیرِاعظم کے خطاب اور انٹرویو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان اپنے معاشی فیصلے کرنے میں عالمی مالیاتی اداروں کے اشارے یا حکم کا منتظر ہے۔ اس وقت حکومت اتنی بھی بااختیار نہیں ہے کہ عالمی فنڈ سے پوچھے بغیر اپنی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے اقدامات اٹھا سکے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو ابھی تک اس بات کا اندازہ بھی نہیں کہ سعودی عرب اور یورپ میں لاک ڈاؤن سے پاکستان کی ترسیلاتِ زر اور برآمدات سے حاصل ہونے والے زرِمبادلہ ذخائر میں کمی کا سامنا ہوگا۔

آئی ایم ایف نے کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی مالی معاونت کے لیے 50 ارب ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ غریب ملکوں کے لیے 10 ارب ڈالر قرض کے لیے مختص کیے ہیں۔ آئی ایم ایف یہ قرض صفر شرح سود پر دے گا۔ اس حوالے سے اب تک آئی ایم ایف سے 20 ملکوں نے مالی معاونت کے لیے رابطہ کرلیا ہے۔ اگر پاکستان کو اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا ہے تو قرضوں کی معافی کے بجائے ان بلا سود قرضوں کے حصول کے لیے پالیسی بنانی چاہیے۔

وزیرِاعظم نے جب قوم سے خطاب کیا، تو اس سے چند گھنٹے پہلے ہی سندھ کی صوبائی حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

کورونا وائرس سے متعلق حکومتِ سندھ کے سخت اقدامات کے ملکی و صوبائی معیشت پر سنگین اثرات بھی مرتب ہوسکتے جس کا اشارہ پہلے ہی ماہرین کررہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوگا جب ریاست کے حکم پر کاروبار 15 دن کے لیے بند ہوئے ہوں گے۔ حکومت کے ان سخت اقدامات کی وجہ سے روزمرہ اور دیہاڑی دار مزدور کے ساتھ ساتھ کاروبار سے وابستہ ملازم اور مالکان سب کے سب متاثر ہوں گے اور کاروبار سے منسلک مقامی سپلائی چین پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ایسا نہیں ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے معاشی اثرات پر تمام ادارے سوئے ہوئے ہیں۔ پہلے امریکی، برطانوی اور دیگر مرکزی بینکوں کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے بنیادی شرح سود میں کمی کی گئی اور اب اسٹیٹ بینک نے بھی اپنی بنیادی شرح سود میں کمی کردی ہے۔

منگل کی سہہ پہر گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے ایک ان کیمرہ بریفنگ کا اہتمام کیا تھا۔ رضاباقر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان کی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہوگی۔ پاکستانی برآمدات جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، ان میں مزید کمی آئے گی۔ ساتھ ہی پاکستان کے درآمدی بل میں بھی کمی واقع ہوگی کیونکہ عالمی سطح پر ایندھن کی مارکیٹ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ مگر مجموعی قومی پیداوار میں بہتری توقع کے مطابق نہیں ہوگی۔

پاکستان کی معیشت میں 3.5 فیصد جی ڈی پی کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا۔ اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی ہے کہ اس سال معاشی شرح نمو 3 فیصد رہے گی۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی جو فروری میں 12.4 فیصد تھی اس میں کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے ملکی معاشی ترقی کے لیے بنیادی شرح سود کو 75 بیسز پوائنٹس یا 0.75 فیصد کم کرتے ہوئے بنیادی شرح سود 12.5فیصد کرنے کا اعلان کیا۔

بنیادی شرح سود میں کمی کے حوالے سے راقم نے گورنر اسٹیٹ بینک سے سوال کیا کہ آپ کا کہنا ہے کہ معیشت کی بنیادوں کو ٹھیک کردیا گیا ہے، اگر کورونا وائرس نہ ہوتا تو کس قدر بنیادی شرح سود کو کم کرنے کا کیس بنتا تھا؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے رضا باقر کا کہنا تھا کہ اس وقت معیشت کو کورونا وائرس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے اور انہی مشکلات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت معیشت کو کورونا سے الگ کر کے دیکھنا مشکل ہوگا۔ بنیادی شرح سود میں کمی کا مقصد اس وقت دباؤ کی شکار معاشی شرح نمو کو تقویت پہنچانا ہے۔

بنیادی شرح سود میں کمی اسٹاک مارکیٹ کی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی اور معروف سرمایہ کار عقیل کریم ڈیڈھی نے اپنا سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اسٹیٹ بینک کو بنیادی شرح سود میں 3 سے 4 فیصد کی کمی کرنا چاہیے تھی۔ یہ صنعت کو ریلیف دینے کا بہترین موقع تھا جو گنوادیا گیا ہے۔

اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے معیشت کو ہونے والے نقصان اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی غرض سے سستے قرضوں کی 2 اسکیموں کا بھی اعلان کیا۔

عارضی معاشی ری فنانس سہولت

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ معیشت کی بنیاد اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ یا اضافے پر نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک حقیقی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے اسی لیے اگر بنیادی شرح سود میں کمی اسٹاک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق نہ بھی ہو پھر بھی پیداواری شعبے کے لیے قرض کی نئی اسکیم متعارف کرارہے ہیں۔ جس کو عارضی معاشی ری فنانس سہولت (Temporary Economic Refinance Facility) کا نام دیا ہے۔

یہ قرض روایتی اور اسلامی دونوں بینکوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 5 ارب روپے مالیت کا قرض 7فیصد شرح سود پر 10 سال کے لیے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

عارضی معاشی ری فنانس سہولت کے تحت قرض کسی بھی پیداواری یونٹ کے لیے لیا جاسکتا ہے۔ جس میں مقامی طلب کا کاروبار یا برآمدی سیکٹر بھی شامل ہوسکتا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ برآمدی شعبے میں صنعت لگانے کے لیے پہلے ہی اسٹیٹ بینک نے ایل ٹی ایف ایف اسکیم کو جاری کیا ہوا ہے، جس میں سرمایہ کار 6 فیصد کی شرح سود پر فنانسنگ حاصل کررہے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اگر اب کسی کو بھی ملک میں نئی صنعت لگانی ہو تو اس کے لیے سود کی شرح 12.5فیصد کے بجائے صرف 7 فیصد ہوگی اور سرمایہ کار ساڑھے 5 فیصد کم شرح پر نئی سرمایہ کاری کرسکیں گے۔ اس اسکیم کی مدت ایک سال ہوگی تاکہ لوگ جلد از جلد سرمایہ کاری کریں اور معیشت میں پیدا ہونے والی سست روی کو کم سے کم کیا جاسکے۔

ہاٹ منی کا معیشت سے اخراج

گورنر اسٹیٹ بینک پر حکومتی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ہاٹ منی لانے پر کڑی نتقید کی جاتی ہے اور وہ اس تنقید کا بھرپور جواب دینے کوشش بھی کرتے ہیں۔

منگل کو ہونے والی اس ان کیمرہ بریفنگ میں بھی متعدد مرتبہ ہاٹ منی کے اخراج کے حوالے سے بات کی گئی۔ جس پر رضا باقر کا مؤقف یہی تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں اپنے زرِمبادلہ ذخائر میں 10ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کیا ہے جس میں سے 5 ارب ڈالر کا قرض بھی اتارا ہے۔ پاکستان کے پاس زرِمبادلہ حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہاٹ منی کے 2 ارب ڈالر کی پوری رقم چلی بھی جاتی ہے پھر بھی پاکستان کے پاس زرِمبادلہ کے حوالے سے قابلِ بھروسہ ذخائر موجود ہوں گے۔

آئی ایم ایف کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے ترقی پذیر ملکوں سے 42 ارب ڈالر کے مساوی سرمائے کا آوٹ فلو ہوا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جب معاشی سست روی یا گراوٹ ہوتی ہے تو سرمایہ محفوظ کرنسی کی جانب جاتا ہے۔ پاکستان میں اسٹیٹ بینک روپے کی چھپائی کرتا ہے جبکہ امریکا کا مرکزی بینک ڈالر چھاپتا ہے اور اس وقت سرمایہ ڈالر میں منتقل ہورہا ہے۔

مگر شاید رضا باقر یہ بھول گئے کہ سعودی عرب اور یورپ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملکی ترسیلاتِ زر میں کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ برآمدات میں کمی تو خود گورنر صاحب نے تسلیم کی ہے۔ اب لے دے کر ایک ہی ذریعہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے دوست ملکوں سے مالی معاونت یا پھر آئی ایم ایف یا دیگر اداروں سے مزید قرض۔

ہسپتالوں کے لیے سستے قرضے کی اسکیم

پاکستان میں نجی شعبے کا طبّی خدمات و سہولیات میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک ہسپتال تو اسٹاک مارکیٹ میں بطور منافع بخش کمپنی رجسٹر بھی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ایسے ہسپتالوں کو سستا قرض فراہم کرنے کی اسکیم متعارف کروائی ہے جس کے تحت کورونا وائرس سے جڑی ادویات، آلات خصوصاً وینٹی لیٹرز کی خریداری کے لیے ہسپتالوں کو صرف 3 فیصد شرح سود پر 20 کروڑ روپے تک قرضہ 5 سال کی مدت کے لیے دیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک نے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مدثر حسنین کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے تقریباً 3 درجن ہسپتالوں سے رابطہ کرکے انہیں کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر مطلوب سازو سامان کو مدِظر رکھتے ہوئے اسکیم تیار کی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے لیے جس وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے وہ 15سے 25 لاکھ روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس اور مقامی کاروبار پر اثرات

کورونا وائرس پر وفاق اور صوبہ سندھ میں جو تضاد ہے وہ سامنے آرہا ہے۔ حکومتِ سندھ نے صوبے میں 15روزہ جزوی لاک ڈاون کا اعلان تو کردیا ہے مگر اس دوران معیشت اور عوام کے روزگار کو پہنچنے والے نقصان پر کوئی حکمتِ عملی جاری نہیں کی ہے جس سے عوام کی پریشانی بجا طور پر بڑھ رہی ہے۔

ہمارے خرچے کیسے پورے ہوں گے؟

حکومتِ سندھ کے جزوی لاک ڈاون کے اعلان کے بعد زینب مارکیٹ میں کام کرنے والے دکانداروں میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کاروبار روزانہ کی رولنگ پر چلتا ہے۔ ہر ہفتے ہول سیلر کو ادائیگی لازمی ہے۔ پہلے ہی کاروبار میں بسم اللہ دیر سے ہوتی ہے مگر اس مستقل بندش سے جو ٹک ٹک کام چل رہا تھا وہ بھی بند ہوجائے گا۔ سیلز مین کو دیہاڑی دینی ہے، ہول سیلر کو ادائیگی کرنی ہے اور بندش کے باوجود کرایہ بھی پورے مہینے کا ہی دینا ہوگا۔ یہ سارے خرچے کیسے پورے ہوں گے جب دکان ہی بند رہے گی؟

کچھ ایسی ہی کہانی ریکس سینٹر کے فرسٹ فلور پر موجود ایک ہول سیلر کی بھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ 15دن کی ادائیگی کے وعدے پر مال اٹھایا ہے۔ فیکٹری سے مسلسل مال تو آرہا ہے مگر مارکیٹ بند ہوگئی ہے۔ اب مال سے گودام بھرا ہے مگر ریٹیلر پیسے نہیں دیں گے اور رولنگ رُک جائے گی۔ بے بس ہوگیا ہوں، اگر مال لینے سے انکار کیا تو کوئی اور مال اٹھا لے گا اور اس کی سپلائی چین متاثر ہوجائے گی۔

یہ 15دن کی بات نہیں، کئی مہینوں کا دُکھ ہے

کراچی میں چائے کے ہوٹل پر بیٹھے افراد سے رائے لینا چاہی تو ایک ساتھ خاموش بیٹھے 2 صاحبان پھٹ پڑے، ان میں سے ایک صاحب نے بتایا کہ ان کا شلوار قمیض سینے کا کارخانہ ہے۔ جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص کی کریم سینٹر میں کُرتے کی بڑی دکان ہے۔

کارخانے کے مالک نے کہا کہ دکاندار کے آرڈر پر اس کے پسندیدہ ڈیزائن کے شلوار قمیض بڑی تعداد میں تیار کروا دیے ہیں۔ مگر اب مارکیٹ بند ہونے کا اعلان ہوگیا ہے۔ دکاندار مال اٹھانے کو تیار نہیں اور میں نے کپڑے والے کو اور کاری گروں کو ادائیگی کرنی ہے جبکہ گیس بجلی کا بل بھی اسی لاک ڈاون کے دوران ادا کرنا ہوں گے۔ لاکھوں روپے کا مال گودام میں پڑا سڑتا رہے گا اور رقم پھنسی رہے گی۔

اس کارخانے کے مالک کا کہنا تھا کہ 15 دنوں تک کاروبار کی بندش کا مطلب ہے کہ اب ایک مہینے تک کی رولنگ گئی اور اس رولنگ کو سیدھا ہوتے ہوتے کئی ماہ لگ جائیں گے۔

حکومت کے لیے معیشت 2 دھاری تلوار بن گئی

سندھ اور خصوصاً کراچی میں 15دن تک کاروبار بند رکھنے کے اثرات پورے ملک کے کاروبار اور حکومت کے ٹیکس ریونیو پر بھی پڑیں گے۔ اس وقت حکومت کے لیے معیشت 2 دھاری تلوار ثابت ہورہی ہے۔

حکومتِ سندھ کی جانب سے جزوی لاک ڈاؤن کے معیشت پر اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے سندھ بورڈ آف ریونیو (ایس بی آر) کے اعداد و شمار کا جائزہ لینا ہوگا۔ رواں سال حکومتِ سندھ نے 145 ارب روپے ایس آر بی کا ہدف رکھا تھا مگر حکام کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی سے ٹیکس وصولی 10 ارب روپے سے کم ہوکر 135 ارب روپے تک پہنچ سکتی یے۔

سرکاری دفاتر اور کاروبار بند ہونے سے یومیہ ایس آر بی کا نقصان تقریباً 37 کروڑ روپے ہوسکتا ہے جو 15 دن کی بندش میں 5 ارب 55 کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور معاشی تجزیہ کار اشفاق تولا کہتے ہیں کہ بندرگاہ، بینکس، نجی کاروبار کھلے ہوئے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال کا سامنا نہیں ہے لہٰذا حکومتِ سندھ کے ٹیکسوں میں کمی تو ہوسکتی ہے مگر یہ کمی کتنی ہوگی یہ کہنا مشکل ہے۔

وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت کے سابق نائب صدر مظہر اے ناصر کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو لاک ڈاؤن مختلف سیاسی جماعتوں نے کیا تھا اس سے یہ لاک ڈاؤن کافی مختلف اور محدود ہے۔ تفریح، صنعت اور شاپنگ مالز تو بند ہیں لیکن باقی پوری معیشت کھلی ہے۔ صنعتوں میں کام جاری ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ماضی کی طرح یومیہ 100 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوگا۔ ابھی صرف 25 فیصد معیشت بند ہے تو یومیہ نقصان بھی 25 سے 30 ارب روپے سے زیادہ نہیں ہوگا۔

مظہر ناصر کا کہنا تھا کہ یومیہ اجرت والے محنت کش اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی فلاح اور انہیں روزگار یا مالی معاونت کے لیے ریاستی و کمیونٹی کی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے حکومتی شعبہ صحت کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک طرف مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈز اور وہاں علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی، مشتبہ افراد کے ٹیسٹ اور قرنطینہ کے لیے سہولیات کی فراہمی اور دیگر اقدامات کے لیے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف کاروبار کی بندش سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں گراوٹ، یومیہ کاروباری لین دین بند ہونے سے حکومت کو ملنے والے ٹیکسوں میں کمی کے بھی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

15 دن بندش سے حکومت کی ٹیکس وصولی میں کمی کے علاوہ ملک بھر میں مختلف مصنوعات کی سپلائی چین بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ملک کے دیگر حصوں میں مختلف اشیا کی قلت پیدا ہونے کے علاوہ مقامی معیشت میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

اس وقت تصور کرلیں کہ کراچی کا 50 فیصد کاروبار بند ہے تو یومیہ کراچی شہر سے 15 سے 16 ارب روپے کا پیدواری نقصان ہورہا ہے۔ مگر اس نقصان کا اندازہ دستاویزی معیشت کا ہے کراچی کی غیر دستاویزی معیشت بھی بہت بڑی ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں سالانہ پیداوار یا جی ڈی پی کا حجم 300 ارب ڈالر ہے۔ اگر کراچی کی معیشت کو ملک کی مجموعی معیشت کا 25 فیصد بھی مان لیا جائے تو صرف کراچی شہر کی سالانہ پیداوار 75 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اگر اس کو یومیہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو یہ 20 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ بنے گا، اور اگر ڈالرز کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی میں 32 سے 33 ارب روپے یومیہ کی معاشی سرگرمی ہوتی ہے

اس پورے عمل کے حوالے سے نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی سندھ سمیت کسی صوبائی حکومت نے کسی معاشی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے۔ حکومتوں کو کثیر الجہتی اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے بلکہ اس سے معیشت پر پڑتے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔

اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ حکومت امداد دینے والے اداروں سے معاونت کی کس قدر طلبگار ہیں یا پھر پاکستان اپنے قرضوں کو معاف کرانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی معیشت میں وسائل کو متحرک کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے جس کے لیے پاکستان چین اقتصادی راہدری کے منصوبوں میں تیزی لانے کے علاوہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا۔