سی سی پی او کے 'نامناسب رویے' پر لاہور پولیس عدم اطمینان کا شکار

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

سی سی پی او لاہور عمر شیخ—تصویر: ڈان نیوز
سی سی پی او لاہور عمر شیخ—تصویر: ڈان نیوز

لاہور پولیس کے کئی افسران نئے سربراہ عمر شیخ کے رویے سے ناخوش ہیں اور وہ اسے 'جارحانہ اور نامناسب' قرار دے رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس فورس اس وقت گھبراگئی جب سی سی پی او نے کچھ عہدیداروں کو گرفتار کیا اور محکمہ جاتی طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے کئی رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں سینئر افسران کے خلاف مبینہ طور پر 'نامناسب الفاظ' بھی استعمال کیے۔

سی سی پی او لاہور کے رویے سے تنگ آکر 2 پولیس اہلکاروں ٹرینگ اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ٹی- اے ایس آئی) اور ہیڈ کانسٹیبل نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی کو سی سی پی او کے رویے سے متعلق شکایت کی۔

مزید پڑھیں: سینئر پولیس افسران نے سی سی پی او کے خلاف 'مشترکہ بیان' جاری کردیا

مزید یہ کہ بدھ کو لاہور ایڈمن ایس ایس پی لیاقت ملک کے تبادلے نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا، ان کے تبادلے نے صوبائی دارالحکومت کی پولیس کے سینئر افسران کو اس وقت حیران کردیا جب ان کے علم میں یہ بات آئی کہ سی سی پی او نے آئی جی پی کو بھیجے گئے خط میں نامناسب الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

سی سی پی او کی جانب سے پنجاب پولیس چیف کو تجویز دی گئی کہ لیاقت ملک کے سی آر ڈوزیئر میں محکمہ جاتی کارروائی کی جائے تاکہ ان کی ترقی کا معاملہ متاثر ہو، اس عمل نے لاہور میں سینئر پولیس افسرا کو مزید مشتعل کردیا۔

انہوں نے مزید تجویز، کارروائی/سزا کے لیے ایک کاپی وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی بھیجی جبکہ دیگر پولیس افسران نے اسے بلاجواز اور ضرورت سے زیادہ قرار دیا۔

عمر شیخ نے اپنے سخت الفاظ والے خط میں لیاقت ملک کو 'غیرذمہ دار اور غیرپیشہ ور افسر' قرار دیا، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس ایس پی ایڈمن میں جرم کے واقعے کی ایک سرکاری پریزنٹیشن بنانے کی قابلت کا فقدان ہے۔

سی سی پی او نے لکھا کہ انہوں نے لیاقت ملک سے موٹروے گینگ ریپ کیس پر ایک مختصر رپورٹ بنانے کا کہا تھا تاکہ وہ (عمر شیخ) اسے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ افسر نے واقعے کی مبینہ طور پر غلط معلومات دیں جو پنجاب کے ساتھ ساتھ لاہور پولیس کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہوسکتی تھی۔

سرکاری خط میں لکھا گیا کہ مسخ شدہ حقائق کی اس طرح کی پریزینٹیشن پارلیمنٹ کی اس قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سامنے آئی جی پی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کے لیے انتہائی شرمندگی کا باعث بنے گی، جس کمیٹی نے بریفنگ کے لیے طلب کیا تھا۔

ایسی بھی اطلاعات تھیں کہ دونوں فریقین کے درمیان اس وقت بحث بھی ہوئی جب کچھ دن قبل ایک اجلاس میں سی سی پی اور لاہور کی جانب سے لیاقت ملک اور جونیئر اسٹاف کے خلاف 'نامناسب الفاظ' کا استعمال کیا گیا تھا۔

اس تبادلے کے بعد ایڈمن ایس ایس پی لاہور نے عمر شیخ کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔

نتیجتاً بدھ کو انسپکٹر جنرل پولیس نے لیاقت ملک کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) تعینات کردیا۔

اس حوالے سے معلومات رکھنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ تسلسل سے سی سی پی او کی جانب سے جارحانہ پالیسی اختیار کیے جانے کے اس طرح کے واقعات نے لاہور پولیس کے کچھ دیگر سینئر افسران کو مجبور کردیا ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت سے کسی دوسری مناسب جگہ پر تبادلے کا مطالبہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پیز اور ایس پی کی جانب سے بھی لاہور پولیس سربراہ کے ماتحت کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے سی پی او سے رابطہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘سی سی پی او کے ہٹائے جانے تک’ آئی جی پی پنجاب نے فرائض انجام دینے سے انکار کردیا

وہیں ایک پولیس انسپکٹر اور گجرپورہ کے سابق ایس ایچ او سید احمد رضا جعفری کی سی سی پی او لاہور کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست ایک ہفتے یا اس سے زائد سے التوا کا شکار ہے۔

سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا تھا کہ ان کی تمام کوششیں عوام کا پولیس فورس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے تھیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کا اصل ہدف وہ ہیں جو تبدیلی پر مزاحمت کر رہے ہیں۔

عمر شیخ کا کہنا تھا کہ 'جب تک ہم جمود کی قوتوں پر قابو نہیں پاتے پولیس اصلاحات ممکن نہیں ہیں'.


یہ خبر 25 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی