سینئر پولیس افسران نے سی سی پی او کے خلاف 'مشترکہ بیان' جاری کردیا

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2020

ای میل

—فوٹو: بشکریہ پنجاب پولیس
—فوٹو: بشکریہ پنجاب پولیس

لاہور: پنجاب پولیس کے 50 سے زائد افسران نے سبکدوش ہونے والے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب شعیب دستگیر کے خلاف 'توہین آمیز ریمارکس' دینے پر حال ہی میں تعینات ہونے والے لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) عمر شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی اور فوری تبادلے کا مطالبہ کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 50 افسران نے مشترکہ طور پر دسخط شدہ ایک اعلامیہ جاری کیا کہ جس میں عمر شیخ پر شعیب دستگیر کے خلاف 'نامناسب الفاظ' استعمال کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: لاہور پولیس چیف سے تنازع پر آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

دلچسپ امر یہ ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف کارروائی کے خواہاں افراد میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے علاوہ لاہور میں تعینات سنیئر پولیس افسران شامل ہیں۔

تمام افسران سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں جمع ہوئے اور سبکدوش ہونے والے آئی جی پولیس کے خلاف سی سی پی او کے ریمارکس پر احتجاج کیا۔

سی پی او میں ہونے والے اس غیر معمولی اجتماع میں ایس ایس پیز اور ایس پیز کے علاوہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (بی ایس 21) کے عہدے کے اعلیٰ پولیس افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بھی شامل تھے۔

سینئر پولیس افسران نے 'ناقابل قبول رویہ ' اختیار کرنے پر لاہور کے نئے سی سی پی او کے خلاف ناراضی اور غم کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ اعلامیہ وہاں موجود تمام پولیس افسران کی رضامندی سے تیار کیا گیا تھا اور سی سی پی او کے خلاف کارروائی کے لیے نئے آئی جی پی کے ریکارڈ پر اپنا 'احتجاج' لانے کے لیے اس پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی جی پنجاب کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

اعلامیہ میں کہا گیا کہ 'پنجاب پولیس کے افسران 8 ستمبر کو براہ راست اور آن لائن سی پی او میں ملے اور افسران نے سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے بدانتظامی پر مبنی رویے اور محکمہ پولیس میں کمانڈ ڈھانچے اور نظم و ضبط پر نمودار ہونے والے سنگین اور منفی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔

مذکورہ اعلامیہ کے مطابق سی سی پی او کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عمر شیخ نے 3 ستمبر کو لاہور پولیس کے افسران کا اجلاس بلایا۔

علاوہ ازیں مزید کہا گیا کہ 'مذکورہ اجلاس میں عمر شیخ نے اپنے آئی جی پی سے انحراف کرنے کے ارادے کا اظہار کیا اور لاہور پولیس کے متعدد پولیس افسران کی موجودگی میں اپنے اور دیگر افسران کے خلاف توہین آمیز اور گستاخانہ زبان استعمال کی'۔

افسران کے مطابق مذکورہ اجلاس میں عمر شیخ نے سراسر 'بے بنیاد' رویہ اختیار کیا اور کہا کہ آئی جی پی نے انہیں 'سی' گریڈ دیا تھا اور انہیں ایک بدعنوان پولیس افسر قرار دیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں نے آئی جی پی پنجاب کی مخالفت کے باوجود 'ڈنڈے کی طاقت' کے ذریعے سی سی پی او لاہور تعینات کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: سی سی پی او سے اختلافات: آئی جی پنجاب تبدیل، انعام غنی کو ذمہ داری سونپ دی گئی

اس کے مطابق عمر شیخ نے کہا کہ آئی جی پی کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا اور اگر اس طرح کے احکامات کسی بھی افسر کو پہنچائے جاتے ہیں تو وہ ان پر عمل نہیں کریں گے جب تک کہ (سی سی پی او) ہدایت نہ کریں۔

اعلامیے کے مطابق 'عمر شیخ نے دوسرے سینئر افسران سے بھی قابل اعتراض اور توہین آمیز انداز میں بات کی کیونکہ ان کی رائے میں شعیب دستگیر نے ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی تھی'۔

50 سے زائد پولیس افسران کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ عمر شیخ نے آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے اپنے ارادے کو ظاہر کیا، بے ضابطگی کا ارتکاب کیا، افسران کو آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے اکسانے سے اجاگر کیا۔

عمر شیخ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیاکہ وہ مسلح افواج کے افسران کی اہلیت اور طرز عمل کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دے کر حکومتی قواعد اور پولیس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلح افواج کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

اعلامیے میں متنبہ کیا گیا کہ اگر سی سی پی او کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی گئی تو 'محکمہ پولیس کے نظم و ضبط کو مشکلات کا سامنا ہوگا، پولیس کے کمانڈ کا ڈھانچہ خراب ہوجائے گا اور جونیئر افسران سینئر افسران کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کریں گے'۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو فوری طور پر ان کے موجودہ عہدے سے ہٹائیں اور دیے گئے قواعد کے تحت ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔

مزیدپڑھیں: پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں: آئی جی اور چیف سیکریٹری کے تبادلے

واضح رہے کہ 9 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں ایک مرتبہ پھر انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کو تبدیل کردیا گیا تھا اور شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

خیال رہے کہ شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے کیپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی۔

سی سی پی او لاہور اور سابق آئی جی کے درمیان اختلاف

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ رپورٹس آئی تھیں کہ شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کو حال ہی میں لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) کے تقرر پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تحت کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ان کے کسی 'مناسب جگہ' پر تبادلہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، آئی جی پی کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ سی سی پی او نے مبینہ طور پر اپنے عہدے پر آنے کے بعد چند پولیس اہلکاروں سے گفتگو کے دوران چند تبصرے کیے تھے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں: آئی جی اور چیف سیکریٹری کے تبادلے

اس پیش رفت سے متعلق معلومات رکھنے والے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ شعیب دستگیر نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی اور ان سے 'کسی اور مناسب جگہ پر تبادلہ' کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ سی سی پی او کی برطرفی تک صوبائی پولیس چیف کے عہدے پر نہیں رہیں گے۔

یہ بھی کہا جارہا تھا کہ وہ پیر کے روز دفتر سے غیر حاضر رہے تھے اور وزیر اعلیٰ سے وردی کے بجائے سادہ کپڑوں میں ملاقات کی تھی جس سے پنجاب حکومت کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وہ عمر بن شیخ کو کسی قیمت پر سی سی پی او کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ سی سی پی او کے تبصرے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے آئی جی پی مشتعل ہوئے، وہ اپنے دفتر میں چند پولیس افسران سے گفتگو کے دوران ان کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں تھے۔

جیسے ہی یہ بات شعیب دستگیر تک پہنچی تو انہوں نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور وزیر اعظم عمران خان سے شکایت کی اور سی سی پی او کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں لاہور واپسی پر آئی جی پی نے سی سی پی او کے تبادلے تک کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ہی سی سی پی او کے عہدے کے لیے عمر بن شیخ کے نام کی سفارش وزیر اعظم سے کی تھی۔

45 منٹ کے انٹرویو کے بعد وزیر اعظم کی طرف سے بھیجی گئی ایک وفاقی حکومت کی ٹیم نے عمر بن شیخ کو منتخب کرلیا تھا اور وزیر اعظم نے 3 ستمبر کو اپنے دورہ لاہور کے دوران ان کی حتمی منظوری دے دی تھی، تاہم آئی جی پی کو مبینہ طور پر اس پورے عمل کے دوران اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔