ڈیموکریٹس کے اصرار کے باوجود مائیک پینس کا صدر ٹرمپ کے مواخذے سے انکار

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2021

ای میل

امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین خصوصاً ڈیموکریٹس ڈر ڈونلڈ ترم کے مواخذے کا مطالبہ کررہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی
امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین خصوصاً ڈیموکریٹس ڈر ڈونلڈ ترم کے مواخذے کا مطالبہ کررہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: امریکی نائب صدر مائیک پینس نے واضح کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 25 ویں ترمیم کی درخواست نہیں کریں گے حالانکہ ایوان نمائندگان نے منگل کی رات تین بار ووٹ دیتے ہوئے انہیں اپنے باس کو ہٹانے پر زور دیا۔

مواخذے کی کارروائی بدھ کے روز پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کے لگ بھگ شروع ہوگی۔

مزید پڑھیں: امریکا: جوبائیڈن کی تقریب حلف برادری کے دوران ہنگاموں کے پیش نظر سیکیورٹی سخت

منگل کی صبح قرارداد متعارف کرائی گئی تھی جس میں مائیک پینس سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چار سالہ مدت پوری کرنے سے ایک ہفتہ قبل گھر بھیج دیں لیکن ووٹنگ آدھی رات کے قریب مکمل ہوگی۔

اگر اس قرارداد پر عمل درآمد کیا گیا تو 6 جنوری کو دارالحکومت کی عمارت پر ہجوم کو حملہ کرنے کے لیے بھڑکانے کے مبینہ کردار کے لیے پینس اپنے صدر ٹرمپ کو گھر بھیج کر خود بطور قائم مقام صدر بننے کے اہل ہو جائیں گے، حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے جہاں یہ گزشتہ 200 سے زائد سالوں میں امریکی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا۔

اس قرارداد پر ووٹنگ شام ساڑھے 7 بجے شروع ہو گی جس میں پینس سے صدر کو ہٹانے کے لیے ایک قانونی شق کا استعمال کرنے کی اپیل کی گئی ہے، امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کی شق نمبر 4 کے تحت اگر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو کام جاری رکھنے کے لیے نااہل پائے تو نائب صدر اس شق کے تحت صدر کو معزول کرسکتا ہے۔

تینوں ووٹ پارٹی بنیادوں پر تھے، پہلے طریقہ کار کے ووٹ کے دوران 219 ڈیموکریٹس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 206 ری پبلکن نے اس کے خلاف ووٹ دیا، پانچ ریپبلکن اور تین ڈیموکریٹس نے ووٹ نہیں دیا، 435 رکنی ایوان، 222 ڈیموکریٹس اور 211 ریپبلکن کے درمیان تقسیم ہے جبکہ دو اسامیاں خالی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا، 4 افراد ہلاک

دوسرے طریقہ کار کے ووٹ میں تمام 222 ڈیموکریٹس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 204 ریپبلکن نے اس کے خلاف ووٹ دیا، سات ریپبلکن نے ووٹ نہیں دیا۔

حتمی ووٹ میں 222 ڈیموکریٹس اور ایلے نوئی سے تعلق رکھنے والے ایک ریپبلکن ایڈم کنزنگر نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور 205 ریپبلکن نے اس کے خلاف ووٹ دیا، پانچ ریپبلکن نے حصہ نہیں لیا۔

لیکن 12 ریپبلکن قانون سازوں نے کہا ہے کہ وہ صدر کا مواخذہ کرنے کے لیے ووٹ دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے ملک اور اس کے آئین کے ساتھ غداری کی ہے۔

ایوان میں موجود نمبر 3 ریپبلکن اور سابق نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی لز چینی نے کہا کہ امریکا کے صدر کے دفتر اور آئین کے حلف سے اتنی بڑی غداری آج تک نہیں کی گئی۔

نیز منگل کے روز ایوان میں موجود چھ ریپبلکنز نے پچھلے ہفتے کے پُرتشدد فسادات سے نمٹنے میں صدر ٹرمپ کے کردار کے بارے میں ایک قرار داد پیش کی جس میں یہ استدلال کیا گیا کہ یہ سب سے اچھا اقدام ہے کیوں کہ مواخذے کو سینیٹ میں کبھی بھی اتنے ووٹ نہیں مل پائیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذے کا بل پیش، 'بغاوت کیلئے اکسانے' کا الزام

لیکن مائیک پینس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ نہ ہٹانے کے اعلان کے بعد واشنگٹن میں سیاسی مبصرین اسے احتیاطی تدابیر کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا مقصد ٹرمپ کو کانگریس عمارت ہجوم کے حملے جیسے دوبارہ کسی غیرمعقول قدم اٹھانے سے روکنا ہے۔

پہلے ووٹ سے عین قبل اسپیکر نینسی پیلوسی کو لکھے گئے خط میں مائیک پینس نے لکھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس طرح کا عمل ہمارے قوم کے بہترین مفاد میں ہے یا ہمارے آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ 25 ویں ترمیم کا مقصد سزا یا غصب کرنا نہیں ہے اس کا استعمال ایک خوفناک نظیر قائم کرے گا۔

2020 کے انتخابی نتائج بدلنے کے حوالے سے اپنے باس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حکم ماننے سے انکار کرنے والے مائیک پینس کی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں نے تعریف کی ہے اور انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے آخری دنوں میں منظم منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

نائب صدر نے 20جنوری کو صدر منتخب ہونے والے جو بائیڈن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا بھی وعدہ کیا ہے جہاں اس کے برعکس ٹرمپ نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دباؤ کا شکار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک کا خطرہ

افتتاحی تقریب سے قبل مائیک پینس کو مسٹر ٹرمپ سے جان چھڑانے کی تاکید کرنے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سبکدوش ہونے والے صدر نے مظاہروں کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی اور بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے تشدد کے واقعات رونما ہوئے، اس میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے اقدامات کی مذمت کرنے کے مطالبات کو بھی نظرانداز کیا، یہ بات بھی یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی ثبوت کے بغیر ہی جھوٹے دعوے کرتے ہوئے بارہا صدارتی انتخابی نتائج کو غیرقانونی قرار دینے کی کوشش کی۔

مائیک پینس کے انکار کے باوجود ایوان مواخذے کی کارروائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر بن گئے ہیں جن کا دوبار مواخذہ کیا جا رہا ہے۔

تاہم اس اقدام کا ٹرمپ پر بہت کم اثر پڑا جنہوں نے منگل کو ٹیکساس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 ویں ترمیم میرے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں لیکن جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کو شکست ہوگی۔

منگل کو دن کے اوائل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مواخذے کا اقدام 'مضحکہ خیز' تھا اور اس سے ہمارے ملک کو سنگین خطرہ لاحق ہے اور اس سے عوام میں زبردست غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آرنلڈ شوازنیگر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ناکام، تاریخ کا بدترین صدر قرار دے دیا

مائیک پینس کے انکار سے تقویت پاتے ہوئے ایوان میں موجود کچھ ریپبلکن اراکین سبکدوش ہونے والے صدر کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور کچھ نے ان کے رویے کا دفاع بھی کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے مظاہرین کو کبھی بھی دارالحکومت پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا نہیں تھا۔